Monday | 21 August 2017 | 28 Dhul-Qidah 1438

Fatwa Answer

Question ID: 10 Category: Beliefs
Uttering statements of Kufr (disbelief)

 Assalam Alaikum,

If a Muslim woman said the words "Will Allah physically come and help" or "Will the friends (awliya) of Allah will come and help" under the influence of severe pain during,  does these statements constitute kufr or disbelief? If yes, does she has to perform repentance (tawbah) and recite the shahadah again? What will be the effect of these statements on her Nikha? Does she have to perform a new Nikah with her husband? Please elaborate on the process.

JazakAllah Khair

الجواب وباللہ التوفیق

Assalamualaikum Warahmatullah Wabarakatuhu

As per the situation described in this question, by stating those sentences (specially when the true intention or belief of the person is unknown), a ruling cannot be rendered stating that this person is out of the fold of Islam or has lost their Imaan. Thus there is no need for renewal of her Nikah.

However, it is imperative that one refrains from stating such statements and performs tawbah and istaghfar.

ان الناس قد اکثروا من دعاء غیر اللہ من الاولیاٰء الاحیاء منھم والاموات وغیرھم مثل یاسیدی فلان اغثني ولیس ذلک من التوسل المباح في شئ ۔۔۔۔ وقد عدہ اناس من العلماء شرکاًً۔

(روح المعانی: 4/128، تحت قولہ تعالی یا ایھا الذین امنوا اتقوا اللہ وابتغوا الیہ الوسیلة الخ)

فقط واللہ اعلم

Question ID: 10 Category: Beliefs
کفریہ کلمہ ادا کرنا اور اس کا نکاح پر اثر

السلام علیکم، اگر کوئی مسلم خاتون، اسکے حمل کے آٹھویں ماہ میں، درد کی وجھ سے یوں کہےکہ "کیا اللہ آکر مدد کریں گے" یا "اولیاء آکر مدد کریں گے"، تو کیا ایسے کلمات ادار کرنے سےاسکا ایمان باقی نہیں رہے گا؟ اگر ہاں، تو کیا اسے توبہ کرنا پڑے گا اور کلمہ دوہرانہ ہوگا؟ اور اسکے نکاح کا پر اس عمل کا کیا فرق پڑے گا؟ یعنی کیا نکاح دوبارہ کرنا پڑے گا؟ اگر ہاں، تو اسکا کیا طریقہ ہوگا؟ مہربانی یہ اس سلسلے میں راہنمائی فرمائیے۔

الجواب وباللہ التوفیق 

 السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،الجواب وباللہ التوفیق:

محض اس طرح کہنے سے جب کہ ان کی نیت اور عقیدہ کا پتہ نہیں ہےان پر عدمِ ایمان کا حکم نہیں لگایاجاسکتا،اور نہ تجدید نکاح کی ضرورت ہے،البتہ اس طرح کے کلمات کہنے سے توبہ،استغفار اور آئندہ اجتناب کرناضروری ہے۔

’’ان الناس قد اکثروا من دعاء غیر اللہ من الاولیاٰء الاحیاء منھم والاموات وغیرھم مثل یاسیدی فلان اغثني ولیس ذلک من التوسل المباح في شئ ۔۔۔۔ وقد عدہ اناس من العلماء شرکاًً۔

(روح المعانی: 4/128، تحت قولہ تعالی یا ایھا الذین امنوا اتقوا اللہ وابتغوا الیہ الوسیلة الخ)

فقط واللہ اعلم