Friday | 19 January 2018 | 1 Jamadiul-Awal 1439

Fatwa Answer

Question ID: 90 Category: Worship
Breaking the Fast while in the Plane

Assalamualaikum Warahmatullah

I would like to know what time should I break my fast while I am traveling by air? The place where I am departing from has an iftar time of 6:55 p.m. whereas the destination has an iftar time of 6:15 p.m. If I am in the air, in between these two locations, when should I break my fast?

الجواب وباللہ التوفیق

Walaikumassalam Warahmatullah

The true timing for breaking one’s fast is the time when the sun has set. It is incorrect to break the fast while the sun is still out and this measure of whether the sun is out or set should be done according to the location the individual is present at. If the individual is on the land then the decision about sunset will be made according to his location on the land. Otherwise if an individual is in the air then the decision about sunset will be made according to his location in the air. Therefore, the decision of the time for breaking your fast will neither be made according to your location of origination nor the location of your destination. As long as you are in the air and can see the sun, you will have to keep your fast and it will be impermissible for you to break your fast. If you do break your fast during this time then it will be wajib upon you to perform qadha and give kaffarah. While you are in the air and once the sun disappears then it will be permissible for you to break your fast.

والمرادبالغروب زمان غیبوبۃ جرم الشمس بحیث تظھرالظلمۃ فی جھۃ الشرق قال ﷺ (اذااقبل اللیل من ھٰھنافقدافطرالصائم) ای اذاوجدت الظلمۃ حسافی جھۃ المشرق فقدظھروقت الفطراوصارمفطرا فی الحکم لان اللیل لیس ظرفاللصوم۔

وفی فتاوی اللجنۃ(۱۳۶/۱۰): اذاکان الصائم فی الطائرۃ واطلع بواسطۃ الساعۃ والتلیفون عن افطارالبلد القریبۃ منہ وھویری الشمس بسبب ارتفاع الطائرۃ فلیس لہ ان یفطرلان اللہ تعالی قال؛ (ثم اتمواالصیام الی اللیل)وھذہٖ الغایۃ لم تتحقق فی حقہ مادام یری الشمس واما اذاافطربالبلد بعد انتھاء النھارفی حقہ فاقلعت الطائرۃ ثم رأی الشمس فانہ یستمر مفطرا لان حکمہ حکم البلدالتی اقلع منھا وقدانتھی النھاروھوفیھا۔

واللہ اعلم بالصواب

Question ID: 90 Category: Worship
جہاز کے سفر کے دوران روزہ کھولنے کا حکم

 

 

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ ہوائی سفر کے دوران مجھے اپنا روزہ کب کھولنا چاہئے؟ مثلا میں جس مقام سے روانہ ہو رہا ہوں وہاں پر افطار کا وقت ۶ بج کر ۵۵ منٹ ہے جبکہ میری منزل پر افطار کا وقت ۶ بج کر ۱۵ منٹ ہے۔ اگر میں ان دونوں جگہوں کے بیچ اس دوران جہاز میں ہوں تو مجھے اپنا افطار کس وقت کے مطابق کرنا چاہئے

 

الجواب وباللہ التوفیق

در اصل افطار اس وقت کرنے کا حکم ہے جب سورج غروب ہوچکا ہو ، جب تک سورج موجود ہو افطار کرنا درست نہیں ہوگا ، اورسورج کے باقی رہنے اورڈوب جانے میں اس مقام کا اعتبار ہوگا جہاں روزہ دار ہوہو ، اگر زمین پر ہو تو زمین کے اعتبار سے حکم ہوگا اور فضاء میں ہو تو فضا کے اعتبار سے حکم ہوگا ،اس لئے آپ کے لئے افطار کا حکم نہ اس جگہ کے وقت کےاعتبار سےہوگا جہاں سے آپ نے سفر کیا ہے،اور نہ اس جگہ کے اعتبار سے ہوگا جہاں آپ سفر کررہے ہیں،جب تک آپ فضا میں رہیں گے اور جب تک آپ کو سورج دکھائی دیتا رہے گا،اس وقت تک آپ کا روزہ برقرار رہے گا،اورافطار کرنا آپ کے لئے جائز نہیں ہوگا ، اور اگر آپ نے اس حالت میں روزہ افطار کرلیا تو قضاء و کفارہ واجب ہوگا ۔ اورجب فضاء میں سورج غائب ہوجائے گا تو اس وقت آپ کے لئے افطار کرنا بھی جائز ہوگا۔

والمرادبالغروب زمان غیبوبۃ جرم الشمس بحیث تظھرالظلمۃ فی جھۃ الشرق قال ﷺ (اذااقبل اللیل من ھٰھنافقدافطرالصائم) ای اذاوجدت الظلمۃ حسافی جھۃ المشرق فقدظھروقت الفطراوصارمفطرا فی الحکم لان اللیل لیس ظرفاللصوم۔

وفی فتاوی اللجنۃ(۱۳۶/۱۰): اذاکان الصائم فی الطائرۃ واطلع بواسطۃ الساعۃ والتلیفون عن افطارالبلد القریبۃ منہ وھویری الشمس بسبب ارتفاع الطائرۃ فلیس لہ ان یفطرلان اللہ تعالی قال؛ (ثم اتمواالصیام الی اللیل)وھذہٖ الغایۃ لم تتحقق فی حقہ مادام یری الشمس واما اذاافطربالبلد بعد انتھاء النھارفی حقہ فاقلعت الطائرۃ ثم رأی الشمس فانہ یستمر مفطرا لان حکمہ حکم البلدالتی اقلع منھا وقدانتھی النھاروھوفیھا۔

فقط واللہ اعلم بالصواب