السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہکیا فرماتے ہیں علمائے اسلام و مفتیان کرام مسئلہ ذیل میں کہمیں امریکہ میں ایک آفس میں ملازمت کرتا ہوں جس میں میڈیکل بلنگ کا کام کیا جاتا ہے۔ بنوری ٹاون کے دار الافتا میں نے اسکو ناجائز قرار دیا ہے لیکن اس میں انہوں نے یہ لکھا کہ بلنگ کرنے والا انشورنس کمپنی سے پیسے وصول کر کے ڈاکٹر کو دیتا ہے فتوی نمبر :144208201064 حالانکہ میرے آفس میں اس طرح نہیں ہوتا، بلکہ انشورنس کپنی ڈاکٹر ہی کو پیسے بھیجتی ہے، بلنگ میں صرف اسکا حساب رکھنا پڑتا ہے۔ اس میں کام کی نوعیت یہ ہوتی ہے کہ ڈاکٹر نے جن جن مریضوں کو دیکھا ہے، اسکی رپورٹ تیار کر کے مریضوں کے انشورنس کمپنیوں کو بھیجی جاتی ہے اس عرض کے ساتھ کہ ڈاکٹر کی ان خدمات کا معاوضہ دیا جائے، پھر جب انشورنس کمپنیاں پیسے بھیج دیتی ہیں تو اس معاملہ کو لکھنا اور اسکا حساب رکھنا ہوتا ہے۔ اس کام کے کرنے پر اجرت ڈاکٹر کی طرف سے ملتی ہے۔ مریضوں کی رپورٹ بنانا کوئی آسان کام نہیں ہوتا، بلکہ، انشورنس کمپنی سے پیسے وصول کرنے کے لئے خاص کوڈ مقرر ہوتے ہیں، ڈاکٹر کے خدمات کے مختلف درجات کے مختلف کوڈ ہوتے ہیں جن کے اختلاف سے انشورنس سے ملنے والے پیسوں میں تفاوت ہوتا ہے، اسی طرح اس رپورٹ میں مریض کے بیماریاں بھی کوڈ میں لکھے جاتے ہیں، اور ڈاکٹر نے ان بیماریوں کا جو علاج لکھا ہے، اس کو بھی کوڈ کے ذریعہ لکھا جاتا ہے، اور اس خاص کوڈ میں رپورٹ تیار کر کے بھیجے بغیر انشورنس سے پیسے وصول نہیں ہوتے، اور یہ کوڈ صرف بللنگ کرنے والا جانتا ہے۔ تو کیا یہ کام، انشورنس کے پیسے وصول کرنے کا سبب قریب ہونے کے ساتھ ساتھ سبب جالب و باعث شمار ہوکر، ناجائز ہوگا؟ یا مکروہ تحریمی؟ یا مکروہ تنزیہی؟ یا خلاف اولی؟
Fatawa ID: 1664