Monday | 11 November 2019 | 14 Rabiul-Awal 1441

Fatwa Answer

Question ID: 124 Category: Worship
Wudhu for Disabled

Assalamualaikum Warahmatullah 

I have been diagnosed with having an Obsessive Compulsive Disorder, a chronic anal fissure and a rectal fistula that sometimes drains. Obsessive-Compulsive Disorder (OCD) is a common, chronic and long-lasting disorder in which a person has uncontrollable, reoccurring thoughts (obsessions) and behaviors (compulsions) that he or she feels the urge to repeat over and over.

This situation causes an issue because I cannot accurately tell if there is discharge there or not, there is also some level of nerve damage which makes it confusing. I was previously told that I am considered as a mazur and to make wudhu before every salah. 

Sometimes I get the sensation of wetness during wudhu, or during fard salah. But if it happens during sunnah after fardh or, if there is some gap between the wudhu and salah, I then become doubtful about how to proceed and become concerned if salah was valid or not. As a result sometimes, I perform a new wudhu for sunnah or I have skipped sunnah prayer, or continue praying sunnah in this condition because the sensation does not always mean the area is in fact wet. Also it can become difficult in the masjid because fardh jamah can be lengthy and I might not get the sensation until the end of the first or second rakah.

In light of these facts, what is the Islamic recommendation? Should I just make wudhu one time and pray fardh and sunnah regardless?

Walaikumassalam Warahmatullahi Wabarakatuhu

الجواب وباللہ التوفیق

If blood or pus from this wound is continuously discharging in such a manner that it spans the whole window of time available for a particular salah, and does not stop, and after performing wudhu you do not even get so much time that you can finish the fardh without the wudhu becoming invalidated, then you will be considered ma‘zoor (disabled). In that situation, you will have to perform wudhu once for a particular salah and then you can perform as many fardh and nafl salah that you like during that window of time. As soon as the window of time for that particular salah ends, your wudhu will become invalidated and you will have to perform wudhu for the next salah.

If however, the discharge of blood and pus is not in the manner described above (i.e. not continuous) then you will not be considered ma‘zoor. You will have to make wudhu in order to perform salah as soon as you have firm belief that the discharge has stopped.

As far as the feeling of wetness due to discharge during or outside of salah is concerned, if you qualify as a ma‘zoor then the ruling of ma‘zoor mentioned above will be applicable to you. If however, you do not qualify as a ma‘zoor then as long as you have a firm belief that the secretion has in fact taken place and you saw during wudhu or after the completion of salah that the wetness is there then in that case the wudhu will become invalidated. If you had completed your salah in that condition, you will have to repeat your salah. If you do not have a firm belief and its just a suspicion and you are not certain that the secretion is in fact taking place (but in reality the secretion has not taken place), then such suspicion has no standing, because mere suspicion does not supercede or cancel out firm belief. Your wudhu will remain valid and performing salah in that condition will be considered correct. If you had completed the salah already, you will not have to repeat it.

لماافی الدر المختار (۳۰۵/۱):(وصاحب عذر من بہ سلس) بول لا یمکنہ امساکہ(او استطلاق بطن …ان استوعب عذرہ تمام وقت صلاۃ مفروضۃ)بان لایجد فی جمیع وقتہا زمنا یتوضأ ویصلی فیہ خالیا عن الحدث(ولو حکما)لان الانقطاع الیسیر ملحق بالعدم(وھذا شرط)العذر (فی حق الابتداء وفی) حق (البقاء کفی وجودہ فی جزء من الوقت)ولومرۃ(وفی)حق الزوال یشترط(استیعاب الانقطاع)تمام الوقت (حقیقۃ )لانہ الانقطاع الکامل۔(وحکمہ الوضو )لا غسل ثوبہ وفی(صـ۳۰۶) ونحوہ (لکل فرض)اللام للوقت کمافی لدلوک الشمس ثم یصلی بہ (فیہ فرضاونفلا)فدخل الواجب بالاولی(فاذا خرج الوقت بطل)۔

وصرح الحنفیۃ بأن من یعرض لہ الشیطان کثیراً لا یلتفت إلیہ بل ینضح فرجہ أو سراویلہ بماء حتی إذا شک حمل البلل علی ذلک ما لم یتیقن خلافہ۔ (الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ ۴۳/ ۱۵۵)

ثم المراد بالخروج من السبیلین مجرد الظہور(درمختار) وفي ردالمحتار: فلو نزل البول إلی قصبۃ الذکر لاینقض لعدم ظہورہ، بخلاف القلفۃ؛ فإنہ بنزولہ إلیہا ینقض الوضوء۔ (درمختار مع الشامي ۱؍۲۶۲ زکریا، وہکذا في البدائع ۱؍۱۲۱ زکریا)

فقط واللہ اعلم بالصواب

Question ID: 124 Category: Worship
معذورین کے وضو کے احکام

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

مجھے ایک ایسی بیماری لاحق ہے جس میں انسان مستقل شک شبہ اور ایک ہی طرح کے خیالات اور عمل   میں مجبورا منہمک رہتا ہے ، ساتھ ہی میرے پہ خانہ کی نالی میں زخم ہے اور ایک ایسا پھوڑا شرمگاہ کے نیچے ہے جس میں سے اکثر مواد نکلتا رہتا ہے(جس کو فسچلا بھی کہتے ہیں)۔

اس مسئلہ میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ میں یقین کے ساتھ یہ نہیں کہہ سکتا ہوں کہ کوئی مواد خارج ہو رہا ہے یا نہیں، چونکہ اس جگہ کی نسیں وغیرہ بھی خرابی کا باعث ہوئی ہیں جس کی وجہ سے مزید پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مجھے پہلے یہ بتایا گیا تھا کہ میں اس مسئلے میں معذور تسلیم کیا جاتا ہوں اور مجھے ہر نماز سے قبل وضو بنا کر نماز ادا کر لینی چاہئے۔

کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ وضو کے درمیاں مجھے گیلے پن کا احساس ہونے لگتا ہے، یا پھر فرض نماز کے دوران۔ البتہ اگر ایسا خیال فرض کے بعد والی سنتوں میں آئے، یا اگر وضو اور نماز کے درمیان کچھ وقفہ ہو جائے   تو مجھے یہ خیال آنے لگتا ہے کہ پتہ نہیں میری نماز صحیح ہوئی یا نہیں۔ اس کے نتیجے میں مجھے کبھی کبھی سنتوں سے قبل نیا وضو بنانا پڑتا ہے یا پھر سنتیں ادا ہی نہیں کر پاتا، یا پھر میں سنت کو جاری رکھتا ہوں یہ سوچ کر کہ میرے خیال کا ہمیشہ یہ مطلب نہیں ہوتا کہ واقعی کوئی مواد رِس رہا ہے(یعنی کبھی کبھی یہ محض اک وہم ہوتا ہے)۔ ایک مسئلہ اور یہ ہے کہ مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے میں مزید پریشانی کا سامنا ہوتا ہے کیونکہ رکعات کبھی کبھی لمبی ہوتی ہیں اور کبھی پہلی رکعت کے ختم یا دوسری رکعت تک گیلے پن کا احساس نہیں ہوتا۔

ان تمام مسائل کی روشنی میں اسلام کے کیا احکامات ہیں؟ کیا میں ایک بار وضو کر کے بس پھر فرض سنت سب ادا کردوں چاہے کچھ بھی ہو؟

 

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

الجواب وباللہ التوفیق

اگراس زخم سے خون یا پیپ وغیرہ اس قدر مسلسل بہتاہو جو نماز کے پورے وقت کو حاوی ہو،اور رکتا نہ ہو،اور وضو سے فراغت کے بعدآپ کو فرض نماز کے بقدر بھی موقع نہ ملے کہ آپ اس وضو ء سے اس وقت میں پاکی کے ساتھ نماز پڑھ سکیں توآپ معذور سمجھے جائیں گے، اس صورت میں آپ ایک نماز کے وقت میں ایک دفعہ وضو کرلیں، پھر اس وضو سے اس نماز کے وقت کے ختم ہونے تک جس قدر فرائض ونوافل چاہے ادا کریں، اور وقت کے ختم ہوتے ہی آپ کا وضوٹوٹ جائے گا دوسری نماز کے لئے دوبارہ وضو کرنا پڑے گا ۔

اوراگر خون اس قدر مسلسل نہیں بہتا ہے تو آپ معذورنہیں ہوں گے، بلکہ جس وقت اس خون وغیرہ کے رکنے کا یقین اس وقت وضو کرکے نماز پڑھیں۔

رہا نماز میں یا غیر نماز میں وہاں رطوبت کے نکلنے کا شبہ تو اگر آپ معذور ہوں تو اس کا حکم اوپر ذکر گیا ہے وہی حکم آپ کے لئے ہوگا،اگر معذور نہ ہوں تو جب اس کے نکلنے کا یقین ہوجائے اورآپ نے نماز کے بعد یا دوران وضو اس کو دیکھاکہ وہ نکل کر باہر آگئی ہےتواس صورت میں وضو ٹوٹ جائے گا اگرنماز پڑھ لی ہوتو اس کا اعادہ ضروری ہوگا، لیکن اگرصرف اس کے آنے کا شک وشبہ ہو حقیقتاً وہ مادہ نہ نکلا ہو تواس کا کوئی اعتبار نہیں ہے، کیونکہ یقین شک کی وجہ سے زائل نہیں ہوتا، آپ کا وضو برقراررہے گا،اور نماز ادا کرنا صحیح ہوگا،اور اگر پڑھ لی ہوتو اعادہ کی ضرورت نہیں ہوگی۔

لماافی الدر المختار (۳۰۵/۱):(وصاحب عذر من بہ سلس) بول لا یمکنہ امساکہ(او استطلاق بطن …ان استوعب عذرہ تمام وقت صلاۃ مفروضۃ)بان لایجد فی جمیع وقتہا زمنا یتوضأ ویصلی فیہ خالیا عن الحدث(ولو حکما)لان الانقطاع الیسیر ملحق بالعدم(وھذا شرط)العذر (فی حق الابتداء وفی) حق (البقاء کفی وجودہ فی جزء من الوقت)ولومرۃ(وفی)حق الزوال یشترط(استیعاب الانقطاع)تمام الوقت (حقیقۃ )لانہ الانقطاع الکامل۔(وحکمہ الوضو )لا غسل ثوبہ وفی(صـ۳۰۶) ونحوہ (لکل فرض)اللام للوقت کمافی لدلوک الشمس ثم یصلی بہ (فیہ فرضاونفلا)فدخل الواجب بالاولی(فاذا خرج الوقت بطل)۔

وصرح الحنفیۃ بأن من یعرض لہ الشیطان کثیراً لا یلتفت إلیہ بل ینضح فرجہ أو سراویلہ بماء حتی إذا شک حمل البلل علی ذلک ما لم یتیقن خلافہ۔ (الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ ۴۳/ ۱۵۵)

ثم المراد بالخروج من السبیلین مجرد الظہور(درمختار) وفي ردالمحتار: فلو نزل البول إلی قصبۃ الذکر لاینقض لعدم ظہورہ، بخلاف القلفۃ؛ فإنہ بنزولہ إلیہا ینقض الوضوء۔ (درمختار مع الشامي ۱؍۲۶۲ زکریا، وہکذا في البدائع ۱؍۱۲۱ زکریا)

فقط واللہ اعلم بالصواب