Friday | 14 May 2021 | 2 Shawaal 1442
Gold NisabSilver NisabMahr Fatimi
$5171.06$537.47$1343.67

Fatwa Answer

Question ID: 1294 Category: Marriage and Divorce
Question ID: 1294 Category: Marriage and Divorce
تنسیخ نکاح یا خُلع

اسلام علیکم مفتی صاحب

میری شادی فروری 2004 میں شریعی طریقے سے گواہوں کی اور رشتے داروں کی موجودگی میں بنا نکاح نامہ کے امریکہ میں ہوئ۔ اپریل 2005 میں ہماری بیٹی پیدا ہوئ جس کی والدیت میں شوہر نے اپنا نام اور تاریخ پیدائش ٹھیک نہیں لکھا تھا۔ کیونکہ انہوں نے یہاں لیگل ہونے کے لئے ایک اور شادی کی ہوئ تھی۔ جس کی وجہ سے انہوں نے ہمارا نکاح نامہ نہیں بننے دیا تھا۔ اس بات سے مجھے اور میرے گھروالوں کو لا علم رکھا گیا تھا۔

شادی کے بعد بھی شوہر کا رویہ میرے ساتھ نارمل نہیں تھا۔ بد زُبانی اور مار پیٹ بھی کرتے تھے۔ ذاتی ضرورتوں کے لئے بھی بہت عاجز کیے رکھا تھا۔ فروری 2009 میں یہ مجھے میری بیٹی کیساتھ میری بہن کے گھر چھوڑ کر نیو اورلین چلے گئے ۔ اُُس کے بعد یہ 2010,2012,2014 میں ائے اپنی بیٹی سے ملے ہماری کوئ ذمہداری نہیں لی۔ اکتوبر 2017 میں نے قانونی طور ہر بچی کا خرچہ اپنی بیماری اور جاب چلے جانے کی بعد معاشی حالات سے تنگ آ کر لگوایا۔ عرض یہ ہے کہ میں پچھلے کئ سالوں سے ان سے پہلے جرگہ میں ہمارے ساتھ رہنے اور ذمہداری اُٹھانے اور ہھر پچھلے تین سال سے خُلع کے لئے مسلسل کوشیش کرتی آ رہی ہوں لیکن وہ کسی طور بھی مجھے طلاق دینے ہر آمادہ نہیں اور سال پہلے تک ہماری ذمہ داری پر بھی راضی نہیں تھے۔ہمُ دونوں کو الگ ہوئے گیارہ سال گُزر گئے ہیں میں اب ان کے ساتھ اس رشتے میں رہنا نہیں چاہتی مجھے اپنے شوہر سے خُلع چاہیے ۔ اپ برائے مہربانی میری اس مسلے میں رہنمائ فرمائیں۔ میں اپکی بے حد شُکر گُزار رہوں گی۔

وسلام

الجواب  وباللہ التوفیق

میاں بیوی کا جب ساتھ رہنا ممکن نہ ہو ، شوہر حقوق بھی ادا نہ کرے،  طلاق بھی نہ دے اور خلع پر بھی راضی نہ ہوتو شرعی پنچایت کے ذریعہ نکاح فسخ کیا جاسکتا ہے، اس کے لئے آپ اپنے قریب کسی اہل حق علماء کےادارہ سےیا شریعہ بورڈ کی شاخوں میں کسی شاخ سے رجوع کرکے مسئلہ کی یکسوئی کرلیں -

شریعہ بورڈ آف امریکہ کی المجلس الشرعی کو آپ مندرجہ ذیل رابطے کی تفصیل کے ذریعہ رابطہ فرما سکتے ہیں۔

ms@rahmatealam.org

773-764-8274

قولہ تعالیٰ:’’ وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا إِلَّا أَنْ يَخَافَا أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ ‘‘(البقرۃ:۲۲۹)

عن الزھری  قال: اذا اشتری الرجل عن امرأتہ طلاقا فھو خلع۔(المصنف لعبد الرزاق: ۶؍۴۸۲)

وفی الھدایۃ: واذا اتشاق الزوجان وخاف أن لا یقیما حدود اللہ تعالیٰ فلابأس بأن تفتدی نفسھا منہ بمال، یخلمھا وفی الزاد واذافعل ذلک وقع بالخلع ۔تطلیقۃ بائنۃ ولزمھا المال

یخلمھا وفی الزاد واذافعل ذلک وقع بالخلع ۔تطلیقۃ بائنۃ ولزمھا المال (الفتاوی التاتارخانیۃ ،کتاب  الطلاق،م زکریا:۵؍۵) (نیز دیکھئے :فتاویٰ ہندیہ:۱؍۴۸۸)

فقط واللہ اعلم بالصواب