Monday | 19 August 2019 | 18 Dhul-Hajj 1440

Fatwa Answer

Question ID: 136 Category: Business Dealings
Marriage Performed During the Period of 'Iddah

Assalamualaikum Warahmatullah 

I am a Pakistani Muslim living in the USA and married a Pakistani Muslim girl living in USA when she was in her period of ‘iddah after she received Khula‘ from her previous husband. She had to go outside of her house during her period of ‘iddah because of the nature of work she had in order to feed her 2 kids. As disputes arose between us, after 10 months of our marriage, I wrote the word Talaq 3 times in the same message and sent that one message to her through my cellphone so that she can marry someone else. During the time period when we were living together, we never consummate our marriage due to the doubt that our marriage may not have been valid due to her being in the period of ‘iddah. I have 3 questions now:

  1. Was our marriage which was performed during her period of ‘iddah valid in the first place?
  2. If our marriage was not valid, then did the Talaq I issued has any value?
  3. Is it possible for us to marry again?

Walaikumassalam Warahmatullahi Wabarakatuhu

الجواب وباللہ التوفیق

1-Based on the correctness of the description in the question and the described situation, the Nikah performed during the period of her ‘Iddah is considered impermissible and vile. Such a Nikah does not get officiated. Firm repentance and astaghfar should be performed on this action.

2- It is obvious that when your Nikah did not officiate, there is no effect of the divorces you issued.

3- If you want to perform Nikah with her now, you can do so.

(۱)اما نکاح منکوحۃالغیر ومعتدتہ (الی قولہ ) فلم یقل احدبجوازہ فلم ینعقد اصلا (ہامش ردالمحتار ‘کتاب الطلاق‘ باب العدۃ‘ مطلب فی النکاح الفاسد والباطل ۳/۵۱۶ ط سعیدکراتشی )

لَا يَجُوزُ لِلرَّجُلِ أَنْ يَتَزَوَّجَ زَوْجَةَ غَيْرِهِ وَكَذَلِكَ الْمُعْتَدَّةُ كَذَا في السِّرَاجِ الْوَهَّاجِ سَوَاءٌ كانت الْعِدَّةُ عن طَلَاقٍ أو وَفَاةٍ أو دُخُولٍ في نِكَاحٍ فَاسِدٍ أو شُبْهَةِ نِكَاحٍ كَذَا في الْبَدَائِعِ (فتاویٰ ہندیۃ:۱/۲۸۰)

وَأَمَّا شَرْطُهُ على الْخُصُوصِ فَشَيْئَانِ أَحَدُهُمَا قِيَامُ الْقَيْدِ في الْمَرْأَةِ نِكَاحٍ أو عِدَّةٍ وَالثَّانِي قِيَامٌ حَلَّ مَحِلَّ النِّكَاحِ(فتاویٰ ہندیہ:۱/۳۳۸)

طلق المنكوحة فاسدا ثلاثا له تزوجها بلا محلل قال ولم يحك خلافا فهذا أيضا مؤيد لكون الطلاق لا يتحقق في الفاسد ولذا كان غير منقص للعدد بل هو متاركة كما علمت جتى لو طلقها واحدة ثم تزوجها صحيحا عادت إليه بثلاث طلقات (رد المحتار:مطلب فی النکاح الفاسد،۳/۱۳۴)

فقط واللہ اعلم بالصواب

 

Question ID: 136 Category: Business Dealings
عدت کے دوران کئے گئے نکاح کا حکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

میرا تعلق پاکستان سے ہے، میں امریکہ میں مقیم ہوں اور یہاں پر ایک پاکستانی مسلمان عورت سے میں نے اس کی عدت کے دوران نکاح کیا، جب اس نے اپنے شوہر سے خلع حاصل کر لی تھی۔ اس کو اپنے بچوں کی پرورش اور کھانے پلانے کے لئے کمانے کی غرض سے گھر سے باہر جانا پڑتا تھا۔پھر ہمارے درمیان لڑائی ہوئی ، شادی کے ۱۰ مہینے بعد میں نے ایک ٹیکسٹ میسج کے اندر تین مرتبہ طلاق لکھ کر ان کو بھیج دیا تاکہ وہ کسی اور سے شادی کر سکیں۔ جب ہم لوگ ساتھ رہ رہے تھے تو ہم نے کبھی صحبت نہ کی کیونکہ ہمیں یہ شک تھا کہ شاید ہمارا نکاح صحیح نہیں ہوا چونکہ نکاح ان کی عدت کے درمیان ہوا تھا۔ میرے تین سوالات ہیں:

۱- کیا ہمارا نکاح صحیح ہوا؟

۲- اگر ہمارا نکاح ہی صحیح نہ تھا تو پھر طلاق کی کیا حیثیت ہوگی؟

۳- کیا ہمارے لئے دوبارہ شادی کرنا جائز ہے؟

 

 

 

 

 

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

الجواب وباللہ التوفیق

(۱) بشرطِ صحت سوال صورتِ مسؤلہ میں عدت کے دوران آپ کا کیا ہوا نکاح ناجائز باطل ہے،ایسانکاح منعقد ہی نہیں ہوتا ہے، اس سے توبہ واستغفار کریں۔

(۲) ظاہر ہےکہ جب آپ کا نکاح ہی نہیں ہوا ہے تو آپ کی جانب سے دی ہوئی طلاق بھی واقع نہیں ہوگی۔

(۳)آپ دونوں اگر اب نکاح کرنا چاہیں تو کرسکتے ہیں۔

(۱)اما نکاح منکوحۃالغیر ومعتدتہ (الی قولہ ) فلم یقل احدبجوازہ فلم ینعقد اصلا (ہامش ردالمحتار ‘کتاب الطلاق‘ باب العدۃ‘ مطلب فی النکاح الفاسد والباطل ۳/۵۱۶ ط سعیدکراتشی )

لَا يَجُوزُ لِلرَّجُلِ أَنْ يَتَزَوَّجَ زَوْجَةَ غَيْرِهِ وَكَذَلِكَ الْمُعْتَدَّةُ كَذَا في السِّرَاجِ الْوَهَّاجِ سَوَاءٌ كانت الْعِدَّةُ عن طَلَاقٍ أو وَفَاةٍ أو دُخُولٍ في نِكَاحٍ فَاسِدٍ أو شُبْهَةِ نِكَاحٍ كَذَا في الْبَدَائِعِ (فتاویٰ ہندیۃ:۱/۲۸۰)

وَأَمَّا شَرْطُهُ على الْخُصُوصِ فَشَيْئَانِ أَحَدُهُمَا قِيَامُ الْقَيْدِ في الْمَرْأَةِ نِكَاحٍ أو عِدَّةٍ وَالثَّانِي قِيَامٌ حَلَّ مَحِلَّ النِّكَاحِ(فتاویٰ ہندیہ:۱/۳۳۸)

طلق المنكوحة فاسدا ثلاثا له تزوجها بلا محلل قال ولم يحك خلافا فهذا أيضا مؤيد لكون الطلاق لا يتحقق في الفاسد ولذا كان غير منقص للعدد بل هو متاركة كما علمت جتى لو طلقها واحدة ثم تزوجها صحيحا عادت إليه بثلاث طلقات (رد المحتار:مطلب فی النکاح الفاسد،۳/۱۳۴)

فقط واللہ اعلم بالصواب