Saturday | 30 May 2020 | 7 Shawaal 1441
Gold NisabSilver NisabMahr Fatimi
$4861.97$351.42$878.55

Fatwa Answer

Question ID: 159 Category: Permissible and Impermissible
Taking Pictures for Marriage Proposal

Assalamualaikum Warahmatullahi Wabarakatuhu

Does the Islamic Shari‘ah give permission for taking picture of a boy or girl for the purposes of sending a marriage proposal? Are there any fatawah which talk about the permissibility of taking pictures in these circumstances? What are the permissible methods of sending a proposal for marriage according to the Islamic Shari‘ah?

Walaikumassalam Warahmatullahi Wabarakatuhu

الجواب وباللہ التوفیق

It is permissible for the person sending the proposal to see (a brief look) the potential bride using one of the possible permissible means. However, taking photographs for this reason, whether printed or digital is considered impermissible. There is severe rebuke mentioned in the ahadith of Rasulullah Sallallaho Alyhi Wasallam regarding this, therefore, it has been mentioned in a hadith of Rasulullah Sallallaho Alyhi Wasallam that:

أشد الناس عذابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ المصورون (مشکاة: ۲/۳۸۵)

Translation: The worse azab will be on the person who created) pictures.

The only exception for this is for the exigent circumstances. Looking at a picture of the potential bride or groom does not qualify as exigent circumstance. In addition, pictures usually fail to represent the reality and instead exhibits and exaggerates nonexistent aspects. Furthermore, this picture does not remain only for the potential groom, rather others who are na-mehram for that girl can (and do) see it and obviously any person with decensy cannot tolerate that. Therefore, it is incorrect to take pictures for the purposes of proposals. Consequently it is unsuitable to adopt methods which have been forbidden by the Islamic Shari‘ah. One should adopt such methods which have been permitted by the Islamic Shari‘ah, such as sending such females from his home who he trusts and find out the details, or with the girl’s parents’ permission, adopt a method to see the girl which does not have any kind of Shar‘ai forbiddance. If due to the distance because of the different geographical locations, or no possibility of an inperson meeting, there seems to be gunjaish (i.e. provision of permissibility) in using a live viewing mechanism on the internet to briefly see her, given no pictures are taken in the process.

عن المغیرۃ بن شعبۃ رضي اللّٰہ عنہ أنہ خطب امرأۃ فقال النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم: أنظر إلیہا فإنہا أحری أن یؤدم بینکما۔

(سنن الترمذي ۲؍۲۰۱)نہی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم عن الصورۃ في البیت ونہی أن یصنع ذلک۔ (سنن الترمذي ۲؍۳۰۱ المکتبۃ الأشرفیۃ دیوبند)

عن ابن عباس رضي اللّٰہ عنہما قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم من صور عذبہ اللّٰہ حتی ینفخ فیہا یعني الروح، ولیس بنافخ فیہا، ومن استمع إلی حدیث قوم یفرون منہ صُب في أذنہ الاٰنک یوم القیامۃ۔ (سنن الترمذي ۱؍۳۰۵)

عن عمار بن یاسر رضي اللّٰہ عنہ عن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: ثلاثۃ لایدخلون الجنۃ أبداً: الدیّوث من الرجال والرجلۃ من النساء ومد من الخمر، فقالوا: یا رسول اللّٰہ! أما مدمن الخمر فقد عرفناہ، فما الدیوث من الرجال؟ قال: الذي لایبالي من دخل علی أہلہ، قلنا: فالرجلۃ من النساء، قال: التي تشبہ بالرجال۔

(بیہقي ۷؍۴۱۲، رقم: ۱۰۸۰۰)

لا خیر فیمن لا غیرۃ لہ فمن کان ہٰکذا فہو الدیوث۔

(نضرۃ النعیم ۱۰؍۴۰۵۰۰) ۔

وفي الرد المحتار: ویظہر من کلامہم أنہ إذا لم یمکنہ النظر یجوز إرسال نحو امرأة تصف لہ حالہا بطریق الأولی ولو غیر الوجہ والکفین: ۹/۵۳۳۔

لما فی الھندیۃ(۳۳۰/۵):ولو أراد أن يتزوج امرأة فلا بأس بأن ينظر إليها وإن خاف أن يشتهيها كذا في التبيين۔

وفی الدر المختار(۳۷۰/۶): ( وكذا مريد نكاحها ) ولو عن شهوة بنية السنة لا قضاء الشهوة۔

فقط واللہ اعلم بالصواب

 

Question ID: 159 Category: Permissible and Impermissible
رشتے کے سلسلے میں تصویر لینے کا حکم

کیا اسلام میں ، اسلامی شریعت میں رشتے کے سلسلہ میں دکھانے کیلئے لڑکے لڑکی کی تصویر لینا جائز ہے؟  کیا اس کے بارے میں کوئی فتاویٰ موجود ہیں  جس میں لڑکے اور لڑکی کی تصویر یں ضرورت کے وقت لینے کی اجازت ہو؟ رشتہ یا شادی کے لئے پیغام بھیجنے کیلئے ، یا کسی سے شادی کا اقدام واضح کرنے کیلئے اسلام میں جائز طریقے کیا کیا ہیں ؟

 

 

الجواب وباللہ التوفیق
لڑکی سے رشتہ کرنے کا اِرادہ ہے، اس کو کسی طرح ایک نظر دیکھ لینا رشتہ دینے والے (لڑکے) کے لئے درست ہے؛ لیکن اِس مقصد سے اگر فوٹو کھینچنا کیاکھنچوانا خواہ کاغذ پر ہو یا نیٹ پر ناجائز ہے، اس پر احادیث میں سخت وعید وارد ہوئی ہے، چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ اللہ کے یہاں سب سے سخت عذاب تصویر بنانے والوں کو ہوگا:

أشد الناس عذابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ المصورون (مشکاة: ۲/۳۸۵)

البتہ ضرورت اور مجبوری کی حالت مستثنیٰ ہے، رشتہ طے کرتے وقت لڑکے کو لڑکی کی تصویر دیکھنا دکھانا کوئی مجبور ی نہیں، نیز تصویر سے صورت حال کی صحیح عکاسی بھی نہیں ہوتی بلکہ کبھی خلاف واقعہ چیزوں کی نمائش ہوجاتی ہے،نیز اس صورت میں یہ صرف خاطب (پیغام دینے والے)تک ہی محدود نہ رہتی ہے بلکہ ہر شخص اُسے دیکھ سکتا ہے اور دیکھتا ہے جو لڑکی کے لئے اجنبی اور نا محرم ہوتا ہے،اورظاہر ہے اسے کوئی باغیرت شخص برداشت بھی نہیں کرسکتا۔ بریں بنا رشتے کے مقصد سے تصاویر لینا درست نہیں ہے، اِس سے فتنوں کے دروازے کھلنے کا سخت اندیشہ بلکہ یقین ہے۔اس لئے ایسے ذرائع اختیار کرنا مناسب ہے جن کی شریعت نے اجازت دی ہے، یا توگھر کی ا ن عورتوں کو جن پر لڑکے کو اعتماد ہے بھیج کر معلومات حاصل کرلی جائیں۔یا اولیاء کے مشورہ سے کوئی ایسی صورت دیکھنے دکھانے کی کی جائے جس میں کوئی شرعی قباحت نہ ہو۔یا پھر ملک مختلف ہوں یا براہ راست ملاقات مشکل ہوتو ایک جھلک انٹرنیٹ پر دکھائیں تو اس کی گنجائش معلوم ہوتی ہے بشرطیکہ تصویر وغیرہ نہ بنائی جائے بلکہ براہ راست دکھایا جائے۔

عن المغیرۃ بن شعبۃ رضي اللّٰہ عنہ أنہ خطب امرأۃ فقال النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم: أنظر إلیہا فإنہا أحری أن یؤدم بینکما۔

(سنن الترمذي ۲؍۲۰۱)نہی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم عن الصورۃ في البیت ونہی أن یصنع ذلک۔ (سنن الترمذي ۲؍۳۰۱ المکتبۃ الأشرفیۃ دیوبند)

عن ابن عباس رضي اللّٰہ عنہما قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم من صور عذبہ اللّٰہ حتی ینفخ فیہا یعني الروح، ولیس بنافخ فیہا، ومن استمع إلی حدیث قوم یفرون منہ صُب في أذنہ الاٰنک یوم القیامۃ۔ (سنن الترمذي ۱؍۳۰۵)

عن عمار بن یاسر رضي اللّٰہ عنہ عن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: ثلاثۃ لایدخلون الجنۃ أبداً: الدیّوث من الرجال والرجلۃ من النساء ومد من الخمر، فقالوا: یا رسول اللّٰہ! أما مدمن الخمر فقد عرفناہ، فما الدیوث من الرجال؟ قال: الذي لایبالي من دخل علی أہلہ، قلنا: فالرجلۃ من النساء، قال: التي تشبہ بالرجال۔

(بیہقي ۷؍۴۱۲، رقم: ۱۰۸۰۰)

لا خیر فیمن لا غیرۃ لہ فمن کان ہٰکذا فہو الدیوث۔

(نضرۃ النعیم ۱۰؍۴۰۵۰۰) ۔

وفي الرد المحتار: ویظہر من کلامہم أنہ إذا لم یمکنہ النظر یجوز إرسال نحو امرأة تصف لہ حالہا بطریق الأولی ولو غیر الوجہ والکفین: ۹/۵۳۳۔

لما فی الھندیۃ(۳۳۰/۵):ولو أراد أن يتزوج امرأة فلا بأس بأن ينظر إليها وإن خاف أن يشتهيها كذا في التبيين۔

وفی الدر المختار(۳۷۰/۶): ( وكذا مريد نكاحها ) ولو عن شهوة بنية السنة لا قضاء الشهوة۔

فقط واللہ اعلم بالصواب