Monday | 19 August 2019 | 18 Dhul-Hajj 1440

Fatwa Answer

Question ID: 169 Category: Business Dealings
Issuing Three Divorces in the Same Sitting

My Nikah with my husband was done in August 2016, which was not announced to the family. My husband said that he will divorce his first wife and then will come to my house with a marriage proposal. His first wife was pregnant with their second child at the time so he was waiting for his child’s birth. After the birth she stayed with his parents at their home for a few months and then left for her mother’s house and lived with them for 8 months. My husband again promised that he will come to my house with a marriage proposal in December of 2017, and openly perform and announce the Nikah but his father did not let him divorce his first wife. His father is putting a condition that if he divorces his first wife, he will divorce his mother. My husband, who lives and supports his parents, then promised me that he would speak to his parents and explain to them how he has never been happy with his first wife. He also said that he would do anything to be with me even if he has to leave his house.

A few months back, we got into an argument, while he was complaining that I don’t give him time etc., in the heat of the argument, I said let’s just end this. He was pretty angry too and said “I son of so and so, give me wife so and so Talaq, he said this three times. After that we hung up the phone and did not speak for two days. Then he sent me a message through one of his friends explaining that he is upset and crying over what happened and asking to talk to me. We spoke and he explained that this is only one divorce. I asked a few scholars from Jamia Ashrafia and others, they all said the Nikah is still intact and we have 2 more chances, but I feel it is over and he does not believe me. Therefore, I need a fatwa, which explains the exact ruling for my situation. This way, I can move on and not get involved in any sin. I do not want to ruin his first marriage and I do not want him to leave his parents since he is the one supporting them.

Thanks

Walaikumassalam Warahmatullahi Wabarakatuhu

الجواب و باللہ التوفیق

As per the situation described in your question, if the husband has in fact uttered the words mentioned, then all three divorces have taken effect, you have become strangers for each other and it is considered impermissible for you to lead a married life together.

عن عائشة:أن رجلا طلق امرأته ثلاثا فتزوجت فطلق فسئل النبي صلى الله عليه و سلم أتحل للأول ؟ قال ( لا حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول )

(صحیح بخاری:کتاب الطلاق:باب من اجاز الطلاق،۴۹۶۱)

عن سہل بن سعد رضي اللّٰہ عنہ في ہذا الخبر قال فطلقہا ثلاث تطلیقات عند رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فأنفذہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم۔

(سنن أبي داؤد ۱؍۳۰۶ رقم: ۲۲۵۰)

وَإِنْ كان الطَّلَاقُ ثَلَاثًا في الْحُرَّةِ وَثِنْتَيْنِ في الْأَمَةِ لم تَحِلَّ له حتى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ نِكَاحًا صَحِيحًا وَيَدْخُلَ بها ثُمَّ يُطَلِّقَهَا أو يَمُوتَ عنها كَذَا في الْهِدَايَةِ وَلَا فَرْقَ في ذلك بين كَوْنِ الْمُطَلَّقَةِ مَدْخُولًا بها أو غير مَدْخُولٍ بها كَذَا في فَتْحِ الْقَدِيرِ (فتاویٰ ہندیۃ:۱/۴۷۲)

فقط واللہ اعلم بالصواب

Question ID: 169 Category: Business Dealings
ایک مجلس میں ۳ طلاق کا حکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

میرے شوہر نے مجھ سے خفیہ طور پر ۲۰۱۶ میں نکاح کیا، میرے شوہر کا یہ کہنا تھا کہ وہ اپنی پہلی بیوی کو طلاق دیں گے پھر میرے گھر رشتہ لے کر آئیں گے۔بچے کی پیدائش کے کچھ ماہ تک وہ اپنے سسرال میں ہی رہیں اور پھر اپنے میکے چلی گئیں۔ اب تقریبا ۸ ماہ سے وہ اپنے والدین کے گھر پر ہی ہیں ۔میرے شوہر نے وعدہ کیا تھا کہ وہ دسمبر کے مہینے میں رشتہ لا کر میرے ساتھ علی الاعلان نکاح کریں گے، مگر ان کے والد میرے شوہر کو اپنی پہلی بیوی کو طلاق دینے کے حق میں نہیں ہیں۔ ان کے والد نے یہ دھمکی دی ہے کہ اگر میرے شوہر نے اپنی پہلی بیوی کو طلاق دی تو وہ ان کی والدہ کو طلاق دے دیں گے۔ میرے شوہر نے مجھے یقین دلایا ہے کہ وہ اپنے والدین کو سمجھائیں گے کہ وہ اپنی پہلی شادی سے ہمیشہ نا خوش رہے ہیں ، حتی کہ وہ اپنا گھر چھوڑ کر میرے ساتھ رہنے کا دعوی بھی کرتے ہیں، البتہ ان کے والدین کے گھر کا خرچ وغیرہ وہی اٹھاتے ہیں لہذا ان کے لئے وہ گھر چھوڑنا آسان نہیں۔

حال ہی میں لڑائی کے دوران میں نے غصے میں آ کر ان سے کہا کہ "اس رشتے کو ختم ہی کر دیں"، جس کے جواب میں انھوں نے کہا کہ "میں، فلاں کا بیٹا، اپنی بیوں فلاں بنت فلاں کو طلاق دیتا ہوں"، انھوں نے یہ جملہ ۳ مرتبہ دہرایا۔ یہ بات چیت فون پر ہو رہی تھی، اس مکالمہ کے بعد ہم دونوں نے فون رکھ دیا اور دو روز تک کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ پھر ان کے ایک دوست کے ذریعے انھوں نے یہ پیغام بھجوایا کہ وہ بہت شرمندہ اور افسردہ ہیں ، اس کے بعد میں نے ان سے بات کی تو انھوں نے کہا کہ یہ ایک طلاق واقع ہوئی ہے۔

میں نے جامعہ اشرفیہ کے کچھ علماء سے اس بارے میں دریافت کیا اور انھوں نے یہ بتایا کہ ابھی ہمارے پاس ۲ چانس اور بچے ہیں ، لیکن میرا دل اس بات کو نہیں مانتا، مجھے یہ لگتا ہے کہ ہمارا رشتہ اب ختم ہو چکا ہے ۔ میرے شوہر البتہ اس بات پر یقین نہیں رکھتے۔ براہ کرم مجھے فتوی دیجئے جو میں اپنے شوہر کو دکھا سکوں تاکہ میں اپنی زندگی آگے اسلام کی تعلیمات کے مطابق گزار سکوں اور کسی گناہ میں مبتلا ہونے سے بچ سکوں۔ مجھے اب یہ بھی احساس ہو رہا ہے کہ مجھے ان کی پہلی شادی کو ختم کرنے میں کوئی کردار ادا نہیں کرنا چاہئے، اور میں یہ بھی نہیں چاہتی کہ وہ اپنے والدین کو چھوڑیں جن کو ان کے سہارے کی اس وقت سخت ضرورت ہے۔

الجواب وباللہ التوفیق

صورت مسئولہ میں آپ کے شوہر نے آپ سے یہ الفاظ کہے ہیں تو آپ پر تین طلاقیں واقع ہوگئیں،اور آپ دونوں ایک دوسرے کے لئے اجنبی ہوگئے ہیں،اب آپ دونوں کا ازواجی زندگی گزارنا جائز نہیں ہے۔

عن عائشة:أن رجلا طلق امرأته ثلاثا فتزوجت فطلق فسئل النبي صلى الله عليه و سلم أتحل للأول ؟ قال ( لا حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول )

(صحیح بخاری:کتاب الطلاق:باب من اجاز الطلاق،۴۹۶۱)

عن سہل بن سعد رضي اللّٰہ عنہ في ہذا الخبر قال فطلقہا ثلاث تطلیقات عند رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فأنفذہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم۔

(سنن أبي داؤد ۱؍۳۰۶ رقم: ۲۲۵۰)

وَإِنْ كان الطَّلَاقُ ثَلَاثًا في الْحُرَّةِ وَثِنْتَيْنِ في الْأَمَةِ لم تَحِلَّ له حتى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ نِكَاحًا صَحِيحًا وَيَدْخُلَ بها ثُمَّ يُطَلِّقَهَا أو يَمُوتَ عنها كَذَا في الْهِدَايَةِ وَلَا فَرْقَ في ذلك بين كَوْنِ الْمُطَلَّقَةِ مَدْخُولًا بها أو غير مَدْخُولٍ بها كَذَا في فَتْحِ الْقَدِيرِ (فتاویٰ ہندیۃ:۱/۴۷۲)

فقط واللہ اعلم بالصواب