Tuesday | 12 November 2019 | 15 Rabiul-Awal 1441

Fatwa Answer

Question ID: 177 Category: Business Dealings
Islamic Ruling on Matched Savings Account

Assalamualaikum,

I work closely with a non-profit organization that helps Muslim refugees settle down in Maine. In efforts to make it easy for immigrant and refugee families to support themselves, we have connected them to different resources that provide helpful services such as low-income housing, Medicaid benefits etc. One other main resource that has come up is “matched savings account” offered through New Ventures Maine, an organization that help Maine people succeed in the changing economy and achieve economic security for themselves and their families. As savings account generate interests which is haram/impermissible and matched accounts are usually fixed, this concerns a lot of Muslim refugees, we are asking you to provide a ruling on this matter, whether these matched savings account are permissible, especially in the case of immigrant families. The matched savings account that I am referring to are “Family Development Account (FDA) Program” and “Rainy Day Savings Account”. The Federal FDA Program offers a matched savings account for income-eligible individuals (under 200% of the Federal Poverty Level) and families who want to save money to buy a home, pay for education or training, or start or expand a small business. Both Federal and Maine funded FDA programs match each dollar you deposit (up to $1,000) in your FDA with $4 from public funding and private donors. It also gives you guidance on how to save and manage your money effectively, how to build good credit, and how to reach your goal. The Rainy Day Savings Account (RDSA) Program offers a matched savings account for income-eligible individuals and families who want to save money to pay for unexpected emergency expenses. This program matches each dollar you deposit in your RDSA, up to $300, with $1 from private donors. In case you need more information, the link to their website is ttp://newventuresmaine.org/programs/manage-your-money/.

New Ventures Maine has tried to address some of the concerns by setting up a savings account with no interest for Muslim immigrant families and not putting the matched funds into the bank account. They likened the program to a gift i.e. if a client has saved, say $1000 towards buying a car, New Ventures would pay $3000 to the car dealership to purchase a $4000 car.

So based on the information that I provided about who funds these programs, eligibility requirements, and the limit on the amount of money, our question is whether they are permissible according to the Islamic rulings. The main concern we have about these programs is that the money being matched has a fixed rate and the money acquired does not involve personal effort which may be considered interest and thus impermissible. Your ruling about this matter will be very helpful to us and the immigrant families.

JazakumulAllahu Kharian

الجواب و باللہ التوفیق

This is also considered interest and it is impermissible to take it. Remember, interest is not related to the existence (or non-existence) of a person’s efforts and personal hard work, instead it is related to the mutual agreement of taking a loan and paying it off with a higher amount than the borrowed amount. It is mandatory to refrain from any involvement in it.  

فقط واللہ اعلم بالصواب

Question ID: 177 Category: Business Dealings
میچ سیونگز اکاؤنٹس کا حکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

میں ایک رفاہی ادارے کے ساتھ کام کرتی ہوں جو "مین" کی ریاست میں مسلمان پناہ گزینوں کی سکونت اور دیگر امداد وغیرہ کا کام کرتی ہے۔ یہ ادارہ مہاجرین اور پناہ گزینوں کے لئے ایسے مواقع فراہم کرنے کی کوشش کرتا ہے جن کے ذریعے وہ خودکفیل بن سکیں ، اس سلسلے میں ان لوگوں کے روابط ایسے اداروں سے قائم کئے جاتے ہیں جو اہم امداد مثلا محدود کرائے والے گھر، حکومتی میڈیکل امداد وغیرہ کی فراہمی میں مدد کرتے ہیں۔ا س سلسلے میں مزید ایک سروس جو ان لوگوں کو فراہم کی جاتی ہے وہ " میچڈ سیونگز اکاؤنٹ " ہے ، جو "نیو وینچرز مین "نامی کمپنی فراہم کرتی ہے۔یہ کمپنی بھی ایک ایسی ہی کمپنی ہے جو مین کی ریاست کے باشندوں اور ان کے گھر والوں کو بدلتی ہوئی معیشت اور معاشی حالات میں معاشی تحفظ فراہم کرتی ہے۔ چونکہ سیونگز اکاؤنٹس سود ی نظام کے تحت جمع شدہ پیسے پر سود کو جنم دیتے ہیں، ہمارے علم کے مطابق وہ حرام اور ناجائز ہیں ایسے ہی میچڈ اکاؤنٹس "فکسڈ" ہوتے ہیں ، جو مسلمان پناہ گزینوں کے لئے کافی تشویش کا باعث ہے۔ اس سلسلے میں ہم آپ سے فتوی چاہتے ہیں کہ میچڈ سیونگز اکاؤنٹس جائز ہیں ، خصوصا ان پناہ گزینوں کے لئے۔

جن میچڈ سیونگز اکاؤنٹس کا ذکر ہے ان کا نام "فیملی ڈویلپمنٹ اکاؤنٹ (ایف ڈی اے)"اور "رینی ڈے سیونگز اکاؤنٹ "ہے۔

وفاقی حکومت کی جانب سے ایف ڈی اے پروگرام کے تحت   دئیے جانے والے فائدے کی تفصیل یہ ہے کہ ایسے حضرات جن کی تنخواہ وفاقی شرح غربت سے دو سو فی صد نیچے ہے، اور جو گھر خریدنے، تعلیم حاصل کرنے، چھوٹا موٹا کاروبار شروع کرنے کے لئے پیسے جمع کرنا چاہتے ہیں، تو ان کے اس اکاؤنٹ میں ہر ایک جمع کردہ ڈالر(اور زیادہ سے زیادہ ایک ہزار ڈالر تک)   کے عوض حکومت چار ڈالر پبلک فنڈنگ اور نجی ڈونیشنز کے ذریعے شامل کر دیتی ہے۔ یہ پروگرام لوگوں کی اس سلسلے میں بھی راہنمائی کرتا ہے کہ پیسوں کو کیسے جمع کیا جائے ، بہتر طور پر جمع اور خرچ کا نظام بنایا جائے، بہتر کریڈٹ کیسے بنایا جائے اور اپنے اہداف کو کیسے حاصل کیا جائے۔

رینی ڈے سیونگز اکاؤنٹس (آر ایس ڈی اے ) کے تحت دیئے جانے والے میچڈ سیونگز اکاؤنٹس ایسے لوگوں کو دئیے جاتے ہیں جو خاص تنخواہ سے کم پیسے کماتے ہوں، اور ایمرجنسی حالات کے لئے پیسے جمع کرنا چاہتے ہوں ۔ اس اکاؤنٹ کی تفصیل کے تحت بندے کے جمع کردہ ہر ڈالر کے لئے (اور زیادہ سے زیادہ تین سو ڈالر تک )، نجی ڈونرز سے تین ڈالر اس میں شامل کر دیتے ہیں۔ اس سلسلے میں اگر آپ مزید کوئی چیز پڑھنا چاہتے ہوں تو نیو وینچرز مین کی ویب سائٹ کے مندرجہ ذیل لنک سے پڑھ سکتے ہیں:

http://newventuresmaine.org/programs/manage-your-money/

نیو وینچرز مین کی جانب سے مسلمانوں کی تشویش کو دور کرنے کے لئے مسلمان پناہ گزینوں کے لئے   غیر سودی سیونگز اکاؤنٹس بھی جاری کئے گئے ہیں ، جس کے ساتھ ساتھ میچڈ فنڈ بینک میں جمع نہ کرنا بھی شامل ہے۔ انھوں نے اس پروگرام کی ترتیب تحائف کی صورت میں کر دی ہے جس میں مثال کے طور پر اگر ایک شخص نے ایک ہزار ڈالر جمع کئے ہیں جس سے وہ گاڑی خریدنا چاہتا ہے تو یہ لوگ تین ہزار ڈالر اس گاڑی کی خرید کے لئے براہ راست گاڑی بیچنے والے ڈیلر کے اکاؤنٹ میں ڈال دیتے ہیں۔

اوپر فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق، یعنی کون ان پروگرامز کو فنڈ کرتا ہے، اس میں کون کون فائدہ اٹھا سکتا ہے ، اور اس میں شامل ہونے کے لئے تنخواہ کی خاص مقدار ہونا وغیرہ، کی روشنی میں کیا یہ اکاؤنٹس شریعت کی رو سے جائز ہیں؟ ہمارا اصل مسئلہ ان پروگرامز سے متعلق یہ ہے کہ جو مال لوگوں کو دیا جا رہا ہے وہ ایک مختص شدہ یا فکسڈ حساب سے دیا جا رہا ہے اور جو مال لوگ اس پروگرام کے تحت کما رہے ہیں اس میں ذاتی جدوجہد نہ ہونے کی وجہ سے اس پر سود کا شائبہ ہوتا ہے، اور جس کی وجہ سے اس کو ناجائز قرار دیا جا سکتا ہے۔ آپ کی اس سلسلے میں راہنمائی ان مہاجرین اور پنا ہ گزینوں کے لئے بہت کارآمد ہو گی۔جزاکم اللہ خیرا۔

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

الجواب وباللہ التوفیق

یہ بھی سود ہے،اس کا لینا جائز نہیں ہے۔اور یاد رکھیں کہ سود کا تعلق ذاتی جد و جہد اور محنت کے ہونے نہ ہونے سے نہیں ہے،بلکہ باہمی معاہدہ کے ذریعہ بطور قرض رقم دے کر اس کے عوض میں زیاددہ رقم وصول کرنا سود ہے۔اس سے بچنا ضروری ہے۔

فقط واللہ اعلم بالصواب