Tuesday | 12 November 2019 | 15 Rabiul-Awal 1441

Fatwa Answer

Question ID: 237 Category: Business Dealings
Permissibility of Gratuity and Pension Fund

I am employed in an organization where monthly deductions are made from my salary in the name of Gratuity and Pension Funds (GPF). These funds are given back to the employee at the time of retirement. The employer invests these funds . There are 2 categories of GPF i.e. interest bearing and non -interest bearing. But at the end the employer invest the funds in the same place, collected in both categories.


Employees have a option to withdraw amount as loan from these funds (if they want to use this money before retirement). If the employee has selected interest bearing GPF he will have to pay interest on the withdrawn amount and if he/she has selected non-interest bearing GPF interest does not have to be paid on the withdrawn amount. Kindly clarify which GPF should the employee opt for or should this be avaoided altogether. One additional detail is that GPF is not the ownership of the employee and he has no rights with respect to investment in these funds.

الجواب وباللہ التوفیق

If the G.P. Fund account is not at your discretion and the deduction from your salary is mandatory then it is permissible and the extra money received on it in the name of interest is not interest. To take that extra money is permissible. If the employee however, with his discretion deposits additional money in the account then it is considered impermissible. It is permissible for him to take only the amount which was deducted from his salary, the extra amount he would receive is doubtful as being interest in addition to the risk of getting involved in interest later, therefore, it is necessary to give such additional money as sadaqah.

عن علي رضي اللّٰہ عنہ کل قرض جر منفعۃ فہو ربا، وکل قرض شرط فیہ الزیادۃ، فہو حرام بلا خلاف۔ (إعلاء السنن ۱۴؍۴۹۹ دار الکتب العلمیۃ بیروت)

کل قرض جر نفعًا حرام۔ (شامي ۵؍۱۶۶ کراچی)

الأجر لا یلزم بالعقد؛ بل بتعجیلہ أو شرطہ في الإجارۃ أو بالاستیفاء للمنفعۃ۔ (تنویر الأبصار مع الشامي ۹؍۱۳-۱۴ زکریا)

فقط واللہ اعلم بالصواب

Question ID: 237 Category: Business Dealings
گریچوٹی اور پینشن فنڈ کا حکم

میری کمپنی میں "گرایچوٹی اور پنشن فنڈ" کے نام سے ایک اکاؤنٹ ہوتا ہے جس میں میری کمپنی والے میری تنخواہ سے پیسے لے کر ڈالتے ہیں۔ یہ پیسہ کام کرنے والے کو ریٹائرمنٹ کے وقت واپس کیا جاتا ہے۔ میری کمپنی ان پیسوں کو سرمائے کے طور پر کسی بزنس میں لگاتی ہے۔ اس فنڈ کی دو قسمیں ہیں، ایک جس میں سود ہوتا ہے، دوسرا جس میں سود نہیں ہوتا۔ البتہ آخر کار، کمپنی دونوں طرح کے فنڈز میں پیسے ایک جا لگاتی ہے۔ یعنی دونوں میں کوئی تقسیم نہیں۔

کام کرنے والوں کے لئے اس اکاؤنٹ میں سے پیسے نکالنے کا یہ طریقہ ہوتا ہے کہ اس کو قرض کے طور پر اس میں سے رقم دی جاتی ہے۔ اگر امپلائی سود والے اکاؤنٹ میں سے قرض لے تو اس قرض کی واپسی میں سود بھی شامل کرنا پڑتا ہے۔ ایسے ہی اگر غیر سودی اکاؤنٹ میں سے قرض لیا ہو تو قرض کی رقم پر سود نہیں واپس کرنا ہوتا۔

براہ کرم راہنمائی فرمائیے کہ کام کرنے والوں کو کس فنڈ میں حصہ لینا چاہئے یا کسی بھی فنڈ میں حصہ نہیں لینا چاہئے؟ اس میں ایک چیز کمپنی کی طرف سے اور واضح کی گئی ہے کہ ان فنڈز میں، کام کرنے والے کی کوئی ملکیت شامل نہیں اور ان فنڈز/اکاؤنٹس پر اس کا کوئی حق نہیں، وہ کمپنی کی ملک بن جاتی ہے، لہذا اس کی سرمایہ کاری وغیرہ پر بھی امپلائی کا کوئی کنٹرول نہیں ہوتا۔

الجواب وباللہ التوفیق

جی پی فنڈ اکاؤنٹ اگر غیر اختیاری ہے اور آپ کی تنخواہ میں سے رقم لازما کٹتی ہے تو یہ جائز ہے،اور اس پر سود کے عنوان سے جو زائد رقم ملے سود نہیں ہے۔اس کا لینا جائز ہے،اور اگر ملازم اپنے اختیار سے مزید رقم اکاؤنٹ میں شامل کروائے تو یہ جائز نہیں ہے،جتنی رقم اس کی تنخواہ میں سے وضع ہوئی ہے اتنا لیناتواس کے لئے جائز ہے،زائد رقم میں شبہ ربا بھی ہے اور آئندہ سود میں مبتلا ہونے کا اندیشہ بھی ہے اس لئے اس کا صدقہ کردینا ضروری ہے۔

عن علي رضي اللّٰہ عنہ کل قرض جر منفعۃ فہو ربا، وکل قرض شرط فیہ الزیادۃ، فہو حرام بلا خلاف۔ (إعلاء السنن ۱۴؍۴۹۹ دار الکتب العلمیۃ بیروت)

کل قرض جر نفعًا حرام۔ (شامي ۵؍۱۶۶ کراچی)

الأجر لا یلزم بالعقد؛ بل بتعجیلہ أو شرطہ في الإجارۃ أو بالاستیفاء للمنفعۃ۔ (تنویر الأبصار مع الشامي ۹؍۱۳-۱۴ زکریا)

فقط واللہ اعلم بالصواب