Tuesday | 20 November 2018 | 12 Rabiul-Awal 1440

Fatwa Answer

Question ID: 253 Category: Business Dealings
Medical School Loan Repayment

Assalamualaikum Warhmatullahi Wabarakatuhu

I'm trying my best to find scholarships and interest free loans that can support the high cost of medical school education. Nontheless, this is a very difficult process. There is a program offered by the government i.e. "loan repayment program". They pay off your loans (which accrues interest for four years), if you work in underserved areas for 4 years (https://nhsc.hrsa.gov/loanrepayment/). I'd rather not touch interest at all, but still wanted to ask what the Islamic perspective is in regard to this program. 

JazakAllahu Khaira

 الجواب وباللہ التوفیق

If you could get interest-free loan or scholarship for your education, then it is considered permissible to do so. However, if the intent is to take an interest bearing loan then it is considered impermissible to take such loan.

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ .فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ (البقرہ:۲۷۸و279)

الربوا سبعون جزء ًا ایسرھا ان ینکح الرجل امہ (مشکوٰۃ سریف ص ۲۴۶ باب المنھی عنہا من البیوع)

قال رسول اﷲ ﷺدرھم ربوایا کلہ الرجل وھویعلم اشد من ستۃ و ثلثین زینۃ۔(مشکوٰۃ شریف ص ۲۴۶ باب ابربوا)

دعوا الربوا والریبۃ (مشکوٰۃ شریف ص۲۴۶ باب الربوا)

قال عمر تركنا تسعة أعشار الحلال مخافة الربا (مصنف عبد الرزاق:۱۴۶۸۴)

فقط واللہ اعلم بالصواب

Question ID: 253 Category: Business Dealings
میڈکل اسکول کا قرض واپس کرنے کا طریقہ

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

میں اس بات کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہوں کہ مجھے غیر سودی نظام کے تحت قرض مل جائے یا پھر اسکالرشپ (وہ خرچ جو تعلیمی صلاحیت کی بنیاد پر حکومت یا دیگر ادارے اٹھا لیتے ہیں) حاصل ہو جائے تاکہ میں اپنے میڈیکل اسکول کی پڑھائی کو مکمل کر سکوں۔ لیکن  بے شک یہ ایک بہت مشکل کام ہے۔ اس اثناء میں حکومت کی جانب سے ایک پروگرام ہے جو قرض کی ادائیگی کے لئے جاری کیا گیا ہے۔ حکومت ہمارے ان قرضوں کو   ادا کر دیتی ہے (جس پر ۴ سال تک سود جمع ہوتا ہے) ، جس کے عوض حکومت یہ چاہتی ہے کہ زیادہ غربت والے علاقوں میں ۴ سال کام کیا جائے۔ میں کسی بھی صورت سود کے کسی بھی معاملے میں ملوث نہیں ہونا چاہتا ۔ لیکن پھر بھی یہ معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ اس  پروگرام کے سلسلے    میں اسلام کی کیا تعلیمات کیا کہتی ہیں۔

الجواب وباللہ التوفیق

اپنی اس تعلیم کے لئے آپ غیر سود ی قرض یا اسکالر شپ حاصل کرسکتے ہیں تو ٹھیک ہے لیکن اگر آپ کا منشا یہ ہوکہ اس کے لئےسودی قرض لینا پڑرہاہے تو اس صورت میں لیناجائز نہیں ہے۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ .فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ (البقرہ:۲۷۸و279)

الربوا سبعون جزء ًا ایسرھا ان ینکح الرجل امہ (مشکوٰۃ سریف ص ۲۴۶ باب المنھی عنہا من البیوع)

قال رسول اﷲ ﷺدرھم ربوایا کلہ الرجل وھویعلم اشد من ستۃ و ثلثین زینۃ۔(مشکوٰۃ شریف ص ۲۴۶ باب ابربوا)

دعوا الربوا والریبۃ (مشکوٰۃ شریف ص۲۴۶ باب الربوا)

قال عمر تركنا تسعة أعشار الحلال مخافة الربا (مصنف عبد الرزاق:۱۴۶۸۴)

فقط واللہ اعلم بالصواب