Monday | 11 November 2019 | 14 Rabiul-Awal 1441

Fatwa Answer

Question ID: 275 Category: Worship
Correct Method of Namaz-e-Janaza

Assalaamualaikum,

Please explain what are the steps in performing Nama-e-Janazah. Some people raise their heads after each takbeer and some don't. Also please state if keeping odd number of rows during this prayer is mandatory or not.

Jazakallah Khair.

الجواب وباللہ التوفیق

The method of Salaat ul Janazah according to Sunnah is:

  • Imam should stand in front of the chest of the deceased, and the Muqtadi (followers) should make rows behind the Imam, and between every two rows there is no need to keep too much distance, rather little distance is enough.
  • Make intention.
  • It’s better to make at least 3 rows, there are virtues of it mentioned in the Hadith.
  • After that the Imam should say Takbeer (Allaah u Akbar) to start the Salaat ul Janazah and after saying Takbeer e Tahrimah (the first takbeer) should raise the hands and then tie them. After that shoud recite Thanaa.
  • After completing Thanaa, without raising hands should say second Takbeer and then recite Durud e Ibrahimi.
  • After completing Durud e Ibrahimi, without raising hands, should say third Takbeer and recite following Du’aa for the deceased adult man or woman:

اللّٰہم اغفر لحینا، ومیتنا، وشاہدنا ، وغائبنا، وصغیرنا، وکبیرنا، وذکرنا، وأنثانا، اللّٰہم من أحییتہ منا فأحیہ علی الإسلام ومن توفیتہ منا فتوفہ علی الإیمان ۔

  • But if the deceased is not adult and is non-adult boy or girl then should recite the following words in Du’aa:

اللّٰہم اجعلہ لنا فرطاً و اجعلہ لنا أجراً وذخراً ، واجعلہ لنا شافعاً ومشفعاً۔

However, in case of the deceased girl, recite اجعلہا, and after saying fourth Takbeer drop hands and after dropping hands make Salaam on both sides.

As far as making an odd number of rows in Salaat ul Janazah, it’s Mustahab. Nabi e Akram S.A.W. has said that if there are three rows in the Salaat ul Janazah of a person then Jannat is compulsory for that person, therefore, effort should be made to have the odd number and that there should be at least three rows and the rows more than three should also be odd number, but this is not mandatory, without having the odd number too, the Salaat would be correct.

Please see the following arguments:

 

عن أبي ہریرۃؓ ، قال نعی النبی ﷺ إلی أصحابہ النجاشي، ثم تقدم فصفوا خلفہ فکبر رابعاً۔(صحیح البخاری ، الجنائز ، باب الصفوف علی الجنازۃ ، النسخۃ الہندیۃ ۱/۱۷۶، رقم:۱۳۰۴، ف: ۱۳۱۸)

عن مالک بن ہبیرۃ رضي اللّٰہ تعالیٰ عنہ قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ما من میت یموت فیصلي علیہ ثلاثۃ صفوف من المسلمین إلا أوجب، أي استحق الجنۃ۔ (سنن أبي داؤد، کتاب الجنائز / باب في الصف علی الجنازۃ ۲؍۹۵ إمدادیۃ)

عن الشعبی قال: التکبیرۃ الأولیٰ علی المیت ثناء علی اللہ ، والثانیۃ صلاۃ علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم ، والثالث دعاء للمیت، والرابعۃ تسلیم۔(مصنف عبد الرزاق، باب القراء ۃ والصلاۃ فی الدعاء للمیت، المجلس العلمي۳/۴۹۱، رقم: ۶۴۳۴)

عن أبي ہریرۃ ؓ أن رسول اللہ ﷺ کان إذا صلی علی جنازۃ ، قال: اللّٰہم اغفر لحینا، ومیتنا، وشاہدنا، وغائبنا، وصغیرنا ، وکبیرنا،وذکرنا ، وأنثانا، اللّٰہم من أحییتہ منّا فأحیہ علی الإسلام، ومن توفیتہ منا فتوفہ علی الإیمان ۔(المستدرک ، کتاب الجنائز ، رقم: ۱۳۲۶، سنن الترمذی الجنائز، رقم: ۱۰۲۴)

عن یونس عن الحسن أنہ کان إذا صلی علی الطفل قال: اللّٰہم اجعلہ لنا فرطاً واجعلہ لنا أجراً ۔ (مصنف عبد الرزاق، الجنائز، رقم: ۶۵۸۸)

وفی الصبي والمجنون یقول: اللّٰہم اجعلہ لنا فرطاً ، واجعلہ لنا ذخراً، واجعلہ لنا شافعا ومشفعاً۔ (شرح النقایہ ، باب فی الجنائز ، مکتبہ اعزازیہ دیوبند ۱/۱۳۴)

وسننہا أربع: قیام الإمام بحذاء صدر المیت ذکر اً أو أنثی ٰ والثناء بعدالتکبیرۃ الأولیٰ ، والصلاۃ، علی النبی ﷺ بعد الثانیۃ ، والدعاء للمیت بعد الثالثۃ ۔۔۔۔۔ ویسلم بعد الرابعۃ من غیر دعائٍ ۔(نورالإیضاح ، باب أحکام الجنائز ، کتب خانہ امدادیہ دیوبند/۱۲۹، ۱۳۰)ولا یعقد بعد التکبیر الرابع؛ لأنہ لا یبقی ذکر مسنون حتی یعقد فالصحیح أنہ یحل الیدین ثم یسلم ۔(سعایہ شرح شرح الوقایہ ، کتاب الصلاۃ ، باب صفۃ الصلاۃ ۲/۱۵۹)

ویستحب أں یصفوا ثلاثۃ صفوف حتی لو کانوا سبعۃً،  یتقدم أحدہم للإمامۃ ویقف وراء ہ ثلاثۃ وراء ہم اثنان، ثم واحد۔ کذا في الفتاویٰ الہندیۃ، کتاب الصلاۃ ۱؍۱۶۴ رشیدیۃ۔ رد المحتار علی الدر المختار،کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب هل يسقط فرض الكفاية بفعل الصبي)     

واللہ اعلم بالصواب

 

Question ID: 275 Category: Worship
نماز جنازہ کا صحیح طریقہ

السلام علیکم

براہ کرم نماز جنازہ پڑھنے کا مکمل طریقہ کار بتا دیجئے۔ کچھ لوگ، ہر تکبیر  کے بعد اپنے ہاتھ اٹھاتے ہیں اور کچھ ایسا نہیں کرتے۔ اس بات پر بھی روشنی ڈالئے کہ کیا طاق اعداد میں صفوں کی تعداد رکھنا واجب  ہے؟

جزاک اللہ خیرا۔

 

 

الجواب وباللہ التوفیق

نماز جنازہ کامسنون طریقہ یہ ہے کہ (۱) امام میت کے سینہ کے برابر کھڑا ہوجائے ،اور مقتدی امام کے پیچھے صف بند ی کریں ، اور ہر دوصف کے درمیان زیادہ فاصلہ رکھنے کی ضرورت نہیں بلکہ صرف معمولی فاصلہ کافی ہے۔

(۲) نیت کریں۔

(۳) بہتر یہ ہے کہ کم از کم تین صف بنائیں،حدیث میں اس کی فضیلت ہے۔

(۴)اس کے بعد نماز جنازہ شروع کرنے کے لئے امام تکبیر کہے اور تکبیر تحریمہ کہہ کر ہاتھ اٹھا کر باندھ لے۔اس کے بعد ثناء پڑھے۔

(۵) پھر ثناء سے فراغت کے بعد ہاتھ اٹھائے بغیر دوسری تکبیر کہے ، اور درود ابراہیمی پڑھے۔

(۶)درود ابراہیمی سے فراغت کے بعد ہاتھ اٹھائے بغیر تیسری تکبیر کہہ کر بالغ مرد وعورت کے لئے مذکورہ دعا پڑھے ۔

اللّٰہم اغفر لحینا، ومیتنا، وشاہدنا ، وغائبنا، وصغیرنا، وکبیرنا، وذکرنا، وأنثانا، اللّٰہم من أحییتہ منا فأحیہ علی الإسلام ومن توفیتہ منا فتوفہ علی الإیمان ۔

(۷)لیکن اگر میت بالغ کی جگہ نابالغ لڑکا یالڑکی ہے، تو دعاء میں درج ذیل الفاظ پڑھے:

اللّٰہم اجعلہ لنا فرطاً و اجعلہ لنا أجراً وذخراً ، واجعلہ لنا شافعاً ومشفعاً۔

 البتہ لڑکی کی صورت میں اجعلہاپڑھے ، پھر اس کے بعد چوتھی تکبیر کہہ کر ہاتھ چھوڑ دے اور چھوڑ نے کے بعد دونوں طرف سلام پھیردے۔

رہا نمازِ جنازہ میں صفوں میں طاق عدد کی رعایت تو وہ مستحب ہے، نبی اکرم ﷺنے فرمایاکہ جس آدمی کی نماز جنازہ میں تین صف بن جائیں تو اس کے لئے جنت واجب ہے،اس لئے طاق عدد کا اہتمام کرنا چاہئے۔ اور کوشش کرنی چاہئے کہ کم از کم تین صف ہوں اور جو اس سے زائد ہوں وہ بھی طاق میں ہوں۔لیکن یہ لازم نہیں ہے،بغیر طاق عدد کا لحاظ کئے بھی نماز درست ہے۔

دلائل ملاحظہ فرمائیے:

عن أبي ہریرۃؓ ، قال نعی النبی ﷺ إلی أصحابہ النجاشي، ثم تقدم فصفوا خلفہ فکبر رابعاً۔(صحیح البخاری ، الجنائز ، باب الصفوف علی الجنازۃ ، النسخۃ الہندیۃ ۱/۱۷۶، رقم:۱۳۰۴، ف: ۱۳۱۸)

عن مالک بن ہبیرۃ رضي اللّٰہ تعالیٰ عنہ قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ما من میت یموت فیصلي علیہ ثلاثۃ صفوف من المسلمین إلا أوجب، أي استحق الجنۃ۔ (سنن أبي داؤد، کتاب الجنائز / باب في الصف علی الجنازۃ ۲؍۹۵ إمدادیۃ)

عن الشعبی قال: التکبیرۃ الأولیٰ علی المیت ثناء علی اللہ ، والثانیۃ صلاۃ علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم ، والثالث دعاء للمیت، والرابعۃ تسلیم۔(مصنف عبد الرزاق، باب القراء ۃ والصلاۃ فی الدعاء للمیت، المجلس العلمي۳/۴۹۱، رقم: ۶۴۳۴)

عن أبي ہریرۃ ؓ أن رسول اللہ ﷺ کان إذا صلی علی جنازۃ ، قال: اللّٰہم اغفر لحینا، ومیتنا، وشاہدنا، وغائبنا، وصغیرنا ، وکبیرنا،وذکرنا ، وأنثانا، اللّٰہم من أحییتہ منّا فأحیہ علی الإسلام، ومن توفیتہ منا فتوفہ علی الإیمان ۔(المستدرک ، کتاب الجنائز ، رقم: ۱۳۲۶، سنن الترمذی الجنائز، رقم: ۱۰۲۴)

عن یونس عن الحسن أنہ کان إذا صلی علی الطفل قال: اللّٰہم اجعلہ لنا فرطاً واجعلہ لنا أجراً ۔ (مصنف عبد الرزاق، الجنائز، رقم: ۶۵۸۸)

وفی الصبي والمجنون یقول: اللّٰہم اجعلہ لنا فرطاً ، واجعلہ لنا ذخراً، واجعلہ لنا شافعا ومشفعاً۔ (شرح النقایہ ، باب فی الجنائز ، مکتبہ اعزازیہ دیوبند ۱/۱۳۴)

وسننہا أربع: قیام الإمام بحذاء صدر المیت ذکر اً أو أنثی ٰ والثناء بعدالتکبیرۃ الأولیٰ ، والصلاۃ، علی النبی ﷺ بعد الثانیۃ ، والدعاء للمیت بعد الثالثۃ ۔۔۔۔۔ ویسلم بعد الرابعۃ من غیر دعائٍ ۔(نورالإیضاح ، باب أحکام الجنائز ، کتب خانہ امدادیہ دیوبند/۱۲۹، ۱۳۰)ولا یعقد بعد التکبیر الرابع؛ لأنہ لا یبقی ذکر مسنون حتی یعقد فالصحیح أنہ یحل الیدین ثم یسلم ۔(سعایہ شرح شرح الوقایہ ، کتاب الصلاۃ ، باب صفۃ الصلاۃ ۲/۱۵۹)

ویستحب أں یصفوا ثلاثۃ صفوف حتی لو کانوا سبعۃً،  یتقدم أحدہم للإمامۃ ویقف وراء ہ ثلاثۃ وراء ہم اثنان، ثم واحد۔ کذا في الفتاویٰ الہندیۃ، کتاب الصلاۃ ۱؍۱۶۴ رشیدیۃ۔ رد المحتار علی الدر المختار،کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب هل يسقط فرض الكفاية بفعل الصبي)

واللہ اعلم بالصواب