Thursday | 14 November 2019 | 17 Rabiul-Awal 1441

Fatwa Answer

Question ID: 292 Category: Business Dealings
Health Insurance

Asalaamualaikum,

Given the current situation in the USA, what is the ruling concerning health insurance? Please consider the facts/queries below:

1) It is uncertain whether the Affordable Care Act (Obama Care) will be repealed or it will stay. Until 2017 there was a penalty for not taking health insurance but that may change in the future.

2) If a person is a business owner and can show more income in the business to reduce personal income, can he do so to qualify for Medicaid? If the government makes you pay for part of the coverage each month is it still permissible?

3) Is it permissible to purchase insurance from any provider just to cover medical expenses regardless of what the law states?

What is the preferred action for Muslims to take in these situations where health care is a necessity but, by default, purchasing insurance is haram?

JazakAllah Khair

الجواب وباللہ التوفیق

Under such compulsions there is permission to have medical insurance, however, it’s necessary to make sure of three things:

  • The least should be subscribed to, per necessity.
  • Most of the assets of the company should be Halal.
  • If the person concerned can afford then he/she should give in Sadaqah extra amount in addition to the premium he pays for the health insurance without the intention of reward.
  • To receive the benefit of Medicaid by showing less income is not permissible as it is based on lying and cheating.

یجوز التامین الاجباری  او الالزامی الذی تفرضہ الدولۃ لانہ بمثابۃ دفع صربیۃ للدولۃ(الفقہ الاسلامی وادلتہ:۵/۳۴۲۲ )

واللہ اعلم بالصواب

 

Question ID: 292 Category: Business Dealings
ہیلتھ انشورینس

السلام علیکم

موجودہ حالات میں امریکہ میں رہنے والوں کے لئے ہیلتھ انشورنس لینا جائز ہے؟ جب کہ مندرجہ ذیل  میں ان حالات کی تفصیلات بیان ہیں:

۱- یہ جاننا مشکل ہے کہ اوباما کئیر (افورڈ ایبل کئیر ایکٹ) کو موجودہ گورنمنٹ ختم کر دے گی یا چلتے رہنے دے گی، ۲۰۱۷ تک یہ ہیلتھ انشورنس نہ لینے پر جرمانہ ادا کرنا پڑتا تھا، جو مستقبل میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

۲- اگر کوئی شخص کاروبار کرتا ہے اور اپنے کاروبار میں آمدن کو بڑھا کر دکھاتا ہے لیکن اپنی ذاتی آمدن کو گھٹا کر دکھاتا ہے تاکہ اسے میڈیکیڈ نامی فائدہ گورنمنٹ کی طرف سے حاصل ہو سکے، صحیح ہے؟ اس صورت میں گورنمنٹ انشورنس کا کچھ حصہ ادا کرتی ہے جب کہ باقی کا پریمیم بندے کو خود ادا کرنا ہوتا ہے۔کیا یہ انشورنس لینا جائز ہوگا؟

۳- بجائے حکومت سے مندرجہ بالا میں بیان کردہ انشورنس خریدنے کے، کسی پرائیوٹ کمپنی سے محض بنیادی میڈیکل ضروریات کو پورا کرنے کے لئے انشورنس خریدنا جائز ہوگا، اس بات سے قطع نظر کہ قانون اس سلسلے میں کیا کہتا ہے؟

مسلمانوں کے لئے ان حالات میں بہتر راستہ کیا ہے؟ چونکہ حالات یہ ہیں کہ اس ملک میں رہتے ہوئے ہیلتھ انشورنس لینا بنیادی ضروریات میں سے ہے، لیکن فی نفسہ انشورنس کا خردینا وغیرہ حرام ہوتا ہے؟

جزاک اللہ خیرا۔

 

 

الجواب وباللہ التوفیق

ایسی  مجبوری میں میڈیکل انشورنس کی اجازت ہے،البتہ تین باتوں کی رعایت ضروری ہے،ایک یہ کہ بقدر ضرورت  کم سے کم والا معاملہ کیا جائے۔ دوسرے یہ کہ کمپنی کی اکثر رقم حلال ہو۔تیسرے یہ کہ اگر صاحب معاملہ  ذی استطاعت ہوتو اپنی جمع کردہ رقم کے علاوہ زائد رقم  بلا نیتِ ثواب  صدقہ کردے۔

آمدنی کم دکھاکر میڈیکیڈ نامی فائدہ گورنمنٹ سے حاصل کرنا جھوٹ اور دھوکہ پر مبنی ہونے کی وجہ سے جائز نہیں  ہے۔

 یجوز التامین الاجباری  او الالزامی الذی تفرضہ الدولۃ لانہ بمثابۃ دفع صربیۃ للدولۃ(الفقہ الاسلامی وادلتہ:۵/۳۴۲۲ )

واللہ اعلم بالصواب