Monday | 11 November 2019 | 14 Rabiul-Awal 1441

Fatwa Answer

Question ID: 296 Category: Worship
Property Waqf to the Masjid, being taken back, but defaced

Assalaamualaikum,

I am the current Ameer and am responsible for Waqf masjid property’s day to day affairs.

I am writing this email to get written clarification to communicate this sharia matter whether it is permissible or impermissible to deface masjid’s property which is attached to the Masjid. It is defaced by the person who donated (Waqf) it 7 years ago without mentioning whether it would be part of the Masjid or not. But he were to temporary use a room of it while he was serving in masjid managing board as Faisal as he would come sometimes to serve this position from 200 miles from another state. Then he mentioned that he would ask it to be returned from this wakf when he leaves or is permanently replaced by another Ameer/ Faisal. He damaged that room with rat dropping’s, feces, and oil tarnished walls had to be painted. The masjid renovated this room so the sisters can use that room starting from Ramadan,  spending over thousand dollars in expenses from masjid fund which he should be billed to pay back but still we have been courteous for his past service to Allah but now our niceness is not appreciated but he is now demanding mosque should either return those few items or pay $100 for each!

As he was replaced from that position of responsibility and me now serving locally as Ameer position, so we locally decided as the room was needed for sisters prayer area which was emptied out and he picked up his all his personal abandoned properties except fixed asset attached to the masjid as per our counsel who deals with Occupancy law and Kansas state regulations of religious organizations it became asset of the mosque cannot be defaced and removed. Islamic scholars also asked verbally stated for wakf property impermissible and should not be taken off from the Masjid property. So the below items were not given to him to take as it was impermissible by state regulations and verbally by an Islamic Scholar:

1) the door that was installed on masjid property by him to separate sister area from that room he was using, 2) Ceiling fan that is attached, 3) combination lock that was installed now rekeyed for sisters use, 4) metal door with lock to the entrance door to the room which is attached and rekeyed and sisters are using as their prayer area.

Respected Mufti Saheb, now seeking your written fatwa whether this demand of defacing masjid property permissible or impermissible? How to handle this brother as he says he would make me responsible as I am the Ameer on the Day of Qiyamat in front of Allah for not returning the attached properties of the masjid!

 

الجواب وباللہ التوفیق

More investigation is needed and some points in the question seem to be conflicting, therefore, it will be appropriate if local Ulama would answer after verbal or written verification/investigation or the inquirer obtains a hand-delivered fatwa.

واللہ اعلم بالصواب

Question ID: 296 Category: Worship
مسجد کوو وقف کی ہوئی پراپرٹی واپس لینا اور اسے خراب کرنا

 

السلام علیکم،

میں ایک وقف مسجد کا موجودہ امیر  اور روزمرہ کے امور کا ذمہ دار ہوں۔ مجھے یہ مسئلہ پوچھنا ہے کہ  کیا مسجد کے ساتھ لگی ہوئی پراپرٹی  کو خراب کرنا  جائز ہے یا نہیں جب کہ یہ پراپرٹی  اس شخص کی ہو جس نے ۷ سال قبل  مسجد کی زمین  کے لئے وقف کی تھی البتہ اس بات کو اس موقع پر واضح کئے بغیر  کہ آیا یہ ساتھ لگی  پراپرٹی مسجد کا حصہ  ہو گی یا نہیں ۔بلکہ یہ ان کے وقتی طور پر استعمال کے لئے ہوگی   تاکہ جب تک وہ مسجد کے مینجمنٹ بورڈ میں ذمہ داری سرانجام دے رہے ہیں اور فیصل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ چونکہ ان کو  کبھی کبھی قریب ۲۰۰ میل کا سفر طے کر کے ایک دوسری اسٹیٹ سے  اس مسجد   کی  ذمہ داریوں کو پورا کرنے آنا ہوتا تھا ۔ پھر بغیر بتائے یا واضح کئے ہوئے  بعد میں یہ بات انھوں نے کہی کہ ان کو یہ حصہ وقف میں سے واپس چاہئے ہو گا جب وہ اس امیر /فیصل کے مرتبے سے فارغ ہوں گے یا ان کی جگہ کوئی اور امیر آجائے گا۔ انھوں نے اس کمرے کو خراب کر دیا، چوہے کی غلاظت، تیل سے بھرپور دیواروں وغیرہ کی صورت میں ، اس کمرے کی صفائی اور پینٹ وغیرہ پر مسجد کو قریب ایک ہزار ڈالر کا خرچ اٹھانا پڑا، تاکہ یہ کمرہ رمضان کے مہینے میں خواتین کے استعمال میں لایا جا سکے۔ یہ ہزار ڈالر سے زیادہ کا خرچ انھیں مسجد کو واپس کرنا چاہئے  لیکن ہم نے ان کی تمام تر خدمات جو انھوں نے اس مسجد کے لئے انجام دیں کو مد نظر رکھتے ہوئے ایسا کوئی تقاضہ ان سے نہ کیا۔ لیکن اب ہمارے اس رویے  کا ناجائز فائدہ اٹھایا جا رہا ہے، اور وہ مسجد سے یہ تقاضہ کر رہے ہیں کہ ان چیزوں کے عوض ان کو ۱۰۰ ڈالر دیئے جائیں (یعنی ہر آئٹم کے عوض) یا پھر وہ چیزیں ان کو واپس کر دی جائیں۔

چونکہ ان کی اس ذمہ داری کی جگہ اب میں اس مسجد کا ذمہ دار ہوں  لہذا ہم نے  مقامی طور پر  یہ طے کیا کہ  چونکہ یہ کمرہ خواتین کی نماز کے لئے درکار ہے ، اور اس کمرے میں سے ان صاحب نے اپنا تمام تر سامان نکال لیا تھا ، سوائے ان چیزوں کے جو اس کمرے میں نصب ہوئی ہیں، اور یہاں کینسس کے وکیلوں کے مطابق جو چیز کسی کمرے وغیرہ میں نصب کر دی گئی ہو وہ اس  بلڈنگ کی پراپرٹی میں شامل ہو جاتی ہے، اور اس کو نکالنا یا خراب کرنا قانونا بھی صحیح نہیں، اور ایسے ہی علماء نے زبانی یہ بات ان کو بتائی کہ وقف کی گئی چیز وں کو اس طرح مسجد سے نکالنا صحیح نہیں، لہذا ان  دو باتوں کی روشنی میں مندرجہ ذیل  چیزیں ان کو واپس نہ کی گئیں:

۱- اس  کمرے میں جو دروازہ انھوں نے نصب کیا تھا  جس کے ذریعہ خواتین والے حصے اور اس  کمرے میں پردہ کیا جاسکے.

۲- چھت پر نصب شدہ پنکھا

۳- تالا جس کو کامبنیشن کے ذریعے کھولا جاتا ہے (جس کی چابی وغیرہ تبدیل کر دی گئی ہے)

۴- کمرے میں نصب کردہ لوہے کا دروازہ جس کی چابی تبدیل کر کے خواتین کو یہ کمرہ استعمال کے لئے دے دیا گیا ہے

آپ کا تحریری فتوی ہمارے لئے بہت مددگار ہو گا تا کہ ہم ان کو اس بات کا علم دے سکیں کہ مسجد کی پراپرٹی کو اس طرح سے خراب کرنا صحیح نہ ہو گا (یا صحیح ہوگا؟)، ان بھائی سے کس طرح پیش آیا جائے چونکہ وہ یہ بات بھی کہتے ہیں کہ امیر ہونے کے ناطے وہ قیامت کے روز مجھے پکڑیں گے، کہ میں نے ان کو ، ان کی یہ نصب شدہ چیزیں واپس کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

 

سوال میں مزید تنقیح کی ضرورت ہے، اور بعض باتیں متضاد بھی نظر آرہی ہیں اس لئے مقامی علماء اس کی زبانی یا تحریری تحقیق کے بعد جواب دے دیں یا سائل دستی فتویٰ حاصل کرلے  تو مناسب رہے گا۔

والسلام