Tuesday | 12 November 2019 | 15 Rabiul-Awal 1441

Fatwa Answer

Question ID: 311 Category: Worship
What is the Kaffarah for dropping the Quran

Assalamualaikum,

I want to ask that in Anger if I put my hand on Quran and say I will definitely file divorce on this day but don’t file and 1 Parah falls down also by mistake, what is the kaffarah for this bad behavior. I read 2 nafil and said sorry to ALLAH but I know this is not enough as what I did is totally wrong. Please help me and give me the answer as soon as possible.

I know this is unacceptable to bring Quran in fighting but I am very depressed, sick and helpless person. I am fighting alone with my life problems for 22 years now. I feel like I am getting crazy and have no patience left. I only want peace.

Jazakallah 

 

 

 

الجواب وباللہ التوفیق

It doesn’t become a قسم (oath) just by holding the Qur’aan Majeed in one’s hands and making a statement unless a person says the words of قسم (oath).

The actions you performed when the Qur’aan fell down to seek forgiveness and to pay the کفارہ (recompensation) are correct. For further satisfaction make effort to pay Sadaqah and keep seeking forgiveness till your heart is contented.

Furthermore, having patience at the occasions which require patience there are promises of the pleasure of Allaah T’aalaa, the rewards, the glad tidings, and other virtues mentioned in the Qur’aan and the Hadith. Have this realization that these promises will only be true when one practices patience in these harsh circumstances.

واللہ اعلم بالصواب

Question ID: 311 Category: Worship
قرآن گر جانے پر کفارہ

 

السلام علیکم 

اگر میں غصے میں قرآن پر ہاتھ رکھ کر یہ کہوں کہ آج میں لازماً طلاق فائل کر دوں گی لیکن میں نے ایسا نہیں کیا اور اسی دوران غلطی سے ایک  پارہ بھی گر گیا۔ اس غلط رویے کا کیا کفارہ ہے۔ اس پر میں نے دو نفل پڑھے اور اللہ سے معافی مانگی لیکن میں جانتی ہوں کہ یہ کافی نہیں ہے جو میں نے کیا وہ بالکل غلط ہے۔ برائے مہربانی میری مدد کیجیے اور جلد سے جلد جواب دیجیے۔

مجھے یہ پتا ہے کہ قرآن کو لڑائی میں لانا ناقابل قبول ہے لیکن میں بہت ڈیپریسڈ، بیمار، اور بے یار و مددگار  ہوں۔ میں بائیس سال سے اپنی زندگی کے مسائل سے اکیلی  لڑ رہی ہوں۔ اب مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے میں پاگل ہوتی جا رہی  ہوں  اور مجھ میں بالکل صبر باقی نہیں رہا۔ مجھے صرف سکون چاہیے ہے۔ 

جزاک اللہ

 

الجواب وباللہ التوفیق

صرف قرآن پاک ہاتھ میں لیکر بات کہنے سے قسم نہیں ہوجاتی جب تک کہ الفاظ قسم ادا نہ کیے جائیں۔

قرآن پاک کے گرنے پر آپ نے جو معافی اور کفارہ کی شکل اختیار کی  ہے وہ درست ہے،مزید اطمنان کے لئے صدقہ کا اہتمام بھی کرلیں اور دل کے قرار آنے تک معافی مانگتے رہیں،صبر کے مواقع پر صبر کرنے سے ہی اللہ پاک کی رضامندی،انعامات کے وعدےو بشارتیں اور دیگر  فضائل قرآن و احادیث میں وارد ہوے ہیں ایسے موقعوں سے ہی صبر کرنے سے وہ چیزیں حاصل ہوں گی اس بات کا دھیان رکھیں۔

واللہ اعلم بالصواب