Tuesday | 12 November 2019 | 15 Rabiul-Awal 1441

Fatwa Answer

Question ID: 356 Category: Miscellaneous
Enquiry about a establishing a school if it is allowed in Shairah

Assalamualaikum,

I have a business idea in mind, I would like to check with the ulema if the idea is allowed in Shariah.

The idea is to start an educational institute either in India or here in United States. In the institute we would educate children by letting them play with Legos. Legos are like small, colorful building blocks. Using Legos, children can build toy buildings, ships and architectural models. In more advance sessions, we would encourage them to build robotics like toy cars running with batteries, building toy helicopters, robots and drones doing some very simple tasks.

By doing these exercises, children develop persistence, problem solving and mathematical skills. It improves creativity and encourages team work early on in their lives.

I would like to check if running this kind of eductional institution is allowed in Shariah. If so, I would go ahead and implement this idea. If this is not allowed, please let me know if we can eliminate some parts (which are not allowed in Shairiah) and still be able to launch this educational institute obeying the rules of Shariah.

Jazakallah

الجواب وباللہ التوفیق

There is permissibility to establish such educational institutes on the condition that you don’t make pictures of living things in them and follow other Shar’ai rulings, and obviously for this you will have to contact the ‘Ulama directly and will have to present your plan and strategies in front of them. If guidance would be needed per Shar’ai ways then they will tell you. Therefore, one guidance for you from our side is this that if you want to establish such institute then you also include a good Ahl-e-Haq ‘Aalim in your educational or administrative committee and keep taking guidance from them in the Shar’ai matters.

والسلام

Question ID: 356 Category: Miscellaneous
جدید طرز پراسکول کا قیام)

اسلام علیکم

میرے ذہن میں ایک بزنس کھولنے کا خیال ہے میں علماء سے معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ اگر اس کی شریعت میں اجازت ہے:

خیال یہ ہے کہ انڈیا میں  امریکہ میں ایک ایسا تعلیمی ادارہ قائم کیا جائے جس میں بچوں کو لیگوز(کھیلونوں میں مختلف چیزیں بنانے کے لئے مختلف شکل کے ٹکڑے) کے ساتھ کھیلتے ہوئے تعلیم دی جائے، ان سے کھیلتے ہوئے بچے کھیلونا عمارتیں، بحری جہاز یا عمارتی نمونے بناسکتے ہیں، آگے کے درجوں میں ہم انہیں ترغیب دیں گے کہ  وہ بیٹری سے چلنے والی گاڑیاں، ہیلی کاپٹر، ڈرون وغیرہ بنائیں۔

ایسی ذہنی مشقیں کرنے سے بچوں میں استقامت، مسئلوں کو حل کرنا اور ریاضی کی سات بڑھیں گی، اس سے بچوں میں تخلیقی ذہن بڑھے گا اور زندگی کے ابتدائی مراحل سے ہی دوسروں کے ساتھ مل کر جماعت کی بنیاد پر کام کرنا  آسان ہوگا۔

میں یہ جاننا چاہ رہا ہوں کہ کیا اس قسم کے تعلیمی ادارہ چلانے کی شریعت میں اجازت ہے اگر ایسا ہے تو میں اپنے اس خیال کو لائحہ عمل میں لاؤں گا، اگر ایسا نہیں ہے تو برائے مہربانی بتائیے کہ میں اس میں کیا تبدیلیاں کروں اور غیر شرعی چیزیں نکال دوں تاکہ میں پھر بھی اس ادارے کو شریعت کے مطابق شروع کرسکوں ۔

الجواب وباللہ التوفیق

ایسے تعلیمی ادارہ قائم کرنے کی گنجائش ہے،بشرطیکہ اس میں آپ جاندار کی تصاویر نہ بنائیں،اور دیگر شرعی امور کی رعایت کریں،اور ظاہر ہےکہ اس کے لئے آپ کو براہ راست علماء سے رابطہ کرنا ہوگا، اپنا پلان اور ترتیب ان کے سامنے رکھنی ہوگی۔ شرعی  اعتبار سے اگر اس میں رہنمائی کی ضرورت محسوس ہوتو پھر وہ آپ کو بتائیں گے۔اس لئے ہماری  ایک رہنمائی آپ کے لئے یہ ہےکہ آپ  اگر اس کو قائم کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو اپنی تعلیمی یا انتظامی کمیٹی میں اچھے اہل حق عالم دین کو بھی شامل کریں،اور شرعی امور میں ان سے رہنمائی لیتے رہیں۔

والسلام