Saturday | 20 July 2019 | 17 Dhul-Qidah 1440

Fatwa Answer

Question ID: 365 Category: Miscellaneous
Abortion at 20 weeks due to a life-threatening condition in fetus and danger to the mother's life

Assalaamualaikum, 

The following query is very urgent and time-sensitive regarding the permissibility of medical abortion in Islam.

My brother’s wife is 20 weeks pregnant as of recent ultrasound done on October 30, 2018.

The doctors have told us that the fetus has a very large omphalocele with abdominal organs lying in a sac outside the body cavity and the fetus also was diagnosed on the same date with limb body wall defect, a very rare defect in which the left foot is clubbed. 

It is a very unusual pregnancy as the omphalocele sac is joined to the placenta and to separate it at delivery, it would require a very big C-section and chances of severe bleeding while doing surgery in order to separate the omphalocele sac with the placenta to cut the cord and is dangerous for the mother’s life too.

The baby has his organs in a sac lying outside the abdomen, sac contains liver, intestine, bladder, stomach. The abdominal wall defect is not fixable and is a highly life-threatening surgery if done for the baby after delivery.

The parents want to do a DNC ( abortion) as to the fact that the defect is not fixable and compatible with life later on and with too many complications for the mother as well as the fetus.

Could they do an abortion at 20 weeks given the above life-threatening situation of the fetus and danger to mother’s life from the very big C-section surgery in which the doctor says that the incision for C-section would be 10 times bigger than a normal C-section and chances of danger to mother’s life while cutting the cord and doing the C-section.

This query is very time-sensitive and urgent, kindly please respond.

It is their first baby, no previous abortions or miscarriages.

الجواب وباللہ التوفیق

The abortion in itself is impermissible and Haraam but in view of the mentioned reasons where there is danger to the mother or the baby then before the baby getting the soul (4 months in to the pregnancy) the abortion is permissible.

ویکرہ أن تسقی لإسقاط حملہا، وجاز لعذر حیث لایتصور (الدر المختار)  قال الشامی: جاز لعذر کالمرضعۃ إذا ظہر الحبل وانقطع لبنہا ولیس لأبي الصبی ما یستاجر بہ الظئر ویخاف ہلاک الولد قالوا یباح لہا أن تعالج فی استنزال الدم مادام الحمل مضغۃ أو علقۃ ولم یخلق لہ عضو  وقدروا تلک المدۃ بمائۃ و عشرین یوما و جاز لأنہ لیس بآدمی وفیہ صیانۃ الآدمی۔ (در مختار مع الشامی، کتاب الحظر والإباحۃ، باب الاستبراء وغیرہ، زکریا ۹/۶۱۵، کراچی ۶/۴۲۹، کوئٹہ ۵/۳۰۴، ہندیہ زکریا قدیم ۵/۳۵۶، جدید ۵/۴۱۲ بحوالہ فتاوی قاسمیہ }

واللہ اعلم بالصواب

 

 

Question ID: 365 Category: Miscellaneous
رحم میں بچے کی خطرناک حالت اور ماں کی جان کو خطرے کی وجہ سے بیس ہفتوں کے حمل کا اسقاط

 

السلام علیکم 

مندرجہ ذیل سوال بہت ہی اشد فوری نوعیت کا ہے اور فوری توجہ کا طلبگار ہے۔

یہ سوال شدید طبی ضرورت کے تحت اسقاط حمل کرانے کے بارے میں ہے۔

میرے بھائی کی بیوی  بیس ہفتے کی حاملہ ہے ، بتاریخ اکتوبر۳۰،   ۲۰۱۸؁ء کے الٹرا ساؤنڈ کے مطابق ڈاکٹروں نے ہمیں بتایا ہے کہ نطفہ کی  ناف اپنی جگہ سے بہت باہر نکل گئی ہے، جس کی وجہ سے پیٹ کے اعضاء جسم کے سانچے سے باہر نکلے ہوئے ہیں اور  ایک تھیلی میں جمع ہیں اور انہوں نے یہ تشخیص بھی بتائی ہے کہ بچے کے پاؤں کے باہر کے حصے میں خرابی ہے جس کی وجہ سے بچے کا بایاں پاؤں کچلا ہوا ہے۔

یہ ایک بہت ہی غیر معمولی حمل ہے کیونکہ ناف کا حصہ بچہ دانی سے جڑا ہوا ہے اور زجگی کے وقت اس کو بچہ دانی سے الگ کرنے کے لیے ایک بہت بڑا آپریشن کرنا پڑے گا اور اس میں بہت زیادہ خون بہنے کا بھی اندیشہ ہے، مزید اس میں بچہ کی ناف کے کٹنے اور ماں کی زندگی کو بھی خطرہ ہے۔

اس وقت بچے کی کلیجی ،آنتیں، مثانہ، اور پیٹ اس کے جسم کے باہر ایک  تھیلی میں نکلے ہوئے ہیں جن کو پیدائش کے بعد جسم کے اندر واپس ڈالنے میں بچنے کی زندگی کو  بہت خطرہ ہے بچے کے پیٹ کا باہر کا حصہ ٹھیک نہیں ہوسکتا۔

بچے کے والدین اسقاط حمل کرنا چاہتے ہیں کیونکہ یہ خرابیاں ٹھیک نہیں ہوسکتیں اور اس کے نہ کرنے سے بچے اور ماں دونوں کو بہت خطرات ہیں۔

کیا اس زندگیوں کے خطرے میں پڑنے کی صورت میں ۲ ماہ میں حمل کا اسقاط کیا جاسکتا ہے اور اس وجہ سے کہ ڈاکٹروں کے مطابق عام زچگی کے آپریشن کے برعکس اس صورت حال میں دس گناہ  بڑا جسم کاٹنا پڑے گا اور آپریشن کے دوران بچے  کی ناف کٹنے اور بچہ و زچہ دونوں کی جان کا خطرہ ہے۔

یہ سوال بہت اشد فوری توجہ کا طالب ہے برائے مہربانی جواب دیجئے۔ یہ ان دونوں کا پہلا بچہ ہے اس سے پہلے ان کا کوئی اسقاط نہیں ہوا نہ ہی ان کا بچہ پہلے ضائع ہوا ہے۔

 

الجواب وباللہ التوفیق

اسقاط حمل فی نفسہ ناجائز اور حرام ہے لیکن مذکورہ  اعذار کی صورت میں جبکہ ماں یا بچہ کو خطرہ ہو تو جان پڑنے (چار مہینے)سے پہلے اسقاط حمل کی تدبیر جائز ہے ۔

ویکرہ أن تسقی لإسقاط حملہا، وجاز لعذر حیث لایتصور (الدر المختار)  قال الشامی: جاز لعذر کالمرضعۃ إذا ظہر الحبل وانقطع لبنہا ولیس لأبي الصبی ما یستاجر بہ الظئر ویخاف ہلاک الولد قالوا یباح لہا أن تعالج فی استنزال الدم مادام الحمل مضغۃ أو علقۃ ولم یخلق لہ عضو  وقدروا تلک المدۃ بمائۃ و عشرین یوما و جاز لأنہ لیس بآدمی وفیہ صیانۃ الآدمی۔ (در مختار مع الشامی، کتاب الحظر والإباحۃ، باب الاستبراء وغیرہ، زکریا ۹/۶۱۵، کراچی ۶/۴۲۹، کوئٹہ ۵/۳۰۴، ہندیہ زکریا قدیم ۵/۳۵۶، جدید ۵/۴۱۲ بحوالہ فتاوی قاسمیہ }

واللہ اعلم بالصواب