Thursday | 14 November 2019 | 17 Rabiul-Awal 1441

Fatwa Answer

Question ID: 375 Category: Permissible and Impermissible
Sunni marrying a Shia

Assalamualaikum,

I am a sunni male and interested in a girl who belongs from a Shia family. I just wanted to know marrying a shia being sunni is not a problem in the light of islam. Also, will there be any conditions to consider?

الجواب وباللہ التوفیق

If a Shia has the Kufriyah beliefs, e.g., blemishing Hazrat ‘Aaishah R.A., or denying the Sahabiyat and Khilafat of Hazrat Abu Bakr R.A., or calling bad names to the Hazrat ‘Umar R.A. and Hazrat Abu Bakr R.A. and cursing them, and is convinced of the Uloohiyat of Hazrat ‘Ali R.A., or is a believer of Hazrat Jibrael A.S. to make mistake in bringing the revelation, or has the belief of the changes in the Qur’aan, or having any belief which is openly against the Qur’aan and Hadith, Ijmaa’, and the Nusoos-e-Qat’iyah then she is Kaafir, and therefore, Nikah with her is Haraam, and the Shia who doesn’t have the Kufriyah beliefs like this then he is Faasiq, and doing Nikah in this situation, the Nikah is valid but one should still avoid it so in the future the Deen and Eemaan of the generations are safeguarded.

إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ(سورۃ الحجر : ۹)

إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالْإِفْكِ عُصْبَةٌ مِنْكُمْ لَا تَحْسَبُوهُ شَرًّا لَكُمْ بَلْ هُوَ خَيْرٌ لَكُمْ لِكُلِّ امْرِئٍ مِنْهُمْ مَا اكْتَسَبَ مِنَ الْإِثْمِ وَالَّذِي تَوَلَّى كِبْرَهُ مِنْهُمْ لَهُ عَذَابٌ عَظِيمٌ ۔لَوْلَا إِذْ سَمِعْتُمُوهُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بِأَنْفُسِهِمْ خَيْرًا وَقَالُوا هَذَا إِفْكٌ مُبِينٌ ۔ لَوْلَا جَاءُوا عَلَيْهِ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَإِذْ لَمْ يَأْتُوا بِالشُّهَدَاءِ فَأُولَئِكَ عِنْدَ اللَّهِ هُمُ الْكَاذِبُونَ ۔وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ لَمَسَّكُمْ فِي مَا أَفَضْتُمْ فِيهِ عَذَابٌ عَظِيمٌ۔إِذْ تَلَقَّوْنَهُ بِأَلْسِنَتِكُمْ وَتَقُولُونَ بِأَفْوَاهِكُمْ مَا لَيْسَ لَكُمْ بِهِ عِلْمٌ وَتَحْسَبُونَهُ هَيِّنًا وَهُوَ عِنْدَ اللَّهِ عَظِيمٌ ۔وَلَوْلَا إِذْ سَمِعْتُمُوهُ قُلْتُمْ مَا يَكُونُ لَنَا أَنْ نَتَكَلَّمَ بِهَذَا سُبْحَانَكَ هَذَا بُهْتَانٌ عَظِيمٌ۔يَعِظُكُمُ اللَّهُ أَنْ تَعُودُوا لِمِثْلِهِ أَبَدًا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ (سورۃ النور: ۱۱ تا ۱۷)

وَلَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكَاتِ حَتَّى يُؤْمِنَّ وَلَأَمَةٌ مُؤْمِنَةٌ خَيْرٌ مِنْ مُشْرِكَةٍ وَلَوْ أَعْجَبَتْكُمْ وَلَا تُنْكِحُوا الْمُشْرِكِينَ حَتَّى يُؤْمِنُوا وَلَعَبْدٌ مُؤْمِنٌ خَيْرٌ مِنْ مُشْرِكٍ وَلَوْ أَعْجَبَكُمْ أُولَئِكَ يَدْعُونَ إِلَى النَّارِ وَاللَّهُ يَدْعُو إِلَى الْجَنَّةِ وَالْمَغْفِرَةِ بِإِذْنِهِ وَيُبَيِّنُ آيَاتِهِ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ۔( سورۃ البقرۃ: ۲۲۱)

''ان الرافضی ان کان ممن یعتقد الالوہیة فی علی اوان جبریل غلط فی الوحی اوکان ینکرصحبة الصدیق اویقذف السیدة الصدیقة فہوکافر لمخالفتہ القواطع المعلومة من الدین بالضرورة بخلاف مااذاکان یفضل علیااویسب الصحابة فانہ مبتدع لاکافر''…(فتاویٰ شامی:٣١٤/٢)

وقال شیخ الاسلام ابن تیمیة قال القاضی ابویعلی من قذف عائشة بمابرء ہا اللہ تعالی منہ کفربلاخلاف ''…(مجموعہ رسائل ابن عابدین :٣٥٨/١)

وانا لہ لحفظون من التحریف والزیادة والنقصان ولایتطرق الیہ الخلل ابدا……ویل للرافضة حیث قالوا قدتطرق الخلل الی القرآن وقالوا ان عثمان وغیرہ حرقوہ القوہ منہ عشرة اجزاء ''…(تفسیرالمظہری : ١٥٥/٥)''

۔''نعم لاشک فی تکفیر من قذف السیدة عائشة رضی اللہ عنہا اوانکرصحبة الصدیق اواعتقد الالوہیة فی علی اوان جبریل غلط فی الوحی اونحوذلک من الکفر الصریح المخالف للقرآن''…(ردالمحتار:٣/٣٢١)

''اقول نعم نقل فی البزازیة عن الخلاصة ان الرافضی اذاکان یسب الشیخین ویلعنہما فہو کافر وان کان یفضل علیا علیہما فہو مبتدع اھ وہذا لایستلزم عدم قبول التوبة علی ان الحکم علیہ بالکفر مشکل لمافی الاختیار اتفق الائمةعلی تضلیل اہل البدع اجمع وتخطئتہم وسب احد من الصحابة وبعضہ لایکون کفرا لکن یضلل''…(ردالمحتار:٣/٣٢١)''

ومنہا اسلام الرجل اذاکانت المرء ة مسلمة فلایجوز انکاح المؤمنة الکافر لقولہ تعالی ولاتنکحوا المشرکین حتی یؤمنوا''…(بدائع الصنائع : ٢/٥٥٤)

واللہ اعلم بالصواب

 

Question ID: 375 Category: Permissible and Impermissible
سنی کا شیعہ لڑکی سے نکاح کرنا)

میں ایک سنی مرد ہوں اور ایک شیعہ لڑکی میں دلچسپی رکھتا ہوں، میں یہ معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ اسلام کی روشنی میں سنی ہوتے ہوئے شیعہ لڑکی سے شادی کرنے میں مسئلہ تو نہیں، اس کے علاوہ کیا کچھ چیزوں کا خیال کرنا ہوگا؟

 الجواب وباللہ التوفیق

جس شیعہ   کےکفریہ عقائدہوں مثلاً حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگانا یاحضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی صحابیت  اور خلافت کا انکار کرنایا شیخین کوگالیاں دینا اور ان پر لعن طعن کرنا، حضرت  علی رضی اللہ عنہ کی الوہیت کا قائل ہونا ،یاحضرت جبرئیل علیہ السلام کے متعلق اعتقادرکھنا کہ انہوں نے رسول اللہ   کے پاس وحی پہنچانے میں غلطی کی یا تحریف قرآن کا قائل ہونا یا اورکوئی ایساعقیدہ رکھنا جو صریح قرآن وحدیث اجماع اور نصوص قطعیہ کے مخالف ہے تووہ کافرہے،اس لئے  اس سے نکاح حرام ہے، اور جس شیعہ کے اس طرح کفریہ عقائد نہیں ہیں تو پھر وہ فاسق ہے،اور  اس صورت میں نکاح کرنے سے نکاح تومنقعد ہوجاتا ہے،لیکن پھربھی اجتناب  ہی کیاجائے۔تاکہ مستقبل میں ان کی اولاد اور نسلوں کے دین وایمان کی حفاظت ہو۔

إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ(سورۃ الحجر : ۹)

إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالْإِفْكِ عُصْبَةٌ مِنْكُمْ لَا تَحْسَبُوهُ شَرًّا لَكُمْ بَلْ هُوَ خَيْرٌ لَكُمْ لِكُلِّ امْرِئٍ مِنْهُمْ مَا اكْتَسَبَ مِنَ الْإِثْمِ وَالَّذِي تَوَلَّى كِبْرَهُ مِنْهُمْ لَهُ عَذَابٌ عَظِيمٌ ۔لَوْلَا إِذْ سَمِعْتُمُوهُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بِأَنْفُسِهِمْ خَيْرًا وَقَالُوا هَذَا إِفْكٌ مُبِينٌ ۔ لَوْلَا جَاءُوا عَلَيْهِ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَإِذْ لَمْ يَأْتُوا بِالشُّهَدَاءِ فَأُولَئِكَ عِنْدَ اللَّهِ هُمُ الْكَاذِبُونَ ۔وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ لَمَسَّكُمْ فِي مَا أَفَضْتُمْ فِيهِ عَذَابٌ عَظِيمٌ۔إِذْ تَلَقَّوْنَهُ بِأَلْسِنَتِكُمْ وَتَقُولُونَ بِأَفْوَاهِكُمْ مَا لَيْسَ لَكُمْ بِهِ عِلْمٌ وَتَحْسَبُونَهُ هَيِّنًا وَهُوَ عِنْدَ اللَّهِ عَظِيمٌ ۔وَلَوْلَا إِذْ سَمِعْتُمُوهُ قُلْتُمْ مَا يَكُونُ لَنَا أَنْ نَتَكَلَّمَ بِهَذَا سُبْحَانَكَ هَذَا بُهْتَانٌ عَظِيمٌ۔يَعِظُكُمُ اللَّهُ أَنْ تَعُودُوا لِمِثْلِهِ أَبَدًا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ (سورۃ النور: ۱۱ تا ۱۷)

وَلَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكَاتِ حَتَّى يُؤْمِنَّ وَلَأَمَةٌ مُؤْمِنَةٌ خَيْرٌ مِنْ مُشْرِكَةٍ وَلَوْ أَعْجَبَتْكُمْ وَلَا تُنْكِحُوا الْمُشْرِكِينَ حَتَّى يُؤْمِنُوا وَلَعَبْدٌ مُؤْمِنٌ خَيْرٌ مِنْ مُشْرِكٍ وَلَوْ أَعْجَبَكُمْ أُولَئِكَ يَدْعُونَ إِلَى النَّارِ وَاللَّهُ يَدْعُو إِلَى الْجَنَّةِ وَالْمَغْفِرَةِ بِإِذْنِهِ وَيُبَيِّنُ آيَاتِهِ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ۔( سورۃ البقرۃ: ۲۲۱)

''ان الرافضی ان کان ممن یعتقد الالوہیة فی علی اوان جبریل غلط فی الوحی اوکان ینکرصحبة الصدیق اویقذف السیدة الصدیقة فہوکافر لمخالفتہ القواطع المعلومة من الدین بالضرورة بخلاف مااذاکان یفضل علیااویسب الصحابة فانہ مبتدع لاکافر''…(فتاویٰ شامی:٣١٤/٢)

وقال شیخ الاسلام ابن تیمیة قال القاضی ابویعلی من قذف عائشة بمابرء ہا اللہ تعالی منہ کفربلاخلاف ''…(مجموعہ رسائل ابن عابدین :٣٥٨/١)

وانا لہ لحفظون من التحریف والزیادة والنقصان ولایتطرق الیہ الخلل ابدا……ویل للرافضة حیث قالوا قدتطرق الخلل الی القرآن وقالوا ان عثمان وغیرہ حرقوہ القوہ منہ عشرة اجزاء ''…(تفسیرالمظہری : ١٥٥/٥)''

۔''نعم لاشک فی تکفیر من قذف السیدة عائشة رضی اللہ عنہا اوانکرصحبة الصدیق اواعتقد الالوہیة فی علی اوان جبریل غلط فی الوحی اونحوذلک من الکفر الصریح المخالف للقرآن''…(ردالمحتار:٣/٣٢١)

''اقول نعم نقل فی البزازیة عن الخلاصة ان الرافضی اذاکان یسب الشیخین ویلعنہما فہو کافر وان کان یفضل علیا علیہما فہو مبتدع اھ وہذا لایستلزم عدم قبول التوبة علی ان الحکم علیہ بالکفر مشکل لمافی الاختیار اتفق الائمةعلی تضلیل اہل البدع اجمع وتخطئتہم وسب احد من الصحابة وبعضہ لایکون کفرا لکن یضلل''…(ردالمحتار:٣/٣٢١)''

ومنہا اسلام الرجل اذاکانت المرء ة مسلمة فلایجوز انکاح المؤمنة الکافر لقولہ تعالی ولاتنکحوا المشرکین حتی یؤمنوا''…(بدائع الصنائع : ٢/٥٥٤)

واللہ اعلم بالصواب