Saturday | 24 August 2019 | 23 Dhul-Hajj 1440

Fatwa Answer

Question ID: 376 Category: Permissible and Impermissible
Aborting pregnancy

Assalaamualaikum,

I have recently had a miscarriage and went into severe depression, have been on medications for the last 3 months which are not safe for the baby. And I have thyroid problems and the recent blood test results came out abnormal. My doctor is adjusting the medications. I already have 3 kids and it has been difficult for me to take care of my family because of my poor health. Now I am pregnant again for about 4 weeks.

Is it Islamically allowed to terminate the pregnancy?

Please advise.

الجواب وباللہ التوفیق

In the enquired situation if some expert experienced Muslim doctors mention the apprehension of danger for you or the pregnancy, or you can’t tolerate the load of pregnancy, or there is risk of physical or mental disease then in that condition it is permissible to abort the pregnancy before the first 4 months complete, otherwise no.

ویکرہ أن تسقی لإسقاط حملہا، وجاز لعذر حیث لایتصور، قال الشامی: وقدروا تلک المدۃ بمائۃ و عشرین یوما و جاز لأنہ لیس بآدمی وفیہ صیانۃ الآدمی، خانیۃ: (حیث لا یتصور) قال الشامی: قید لقولہ وجاز لعذ والتصور کمافی القنیۃ: أن یظہر لہ شعر أو إصبع أو رجل أو نحو ذٰلک۔ (در مختار مع الشامی، کتاب الحظر والإباحۃ، باب الاستبراء وغیرہ، زکریا ۹/۶۱۵، کراچی ۶/۴۲۹)

العلاج لإسقاط الولد إذا استبان خلقہ کالشعر والظفر ونحوہما لایجوز، وإن کان غیر مستبین الخلق یجوز وخلقہ لا یستبین إلا بعد مائۃ و عشرین یوما۔ (ہندیہ، الباب الثامن عشر فی التداوی والمعالجات زکریا قدیم ۵/۳۵۶، جدید ۵/۴۱۲)

’’لا یجوز استعمال دواء لمنع الحمل و اذا امسک الرحم المنی فلا یجوز للزوجین و لا لاحدھما لا للسید التسبب فی اسقاطہ قبل الخلق علی المشھور ‘‘ (۱)فتح العلی المالکی : ۱/۳۹۹۔

واللہ اعلم بالصواب

 

Question ID: 376 Category: Permissible and Impermissible
اسقاط حمل

السلام علیکم

حال ہی میں  میرا اسقاط حمل ہوگیا اور میں شدید ڈیپریشن میں چلی گئی ،پچھلے تین مہینوں سے میں ایسی دوائیاں استعمال کررہی ہوں جو حمل میں بچے کے لیے ٹھیک نہیں ہیں، اس کے ساتھ مجھے تھائرائڈ (گلے کے غدود اور  ہارمونز) کی بیماری بھی ہے جس کے ٹیسٹ کے نتائج صحیح نہیں  آئے اور ڈاکٹر اس کی دوائی کو گھٹیا ۔۔۔۔۔ رہی ہے، میرے پہلے ہی تین بچے ہیں اور میری لیے اپنی کمزور صحت کی وجہ سے اپنی فیملی (گھروالوں) کا  خیال دیکھ بھال کرنا مشکل رہا ہے، اب میں پھر چار ہفتے سے حاملہ ہوں، کیا اسلام کے مطابق خود سے اسقاط حمل کرانے کی اجازت ہے ؟

 

الجواب وباللہ التوفیق

صورت مسؤلہ میں اگر ماہر تجربہ کار مسلم ڈاکٹر آپ کے لئے یاحمل کے لئے نقصان  کا اندیشہ بتلاتے ہوں،یا آپ حمل کابوجھ برداشت نہیں کرسکتی ہیں ،یا جسمانی یا دماغی بیماری کا خطرہ ہو تو اس صورت میں حمل کو چار ماہ گزرنے سے قبل تک ساقط کرواناجائز ہے،ورنہ نہیں۔

ویکرہ أن تسقی لإسقاط حملہا، وجاز لعذر حیث لایتصور، قال الشامی: وقدروا تلک المدۃ بمائۃ و عشرین یوما و جاز لأنہ لیس بآدمی وفیہ صیانۃ الآدمی، خانیۃ: (حیث لا یتصور) قال الشامی: قید لقولہ وجاز لعذ والتصور کمافی القنیۃ: أن یظہر لہ شعر أو إصبع أو رجل أو نحو ذٰلک۔ (در مختار مع الشامی، کتاب الحظر والإباحۃ، باب الاستبراء وغیرہ، زکریا ۹/۶۱۵، کراچی ۶/۴۲۹)

العلاج لإسقاط الولد إذا استبان خلقہ کالشعر والظفر ونحوہما لایجوز، وإن کان غیر مستبین الخلق یجوز وخلقہ لا یستبین إلا بعد مائۃ و عشرین یوما۔ (ہندیہ، الباب الثامن عشر فی التداوی والمعالجات زکریا قدیم ۵/۳۵۶، جدید ۵/۴۱۲)

’’ لا یجوز استعمال دواء لمنع الحمل و اذا امسک الرحم المنی فلا یجوز للزوجین و لا لاحدھما لا للسید التسبب فی اسقاطہ قبل الخلق علی المشھور ‘‘ (۱)فتح العلی المالکی : ۱/۳۹۹۔

واللہ اعلم بالصواب