Thursday | 14 November 2019 | 17 Rabiul-Awal 1441

Fatwa Answer

Question ID: 391 Category: Permissible and Impermissible
Allowed make up for wife to please her Husband

Assalamualaikum,

There are few questions listed below, please answer:

1.What is permissible make up a wife can use for his husband?

2. Can a wife remove her hairs on hands and legs for husband (if husband demands)?

3. Can a wife use lipstick for husband?

4. Can a wife use perfume for husband?

5. Can she wear skinny clothes and such clothes in which her skin in visible for husband?

6. Finally please elaborate every permissible extend of make up that a wife can do to please her husband.

الجواب وباللہ التوفیق

1 It’s permissible for the wife to do makeup for the husband.

2 She can remove hair from the arms and the legs on demand from the husband. If there is no demand still the hair can be removed but it’s against the respect.

3 It’s permissible to use lipstick for the husband.

4 Use of fragrance is also permissible.

5 There is also room for her to wear skinny clothes and such clothes in which her skin in visible for the husband.

6 It feels appropriate here to mention few points which are important to consider when doing the makeup:

  a  There should not be showoff or the desire for fame.

  b  There should not be boasting or pride.

  c  Impermissible ingredients such as pork fat shouldn’t be mixed.

  d  Lipstick or makeup etc. shouldn’t be such that it becomes hindrance for the wudu or ghusl, otherwise it will be mandatory to remove it and then do wudu or ghusl.

  e There shouldn’t be resemblance of the Non-Muslim, un-chaste, and immoral women.

  f  Changes shouldn’t be made in the creation of Allaah T’aalaa that to beautify the body changes be made in the creation, e.g., un-necessarily making up the eye brows, piercing, getting tattoos, getting eye lashes done, getting teeth widened.

  g  Shouldn’t make the hair short.

  h  Shouldn’t open the private area of the woman’s body or certain limbs in front of strange men or women.

  i   Shouldn’t do extravagancy.

  j  Shouldn’t have the resemblance with the men.

عن ابن عمر قال : قال رسول اللّٰہ ﷺ : ’’ من تشبہ بقوم فہو منہم ‘‘ ۔ (سنن ابی داود: ص/۵۵۹ ، کتا ب اللباس)

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كُلْ مَا شِئْتَ ، وَالْبَسْ مَا شِئْتَ ، مَا أَخْطَأَتْك خُلَّتَانِ : سَرَفٌ ، أَوْ مَخِيلَةٌ.(صحیح بخاری:کتاب اللباس ، باب قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللَّهِ الَّتِى أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ )

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لُعِنَتِ الْوَاصِلَةُ وَالْمُسْتَوْصِلَةُ وَالنَّامِصَةُ وَالْمُتَنَمِّصَةُ وَالْوَاشِمَةُ وَالْمُسْتَوْشِمَةُ مِنْ غَيْرِ دَاءٍ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَتَفْسِيرُ الْوَاصِلَةِ الَّتِى تَصِلُ الشَّعْرَ بِشَعْرِ النِّسَاءِ وَالْمُسْتَوْصِلَةُ الْمَعْمُولُ بِهَا وَالنَّامِصَةُ الَّتِى تَنْقُشُ الْحَاجِبَ حَتَّى تَرِقَّهُ وَالْمُتَنَمِّصَةُ الْمَعْمُولُ بِهَا وَالْوَاشِمَةُ الَّتِى تَجْعَلُ الْخِيلاَنَ فِى وَجْهِهَا بِكُحْلٍ أَوْ مِدَادٍ وَالْمُسْتَوْشِمَةُ الْمَعْمُولُ بِهَا. (سنن ابی داود: ۴۱۷۲)

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَعَنَ اللَّهُ الْوَاشِمَاتِ وَالْمُسْتَوْشِمَاتِ. قَالَ مُحَمَّدٌ وَالْوَاصِلاَتِ وَقَالَ عُثْمَانُ وَالْمُتَنَمِّصَاتِ ثُمَّ اتَّفَقَا وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ(سنن ابی داود: ۴۱۷۱)

’’ من تشبہ بقوم ‘‘ ہذا عام في الخلق والخلق والشعار وإذا کان الشعار أظہر في التشبہ ۔ (شرح الطیبی : ۸/۲۳۲، رقم :۴۳۷۴)

 (من تشبہ بقوم) أي تزیا في ظاہرہ بزیہم وفي تعرفہ بفعلہم وفي تخلقہ بخلقہم وسار بسیرتہم وہدیہم في ملبسہم وبعض أفعالہم وقال بعضہم : قد یقع التشبہ في أمور قلبیۃ من الاعتقادات وإرادات وأمور خارجیۃ ، من أقوال وأفعال قد تکون عبادات وقد تکون عادات في نحو طعام ولباس ومسکن ونکاح واجتماع وافتراق وسفر وإقامۃ ورکوب وغیرہا ، وبین الظاہر والباطن ارتباط ومناسبۃ وقد بعث اللّٰہ المصطفی ﷺ بالحکمۃ التي ہي سنۃ وہي الشرعۃ والمنہاج الذي شرعہ لہ فکان مما شرعہ لہ من الأقوال والأفعال ما یباین سبیل المغضوب علیہم والضآلّین فأمر بمخالفتہم في الہدي الظاہر في ہذا الحدیث ، وإن لم یظہر فیہ مفسدۃ لأمور - منہا أن المشارکۃ في الہدي في الظاہر تؤثر تناسبا وتشاکلا بین المتشابہین تعود إلی موافقۃ ما في الأخلاق والأعمال ، وہذا أمر محسوس ۔ اھـ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ وقال ابن تیمیۃ : ہذا الحدیث أقل أحوالہ أن یقتضي تحریم التشبہ بأہل الکتاب وإن کان ظاہرہ یقتضي کفر المتشبہ بہم فکما في قولہ تعالی : {ومن یتولّہم منکم فإنہ منہم} وہو نظیر قول ابن عمرو : من بنی بأرض المشرکین وصنع نیروزہم ومہرجانہم وتشبہ بہم حتی یموت حشر یوم القیامۃ معہم ، فقد حمل ہذا علی التشبہ المطلق فإنہ یوجب الکفر ویقتضي تحریم أبعاض ذلک ، وقد یحمل منہم في القدر المشترک الذي شابہہم فیہ فإن کان کفرا أو معصیۃ أو شعارا لہا کان حکمہ کذلک ۔ (فیض القدیر: ۶/۱۰۴ ، رقم :۸۵۹۳ ، ط : دار المعرفۃ بیروت لبنان)

واللہ اعلم بالصواب

Question ID: 391 Category: Permissible and Impermissible
عورت کا پرفیوم، لپ اسٹک،پیر کے بالوں کی صفائی،اور نائٹ ڈریس پہننا

السلام علیکم

برائے مہربانی مندرجہ ذیل سوالات کا جواب دیجئے:

۱)ایک بیوی اپنے خاوند کے لیے کیا سنگھار کرسکتی ہےجس  کی اسلام میں اجازت ہے؟

۲)کیا ایک بیوی اپنی ٹانگوں اور بازوؤں سے بال صاف کرسکتی ہے (اگرخاوند مطالبہ کرے؟)

۳)کیا ایک بیوی اپنے خاوند کے لیے ہونٹوں پر سرخی لگا سکتی ہے؟

۴)کیا ایک بیوی اپنے خاوند کے لیے خوشبو(پرفیوم عطر) لگا سکتی ہے؟

۵)کیا وہ خاوند کے لیے جسم سے چپکنے والے کپڑے اور ایسے کپڑے جن میں سے خاوند کے لیے اس کی کھال دکھائی دے، پہن سکتی ہے؟

۶)برائے مہربانی ایسا پرمباح حد تک سنگھار بتادیجئے جو ایک بیوی اپنے خاوند کو خوش کرنے اور رضی کرنے ؍رکھنے کے لیے کرسکتی ہے؟

الجواب وباللہ التوفیق

(۱)بیوی کا شوہر کے لئے سنگھار کرنا جائز ہے۔(۲)خاوند کے مطالبہ پر پیروں وغیرہ کے بالوں کی صفائی کرسکتے ہیں،اگر مطالبہ نہ ہو  تب بھی بال صاف کئے جاسکتے ہیں لیکن خلاف ادب ہے۔(۳) شوہر کے لئے لپ اسٹک لگانا بھی جائز ہے۔(۴) خوشبو کا استعمال بھی جائز ہے۔(۵)شوہر کے لئے اس کی بھی گنجائش  ہے۔(۶)یہاں چند باتوں کا ذکر مناسب معلوم ہوتا ہے جن کی میک اپ کے وقت رعایت ضروری ہے۔(۱) ریا کاری اور شہرت  نہ ہو۔(۲)تفاخر اور تکبر نہ ہو۔(۳)ناجائز چیزیں مثلا خنزیر کی چربی وغیرہ ملی ہوئی نہ ہوں۔(۴)لپ اسٹک یا میک اپ  وغیرہ ایسا نہ ہو کہ وضو یا غسل سے مانع بن جائے۔ ورنہ اس کو صاف کرکے وضو یا غسل کرنا ضروری ہوگا۔(۵)غیروں اور فاسقہ اور فاجرہ عورتوں کی مشابہت نہ ہو۔(۶)تغییر لخلق اللہ نہ ہوکہ جسم کی تزیین میں خلقت کی تبدیلی نہ ہوجائے،مثلا بلا ضرورت ابرو بنانا،گدوانا،ٹیٹو بنانا،پلکیں بنانا،دانتوں میں کشادگی پیداکرنا۔(۷) بال چھوٹے نہ کرنا ۔ (۸)اجنبی مردوں یا عورتوں کے سامنے  ستر اور اعضاء جسم کو نہ کھولنا۔ (۹) فضول خرچی نہ کرنا (۱۰)مردوں کی مشابہت اختیار  نہ کرنا ۔

عن ابن عمر قال : قال رسول اللّٰہ ﷺ : ’’ من تشبہ بقوم فہو منہم ‘‘ ۔ (سنن ابی داود: ص/۵۵۹ ، کتا ب اللباس)

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كُلْ مَا شِئْتَ ، وَالْبَسْ مَا شِئْتَ ، مَا أَخْطَأَتْك خُلَّتَانِ : سَرَفٌ ، أَوْ مَخِيلَةٌ.(صحیح بخاری:کتاب اللباس ، باب قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللَّهِ الَّتِى أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ )

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لُعِنَتِ الْوَاصِلَةُ وَالْمُسْتَوْصِلَةُ وَالنَّامِصَةُ وَالْمُتَنَمِّصَةُ وَالْوَاشِمَةُ وَالْمُسْتَوْشِمَةُ مِنْ غَيْرِ دَاءٍ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَتَفْسِيرُ الْوَاصِلَةِ الَّتِى تَصِلُ الشَّعْرَ بِشَعْرِ النِّسَاءِ وَالْمُسْتَوْصِلَةُ الْمَعْمُولُ بِهَا وَالنَّامِصَةُ الَّتِى تَنْقُشُ الْحَاجِبَ حَتَّى تَرِقَّهُ وَالْمُتَنَمِّصَةُ الْمَعْمُولُ بِهَا وَالْوَاشِمَةُ الَّتِى تَجْعَلُ الْخِيلاَنَ فِى وَجْهِهَا بِكُحْلٍ أَوْ مِدَادٍ وَالْمُسْتَوْشِمَةُ الْمَعْمُولُ بِهَا. (سنن ابی داود: ۴۱۷۲)

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَعَنَ اللَّهُ الْوَاشِمَاتِ وَالْمُسْتَوْشِمَاتِ. قَالَ مُحَمَّدٌ وَالْوَاصِلاَتِ وَقَالَ عُثْمَانُ وَالْمُتَنَمِّصَاتِ ثُمَّ اتَّفَقَا وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ(سنن ابی داود: ۴۱۷۱)

’’ من تشبہ بقوم ‘‘ ہذا عام في الخلق والخلق والشعار وإذا کان الشعار أظہر في التشبہ ۔ (شرح الطیبی : ۸/۲۳۲، رقم :۴۳۷۴)

 (من تشبہ بقوم) أي تزیا في ظاہرہ بزیہم وفي تعرفہ بفعلہم وفي تخلقہ بخلقہم وسار بسیرتہم وہدیہم في ملبسہم وبعض أفعالہم وقال بعضہم : قد یقع التشبہ في أمور قلبیۃ من الاعتقادات وإرادات وأمور خارجیۃ ، من أقوال وأفعال قد تکون عبادات وقد تکون عادات في نحو طعام ولباس ومسکن ونکاح واجتماع وافتراق وسفر وإقامۃ ورکوب وغیرہا ، وبین الظاہر والباطن ارتباط ومناسبۃ وقد بعث اللّٰہ المصطفی ﷺ بالحکمۃ التي ہي سنۃ وہي الشرعۃ والمنہاج الذي شرعہ لہ فکان مما شرعہ لہ من الأقوال والأفعال ما یباین سبیل المغضوب علیہم والضآلّین فأمر بمخالفتہم في الہدي الظاہر في ہذا الحدیث ، وإن لم یظہر فیہ مفسدۃ لأمور - منہا أن المشارکۃ في الہدي في الظاہر تؤثر تناسبا وتشاکلا بین المتشابہین تعود إلی موافقۃ ما في الأخلاق والأعمال ، وہذا أمر محسوس ۔ اھـ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ وقال ابن تیمیۃ : ہذا الحدیث أقل أحوالہ أن یقتضي تحریم التشبہ بأہل الکتاب وإن کان ظاہرہ یقتضي کفر المتشبہ بہم فکما في قولہ تعالی : {ومن یتولّہم منکم فإنہ منہم} وہو نظیر قول ابن عمرو : من بنی بأرض المشرکین وصنع نیروزہم ومہرجانہم وتشبہ بہم حتی یموت حشر یوم القیامۃ معہم ، فقد حمل ہذا علی التشبہ المطلق فإنہ یوجب الکفر ویقتضي تحریم أبعاض ذلک ، وقد یحمل منہم في القدر المشترک الذي شابہہم فیہ فإن کان کفرا أو معصیۃ أو شعارا لہا کان حکمہ کذلک ۔ (فیض القدیر: ۶/۱۰۴ ، رقم :۸۵۹۳ ، ط : دار المعرفۃ بیروت لبنان)

واللہ اعلم بالصواب