Thursday | 14 November 2019 | 17 Rabiul-Awal 1441

Fatwa Answer

Question ID: 394 Category: Permissible and Impermissible
Handshake with the opposite gender

Assalamualaikum,

I am living in the middle east and I work as a doctor. Over here, it is easy to refuse a woman's handshake as the culture allows. Although, professionally I have to touch the female gender when I examine them as a patient. I will be moving to USA in a few months and am a little concerned about greeting the opposite gender over there, especially during interviews, or other meetings. 

Is it permissable for a man to shake a woman's hand? What if the woman is aged more than 55 years. 

Further, if it is not permissable, what is the best way to avoid handshake without being offensive? You know these days there is a fitna that islam is demeaning woman and if a man refuses handshake with a woman, he is apparently, demeaning her.

Appreciate your sincere advice.

 

الجواب وباللہ التوفیق

Islamic culture is the best culture. No culture is a culture compared to Islam, and the Muslim society has got so much over-awed by the culture of the Non-Muslims that the Islamic culture, Islamic commandments, and the Sunnats of Nabi ﷺ has become low-value and unimportant. We show no care while we are exercising negligence towards the Sunnats and the Islamic commandments. We do care for the apparent happiness and unhappiness of the Non-Muslims who are the rebels to Nabi ﷺ and the enemies to Islam and the Muslims. Therefore, keep in front the Islamic commandments, if they feel bad then let them feel bad, to please them we can’t displease Allaah T’aalaa.

After this short preface the summary of the answers is this that it’s Haraam to shake hands with a strange woman, especially when the she is a young woman. Nabi ﷺ also used to take pledge from the women, but his pledge used to be via a cloth, neither he would shake hands with any woman nor he would touch any. However, there is room to shake hands with a 65, 70 years old woman whom a person doesn’t feel lust towards. If there is apprehension of lust like nowadays old women also adorn themselves this way then there is no room for that either. Nevertheless, you could do this much that without shaking hands you use courteous and polite words.

As far as the medical evaluation is concerned, if lady doctor is not available and it’s also necessary to see the patient then there is room to touch her as needed, without lust, otherwise not.

اعْلَمْ : أَنَّهُ لَا يَجُوزُ لِلرَّجُلِ الْأَجْنَبِيِّ أَنْ يُصَافِحَ امْرَأَةً أَجْنَبِيَّةً مِنْهُ . وَلَا يَجُوزُ لَهُ أَنْ يَمَسَّ شَيْءٌ مِنْ بَدَنِهِ شَيْئًا مِنْ بَدَنِهَا .

وَالدَّلِيلُ عَلَى ذَلِكَ أُمُورٌ :

الْأَوَّلُ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَبَتَ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ : «إِنِّي لَا أُصَافِحُ النِّسَاءَ» ، الْحَدِيثَ . وَاللَّهُ يَقُولُ : لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ [33 \ 21] ، فَيَلْزَمُنَا أَلَّا نُصَافِحَ النِّسَاءَ اقْتِدَاءً بِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَالْحَدِيثُ الْمَذْكُورُ مُوَضَّحٌ فِي سُورَةِ «الْحَجِّ» ، فِي الْكَلَامِ عَلَى النَّهْيِ عَنْ لُبْسِ الْمُعَصْفَرِ مُطْلَقًا فِي الْإِحْرَامِ وَغَيْرِهِ لِلرِّجَالِ . وَفِي سُورَةِ «الْأَحْزَابِ» ، فِي آيَةِ الْحِجَابِ هَذِهِ .

وَكَوْنُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُصَافِحُ النِّسَاءَ وَقْتَ الْبَيْعَةِ دَلِيلٌ وَاضِحٌ عَلَى أَنَّ الرَّجُلَ لَا يُصَافِحُ الْمَرْأَةَ ، وَلَا يَمَسُّ شَيْءٌ مِنْ بَدَنِهِ شَيْئًا مِنْ بَدَنِهَا ; لِأَنَّ أَخَفَّ أَنْوَاعِ اللَّمْسِ الْمُصَافَحَةُ ، فَإِذَا امْتَنَعَ مِنْهَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْوَقْتِ الَّذِي يَقْتَضِيهَا وَهُوَ وَقْتُ الْمُبَايَعَةِ ، دَلَّ ذَلِكَ عَلَى أَنَّهَا لَا تَجُوزُ ، وَلَيْسَ لِأَحَدٍ مُخَالَفَتُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لِأَنَّهُ هُوَ الْمُشَرِّعُ لِأُمَّتِهِ بِأَقْوَالِهِ وَأَفْعَالِهِ وَتَقْرِيرِهِ .

أَنَّ الْمَرْأَةَ كُلَّهَا عَوْرَةٌ يَجِبُ عَلَيْهَا أَنْ تَحْتَجِبَ ، وَإِنَّمَا أَمَرَ بِغَضِّ الْبَصَرِ خَوْفَ الْوُقُوعِ فِي الْفِتْنَةِ (اضواء البیان :۶/۲۵۷)

وما حل نظرہ مما مر من ذکر أو أنثی حل لمسہ إذا أمن الشہوۃ ۔۔۔۔۔إلا من أجنبیۃ فلا یحل مس وجہہا وکفہا و إن أمن الشہوۃ لأنہ أغلظ ولذا تثبت بہ حرمۃ المصاہرۃ وہذا فی الشابۃ، أما العجوز التی لا تشتہی فلا بأس بمصافحتہا و مس یدہا إذا أمن۔ (الدر المختار مع الشامی، کتاب الحظر والإباحۃ، باب الاستبراء، ۹/۵۲۹)

اذا سلمت المرأة الأجنبیة علی رجل، إن کانت عجوزًا ردّ الرجل عیہا السلام بلسانہ بصوت تسمع، وإن کانت شابةً، ردّ علیہا في ن فسہ․ (الدر المختار مع رد المحتار: ۹/ ۴۴۹- ۴۵۰، کتاب الحظر والإباحة، فصل في النظر والمس)

ابتلی بعض المسلمین في ھذا العصر بتقلید غیرہم في مصافحۃ المرأۃ الأجنبیۃ والانحناء بحجۃ احترامہا، وہذا أمر مناف لأحکام الشرع ومخالف لہدي النبيﷺ الذي لم تمس یدہ ید امرأۃ أجنبیۃ قط۔(نزھۃ المتقین:۱؍۵۹۸)

“وفی شرح التنویر: ومداواتھا، ینظر الطبیب الٰی موضع مرضھا بقدر الضرورة۔ اذا لضرورات تتقدر بقدرھا۔ وکذا نظر قابلة وختان۔ وینبغی ان یعلم امرأة تداویھا لأن نظر الجنس الی الجنس اخف۔ وفی الشامیة: قال فی الجوھرة: اذا کان المرض فی سائر بدنھا غیر الفرج یجوز النظر الیہ عند الدوا لأنہ موضع ضرورة۔ وان کان فی موضع الفرج فینبغی ان یعلم امرأة تداویھا، فان لم توجد وخافوا علیھا ان تھلک او یصیبھا وجع لا تحتملہ، یستروا منھا کل شیٴ الا موضع العلة ثم یداویھا الرجل ویغض بصرہ ما استطاع الا عن موضع الجرح ․․․․ الخ۔ فتأمل والظاھر ان ینبغی ھنا للوجوب۔                  (رَدّ المحتار ج:۶ ص:۷۱)

واﷲ اعلم بالصواب

Question ID: 394 Category: Permissible and Impermissible
اجنبی عورت سے مصافحہ

السلام علیکم

میں مشرق وسطیٰ میں رہ رہا ہوں اور ایک ڈاکٹر کا کام کرتا ہوں، یہاں کسی عورت سے  ہاتھ ملانے کا انکار کرنا آسان ہے کیونکہ یہاں کی تہذیب اس کی اجازت دیتی ہے، حالانکہ پیشہ کے طور پر مجھے مریض؍ خواتین کو معائنہ کے لیے ہاتھ لگانا پڑتا ہے، چند مہینوں میں میں امریکہ میں رہنے لگوں گا اور مجھے وہاں، خواتین کو ملنے کے بارے میں الجھن ہے،خاص طور پر انٹرویو اور دوسری میٹنگز کے دوران۔کیا مرد کا عورت سے ہاتھ ملانا جائز ہے؟ اس صورت میں کیا حکم ہے اگر عورت ۵۵ سال سے زیادہ عمر کی ہے؟

مزیدبرآں اگر یہ جائز نہیں ہے تو ہاتھ ملانے سے بچنے کی سب سے بہترین صورت  کیا ہے کہ سامنے والی کو برا بھی محسوس نہ ہو؟ آپ  جانتے ہیں کہ آج کل یہ فتنہ پردازی ہے کہ اسلام عورتوں کو کم حیثیت کرنے میں  اور اگر ایک مرد کسی عورت سے  ہاتھ ملانے سے انکار کررہا ہے تو وہ ظاہراً اس کی ہتک کررہا ہے میں آپ کی مخلصانہ رہنمائی پر تعریف گو ہوں۔

والسلام

الجواب وباللہ التوفیق

اسلامی تہذیب سب سے بہترین تہذیب ہے،اسلام کے مقابلہ میں کوئی تہذیب تہذیب نہیں ہے،اور غیروں کی تہذیب  اور ان کے تمدن سے مسلم معاشرہ اتنا مرعوب ہوگیا ہے کہ اسلامی تہذیب اور اسلامی احکام اور نبی کی سنتیں اس کی نظروں میں ہلکی اور بے اہمیت ہوگئیں ہیں، سنتوں  اور احکام اسلام سے ہم غفلت برت رہے ہیں تو اس کی ہمیں کوئی پرواہ نہیں ہے،لیکن غیروں کی ظاہری خوشی اور ان کے ناراض ہونے کی ہم کو پرواہ ہے،جو نبی کے باغی  اسلام اور مسلمان دشمن ہیں،اس لئے اسلامی  احکام کو مد نظر رکھیں ،اگروہ برا مانیں تو مانیں ،ان کو راضی کرکے ہم اللہ کو ناراض تو نہیں کرسکتے۔

اس مختصر سی تمہید کے بعد جوابات کا خلاصہ یہ ہےکہ   اجنبی عورت سے ہاتھ ملانا حرام ہے،خاص طور پر جب کہ عورت جوان ہو،نبی اکرم ﷺ عورتوں سے بھی بیعت لیا کرتے تھے ،لیکن آپ کی بیعت کپڑے کے ذریعہ ہوتی تھی، نہ کسی سے  آپ مصافحہ کرتے اور نہ کسی کو چھوتے۔  البتہ ۶۵ ۷۰ سال کی بوڑھی عورت جس سے شہوت نہ ہو اس سے مصافحہ کی گنجائش ہے، اگر شہوت کا اندیشہ ہو جیساکہ آج کے زمانے میں بوڑھی عورتیں بھی اس طرح تیار ہوتی ہیں  تو  پھر اس کی گنجائش نہیں ہے۔،البتہ اتنا آپ کرسکتے ہیں کہ ہاتھ ملائے بغیر آپ  ان کو بٹھانے کے لئے کچھ مہذب اور شائستہ الفاظ استعمال کریں۔

رہا معائنہ کا مسئلہ تو اگر خاتون ڈاکٹر میسر نہ ہو اور مریض کو دیکھنا بھی ضروری ہوتو بقدر ضرورت بلاشہوت  ہاتھ لگانے کی گنجائش ہے۔ورنہ نہیں

اعْلَمْ : أَنَّهُ لَا يَجُوزُ لِلرَّجُلِ الْأَجْنَبِيِّ أَنْ يُصَافِحَ امْرَأَةً أَجْنَبِيَّةً مِنْهُ . وَلَا يَجُوزُ لَهُ أَنْ يَمَسَّ شَيْءٌ مِنْ بَدَنِهِ شَيْئًا مِنْ بَدَنِهَا .

وَالدَّلِيلُ عَلَى ذَلِكَ أُمُورٌ :

الْأَوَّلُ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَبَتَ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ : «إِنِّي لَا أُصَافِحُ النِّسَاءَ» ، الْحَدِيثَ . وَاللَّهُ يَقُولُ : لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ [33 \ 21] ، فَيَلْزَمُنَا أَلَّا نُصَافِحَ النِّسَاءَ اقْتِدَاءً بِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَالْحَدِيثُ الْمَذْكُورُ مُوَضَّحٌ فِي سُورَةِ «الْحَجِّ» ، فِي الْكَلَامِ عَلَى النَّهْيِ عَنْ لُبْسِ الْمُعَصْفَرِ مُطْلَقًا فِي الْإِحْرَامِ وَغَيْرِهِ لِلرِّجَالِ . وَفِي سُورَةِ «الْأَحْزَابِ» ، فِي آيَةِ الْحِجَابِ هَذِهِ .

وَكَوْنُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُصَافِحُ النِّسَاءَ وَقْتَ الْبَيْعَةِ دَلِيلٌ وَاضِحٌ عَلَى أَنَّ الرَّجُلَ لَا يُصَافِحُ الْمَرْأَةَ ، وَلَا يَمَسُّ شَيْءٌ مِنْ بَدَنِهِ شَيْئًا مِنْ بَدَنِهَا ; لِأَنَّ أَخَفَّ أَنْوَاعِ اللَّمْسِ الْمُصَافَحَةُ ، فَإِذَا امْتَنَعَ مِنْهَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْوَقْتِ الَّذِي يَقْتَضِيهَا وَهُوَ وَقْتُ الْمُبَايَعَةِ ، دَلَّ ذَلِكَ عَلَى أَنَّهَا لَا تَجُوزُ ، وَلَيْسَ لِأَحَدٍ مُخَالَفَتُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لِأَنَّهُ هُوَ الْمُشَرِّعُ لِأُمَّتِهِ بِأَقْوَالِهِ وَأَفْعَالِهِ وَتَقْرِيرِهِ .

أَنَّ الْمَرْأَةَ كُلَّهَا عَوْرَةٌ يَجِبُ عَلَيْهَا أَنْ تَحْتَجِبَ ، وَإِنَّمَا أَمَرَ بِغَضِّ الْبَصَرِ خَوْفَ الْوُقُوعِ فِي الْفِتْنَةِ (اضواء البیان :۶/۲۵۷)

وما حل نظرہ مما مر من ذکر أو أنثی حل لمسہ إذا أمن الشہوۃ ۔۔۔۔۔إلا من أجنبیۃ فلا یحل مس وجہہا وکفہا و إن أمن الشہوۃ لأنہ أغلظ ولذا تثبت بہ حرمۃ المصاہرۃ وہذا فی الشابۃ، أما العجوز التی لا تشتہی فلا بأس بمصافحتہا و مس یدہا إذا أمن۔ (الدر المختار مع الشامی، کتاب الحظر والإباحۃ، باب الاستبراء، ۹/۵۲۹)

اذا سلمت المرأة الأجنبیة علی رجل، إن کانت عجوزًا ردّ الرجل عیہا السلام بلسانہ بصوت تسمع، وإن کانت شابةً، ردّ علیہا في ن فسہ․ (الدر المختار مع رد المحتار: ۹/ ۴۴۹- ۴۵۰، کتاب الحظر والإباحة، فصل في النظر والمس)

ابتلی بعض المسلمین في ھذا العصر بتقلید غیرہم في مصافحۃ المرأۃ الأجنبیۃ والانحناء بحجۃ احترامہا، وہذا أمر مناف لأحکام الشرع ومخالف لہدي النبيﷺ الذي لم تمس یدہ ید امرأۃ أجنبیۃ قط۔(نزھۃ المتقین:۱؍۵۹۸)

“وفی شرح التنویر: ومداواتھا، ینظر الطبیب الٰی موضع مرضھا بقدر الضرورة۔ اذا لضرورات تتقدر بقدرھا۔ وکذا نظر قابلة وختان۔ وینبغی ان یعلم امرأة تداویھا لأن نظر الجنس الی الجنس اخف۔ وفی الشامیة: قال فی الجوھرة: اذا کان المرض فی سائر بدنھا غیر الفرج یجوز النظر الیہ عند الدوا لأنہ موضع ضرورة۔ وان کان فی موضع الفرج فینبغی ان یعلم امرأة تداویھا، فان لم توجد وخافوا علیھا ان تھلک او یصیبھا وجع لا تحتملہ، یستروا منھا کل شیٴ الا موضع العلة ثم یداویھا الرجل ویغض بصرہ ما استطاع الا عن موضع الجرح ․․․․ الخ۔ فتأمل والظاھر ان ینبغی ھنا للوجوب۔                  (رَدّ المحتار ج:۶ ص:۷۱)

واللہ اعلم بالصواب