Thursday | 14 November 2019 | 17 Rabiul-Awal 1441

Fatwa Answer

Question ID: 416 Category: Permissible and Impermissible
Breastfeeding after 2.5years

Assalamualaikum,

My child is 2.5years old and is still breastfeeding. I have tried multiple times to wean him off but have been unsuccessful. He does not eat for days ad if i dont offer him my milk also, his weight has drastically dropped before. I have consulted with his doctor also, and she said he needs to have enough calories for his body to funtion and grow. Hes not getting that from food at all. She said to let him continue till he weans himself. Hes also in feeding therapy to get him to try new foods. I have tried everything to get him to eat solid and liquid food but he wont eat anything. His doctor also prescribed him hunger medicine but that hasnt worked either. When he gets hungry he wants milk, if not given he stay hungry all day and night. He gets very cranky because of hunger also of milk is not given. Please guide me if i can continue to breastfeed him? We are traveling to pakistan recently and he stays in diraraha the whole time we are there. Last time we went he was in dirraha for 2 weeks multiple times a day. His doctor says he needs to have enough liquid in himself of else he can fall very ill. If doesnt have my milk and no food either, it can be very dangerous for him with having diarrhea. Please guide me on what i should do? He is 2 and a half of age. I know we are not suppose to breastfeed after 2.5 but i don't understand on what i should do. 

الجواب وباللہ التوفیق

The duration of breastfeeding is actually two years. On account of helplessness and compulsion there is permission for 2.5 years. After that breastfeeding is absolutely Haraam. But if he is very weak and is not accepting other foods and this is harming him and there is risk of prolongation of this harm then in this condition, with consultation with some expert Muslim doctor, continue breastfeeding and have him habitual of other foods as soon as possible.

الضرورات تبیح المحظورات(الاشباہ والنطائر : ۱/۸۵)

قال العلامۃ المرغینانی: وہل یباح الارضاع بعد المدۃ قد قیل لا یباح لان اباحتہ ضروریۃ لکونہ جزء الادمی۔ (ہدایہ ۲:۳۵۱ کتاب الرضاع){۳} قال العلامۃ الحصکفی: ویثبت التحریم فی المدۃ فقط ولو بعد الفطام… ولم یبح الارضاع بعد مدتہ لانہ جزء آدمی والانتفاع بہ لغیر ضرورۃ حرام علی الصحیح۔ (الدرالمختار علی ہامش ردالمحتار ۲:۴۳۸ باب الرضاع)

واللہ اعلم بالصواب

 

Question ID: 416 Category: Permissible and Impermissible
ڈھائی سال بعد بوجہ شدید مجبوری دودھ پلانا)

السلام علیکم

میرا بچہ ڈھائی سال کا ہے اور ابھی تک میری چھاتی سے دودھ پی رہاہے، میں نے کئی دفعہ کوشش کی ہے کہ اسے دودھ چھڑانے پر آمادہ کروں لیکن میں ناکام رہی ہوں، وہ کئی دن تک کھاتا نہیں ہے جب میں اسے  اپنا دودھ نہیں پلاتی، جب میں نے  پہلے یہ کوشش کی تھی تو اس کا وزن بہت ہی گر گیا تھا، میں نے اس کی ڈاکٹر سے بھی مشورہ کیا ہے  تو اس نے کہا کہ بچے کو صحیح طرح   نقل وحرکت و کام کاج کرنے اور نشو نما پانے کے لئے خاطر خواہ حراروں کی ضرورت ہے اور اسے اتنے حرارے کھانے سے نہیں مل رہے ہیں، اس نے یہ کہا کہ اسے دودھ پینے دو یہاں تک کہ وہ خود ہی دودھ چھوڑ دے، میں اسے تربیتی جگہوں میں بھی لے جارہی ہوں تاکہ وہ نئی نئی کھانے کی چیزوں کو آزمائے ، میں نے ہر ممکن طریقہ استعمال کرلیا ہے  کہ اسے ٹھوس اور دقیق کھانے کی چیزوں پر لاؤں لیکن وہ کچھ نہیں کھاتا، اس کی ڈاکٹر نے اسے بھوک لگنے کی دوائیں  بھی  دی ہیں لیکن انہوں نے  بھی کچھ کام نہیں دیا، جب اسے  بھوک لگتی ہے وہ دودھ مانگتا ہے اور میں اسے اپنا دودھ نہیں پلاؤں تو وہ سارا دن رات بھوکا رہتا ہے۔ پھر وہ  بھوک سے بہت چڑ چڑا ہوجاتا ہے۔برائے مہربانی میری رہنمائی  فرمائیے کہ کیا میں اسے چھاتی سے اپنا دودھ پلانا جاری رکھ سکتی ہوں۔

جلدی ہم پاکستان جارہے ہیں  اور جب ہم وہاں  ہوتے ہیں تو اسے ہم وقت دست لگے رہتے ہیں، پچھلی دفعہ جب ہم وہاں تھے تو اسے مسلسل دو ہفتہ دن میں  کئی کئی دفعہ دست آتے رہے، ڈاکٹر نے کہا کہ اسے ضرورت  ہے کہ وہ اپنے جسم میں خاطر خواہ  دقیق مادہ رکھے ورنہ وہ بہت بیمار پڑجائے گا۔ اگر اسے میرا دودھ بھی نہ ملے  اور نہ ہی اور کوئی غذا، تو دست جاری رہنے کے ساتھ یہ اس کے لئے  بہت ہی خطرناک ہوسکتا ہے۔برائے مہربانی میری رہنمائ میری رہنمائی کیجئے کہ مجھے کیا کرنا چاہئے؟ مجھے معلوم ہے کہ ڈھائی سال کی عمر کے بعد ہمیں چھاتی سے دودھ نہیں پلانا چاہئے لیکن مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ مجھے کیا کرنا چاہئے ۔

 

الجواب وباللہ التوفیق

مدت رضاعت اصلا دو سال ہے،بوجہ مجبوری  ڈھائی سال  کی اجازت ہے،اس کے بعد بچہ کو دودھ پلانا قطعا حرام ہے،لیکن اگر وہ بہت ہی کمزور ہو اور دیگر غذاوں کو قبول نہیں کر رہا ہو  جس کی وجہ سے اس کو نقصان پہنچ رہا ہو اور اس نقصان میں طوالت کا اندیشہ ہو تو ایسی صورت میں کسی مسلمان ماہر ڈاکٹر کے مشورہ سے اسے جاری رکھیں اور جلد از جلد اسے دیگر غذاوں کی عادت ڈالیں۔

الضرورات تبیح المحظورات(الاشباہ والنطائر : ۱/۸۵)

قال العلامۃ المرغینانی: وہل یباح الارضاع بعد المدۃ قد قیل لا یباح لان اباحتہ ضروریۃ لکونہ جزء الادمی۔ (ہدایہ ۲:۳۵۱ کتاب الرضاع){۳} قال العلامۃ الحصکفی: ویثبت التحریم فی المدۃ فقط ولو بعد الفطام… ولم یبح الارضاع بعد مدتہ لانہ جزء آدمی والانتفاع بہ لغیر ضرورۃ حرام علی الصحیح۔ (الدرالمختار علی ہامش ردالمحتار ۲:۴۳۸ باب الرضاع)

واللہ  اعلم بالصواب