Monday | 21 October 2019 | 22 Safar 1441

Fatwa Answer

Question ID: 469 Category: Worship
Fidyah for prayers of 20 years

Assalamualaikum, 

I have a question regarding my father who passed away. He has 20 years of qaza prayers. If we have to pay his fidyah, how much would it be? 

Jazakallah

 الجواب وباللہ التوفیق

It is compulsory to give amount equal to one صدقۂ فطر (Sadaqah e Fitr) in lieu of every Salat, i.e., one would calculate five Fard Salat and one Witr equaling six Salat of each day for twenty years and would distribute equivalent wheat or its price among the poor. The amount of صدقۂ فطر (Sadaqah e Fitr) is one kilo and 575 gram wheat.

It should be clear that the Shara’i ruling for فدیہ (Fidyah) is that if the deceased has left money and has made will for the فدیہ (Fidyah) then it is compulsory for the heirs to pay the فدیہ (Fidyah) from one third of the inherited money. If there was no money inherited or money is inherited but there is no will or the money is too little then in this condition it is not compulsory on the heirs to give the فدیہ (Fidyah). If the heirs want to give the فدیہ (Fidyah) from the inherited money then everyone must agree to it. If someone wants to give it from their personal money then it would be a تبرع اور احسان (favor) and it is hoped from the being of Allaah Ta’alaa that the deceased would be relieved of the due upon him.

ولو مات وعلیہ صلوات فائتۃ وأوصی بالکفارۃ یعطی لکل صلوۃ نصف صاع من برّ کالفطرۃ، وکــذا حکم الوتر والصوم وإنما یعطی من ثلث مالہ، وفي الشامي: فیلزمہ ذٰلک من الثلث إن أوصی وإلا فلا یلزم الولي ذٰلک؛ لأنہا عبادۃ فلابد فیہا من الاختیار، فإذا لم یوص فات الشرط، فیسقط في حق أحکام الدنیا للتعذر، وأما إذا لم یوص فتطوع بہا الوارث فقد قال محمد في الزیادات: إنہ یجزیہ إن شاء اللّٰہ تعالیٰ۔ (شامي ۲؍۳۳-۵۳۲ ۔الفتاویٰ الہندیۃ ۱؍۱۲۵)

واللہ اعلم بالصواب

Question ID: 469 Category: Worship
۲۰ سالوں کی نمازوں کا فدیہ

السلام علیکم

میرا  سوال میرے والد کے بارے میں ہے جو فوت ہوگئے ہیں، ان کی بیس سال کی قضا نمازیں ہیں، اگر ہمیں ان کا فدیہ ادا کرنا ہو تو وہ کتنا ہوگا؟ 

جزاک اللہ

الجواب وبااللہ التوفیق

ہر نماز کے عوض ایک صدقۂ فطرکی مقدار دینی لازم ہے، یعنی ہر دن کی پانچ فرض نمازیں اور ایک وتر،کل ملا کر ایک دن کی چھ نمازوں کے اعتبار سے  ۲۰ سال میں کتنی نمازیں ہوتی ہیں اس کاحساب لگاکر اس کے بقدر گیہوں یا اس کی قیمت غرباء میں تقسیم کردیں۔ صدقۂ فطر کی مقدار (۱؍ کلو ۵۷۵؍گرام گیہوں) ہے۔

واضح رہےکہ فدیہ کے بارے میں حکمِ شرعی یہ ہے کہ اگر میت نے مال چھوڑا ہے اور فدیہ کی وصیت کی ہے، تو ایک تہائی مال میں سے فدیہ کی ادائیگی ورثہ پر لازم ہے، اور اگر مال نہیں چھوڑا یا چھوڑا تو ہے؛ لیکن وصیت نہیں کی یا کم چھوڑا ہے، تو ایسی صورت میں ورثہ پر اس کی نمازوں کا فدیہ دینا لازم تو نہیں ہے؛اگر ورثہ میت کے مال سے فدیہ دینا چاہ رہے ہیں تو سب کی رضامندی ضروری ہے،اور اگر اپنے مال سے دینا چاہ رہےہیں توتبرع اور احسان ہوگا اور اللہ کی ذات سے امید ہے کہ میت کا ذمہ ساقط ہوجائے گا۔(فتاویٰ محمودیہ ۷؍۳۸۸ ڈابھیل)

ولو مات وعلیہ صلوات فائتۃ وأوصی بالکفارۃ یعطی لکل صلوۃ نصف صاع من برّ کالفطرۃ، وکــذا حکم الوتر والصوم وإنما یعطی من ثلث مالہ، وفي الشامي: فیلزمہ ذٰلک من الثلث إن أوصی وإلا فلا یلزم الولي ذٰلک؛ لأنہا عبادۃ فلابد فیہا من الاختیار، فإذا لم یوص فات الشرط، فیسقط في حق أحکام الدنیا للتعذر، وأما إذا لم یوص فتطوع بہا الوارث فقد قال محمد في الزیادات: إنہ یجزیہ إن شاء اللّٰہ تعالیٰ۔ (شامي ۲؍۳۳-۵۳۲ ۔الفتاویٰ الہندیۃ ۱؍۱۲۵)

واللہ اعلم بالصواب