Saturday | 30 May 2020 | 7 Shawaal 1441
Gold NisabSilver NisabMahr Fatimi
$4861.97$351.42$878.55

Fatwa Answer

Question ID: 530 Category: Social Dealings
Wife's Behavior towards husband

Assalamualaikum,

I am married man since 12 years. I love my wife very much; she also loves me a lot. I am more attached and expect lots of love from my wife. I have more sexual desire as well. We with our three children stay in Hyderabad, whereas our boths parents stay very far away from us (approx. 550 kms). Normally when we are in Hyderabad we have good time between us (few small fights of husband and wife do occurs but no serious issues). Normally we chat on phone at least 5 to 6 times in a day. But whenever she goes to her parents house she doesnt respond to my phone properly because she feels that others (her relatives) will feel bad about it. Whenever i call her and ask her to talk with me for a longer time specially when I feel lonely (Romantic Talk/ pleasing talk), she doesnt do that. She gives priority to situation present there instead of me, which results in my anger and I shout on her and sometime give bad words to her. It is affecting my health because I am heart patient and this type of anger is resulting in chest pain. This all is affecting my image in my in laws house and they are thinking that I am fighting with my wife always. My point here is whenever I feel to talk her or ask her some work, what is her duty even though she is at her parents house? Whether she should give priority to my phone and my work or to her parents/relatives, because this is resulting in our fights always. Please give reference of hadeeth if possible. Please answer as soon as possible.

الجواب وباللہ التوفیق

It comes to be known from the Ahadith that on a woman there is more right of the husband than her brothers, sisters, and other relatives and the obedience of the husband is imperative on the woman in every permissible matter if it is not against the Sharia’t. It is obvious that when you contact her on the phone then to respond to your call is also her responsibility. But you should be considerate that when you have sent her to her parents you do not know what is she busy doing when you call, whether she is able to talk to you or not. Or she needs to attend to some physical needs. You should also try to slightly adjust. In the situation where you are a patient and you have physical needs too then it would be better that you keep your wife with you. This will eliminate the quarrels and will be convenient for you too.

عن أبي ہریرۃ رضي اللّٰہ تعالیٰ عنہ قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: لو کنت آمر أحدًا أن یسجد لأحد، لأمرت المرأۃ أن یسجد لزوجہا۔ (مشکاۃ المصابیح، کتاب النکاح / باب عشرۃ النساء وما لکل واحد من الحقوق، الفصل الثاني ۲۸۱)

عن عائشۃ رضي اللّٰہ عنہا قالت: سألت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم أي الناس أعظم حقًّا علی المرأۃ؟ قال: زوجہا۔ قلت: فأي الناس أعظم حقًا علی الرجل؟ قال: أمہ۔ رواہ البزار والحاکم، وإسناد البزار حسن۔ (الترغیب والترہیب ۳؍۳۴ رقم: ۱۶ دار الکتب العلمیۃ بیروت)

واللہ اعلم بالصواب

Question ID: 530 Category: Social Dealings
بیوی پر شوہر کے حقوق

 السلام علیکم 

میں بارہ سال سے شادی شدہ ہوں میں اپنی بیوی سے بہت محبت کرتا ہوں ، وہ بھی مجھ سے بہت محبت کرتی ہے ، میں نسبتاً اس سے جذباتی طور پر زیادہ وابستہ ہوں اور  اس سے بہت زیادہ محبت کی توقع رکھتا ہوں، مجھ میں ہمبستری کی خواہش بھی بہت زیادہ ہے  ہم اپنے تین بچوں کے ساتھ حیدرآباد میں رہتے ہیں، جب کہ ہم دونوں کے والدین  ہم سے بہت دور، ۵۵۰ کلو میٹر کے فاصلے پر رہتے ہیں، عام طور پر ہم جب حیدرآباد میں ہوتے ہیں تو ہمارے درمیان بہت اچھے تعلقات رہتے ہیں، ہم روزانہ  تقریباً پانچ سے چھ دفعہ بات کرتے ہیں، لیکن جب وہ اپنے والدین کے گھر جاتی ہے تو وہ میرے فون کا صحیح جواب نہیں دیتی ہے کیونکہ وہ سمجھتی ہے کہ اس کے رشتہ دار اس کے بارے میں برا محسوس کریں گے، جب   بھی میں اسے کال کرتا ہوں اور اسے کہتا ہوں کہ وہ مجھ سے زیادہ دیر بات کرے  خاص طور پر جب میں تنہائی محسوس کرتا ہوں اور  رومانوی اور خوشگوار باتیں کرنا چاہتا ہوں تو وہ ایسا نہیں کرتی ہے، وہ اپنے ارد گرد کے حالات کو ترجیح دیتی ہے، مجھے نہیں جس سے مجھے غصہ آتا ہے اور میں اس پر چیختا ہوں اور کبھی کبھار اسے برے الفاظ بھی کہتا ہوں۔اس سے میری صحت متاثر ہو رہی ہے کیونکہ میں دل کا مریض ہوں اور اس طرح کی ناراضگی سے میرے سینے میں درد ہوتا ہے، اس سب سے میری سسرال میں  میرے بارے میں   برا تاثر پیدا ہورہا ہے اور وہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ میں ہمیشہ اپنی بیوی سے لڑتا رہتا ہوں۔

سوال:جب میں  یہ چاہتا ہوں کہ میں  اس سے بات کروں یا اسے کچھ کام کرنے کو کہوں تو اس کا کیا فرض بنتا ہے چاہے اس وقت وہ اپنے والدین کے گھرہی کیوں نہ ہو؟

اسے میرے فون کو اور میرے کام کو ترجیح دینی چاہے یا اپنے والدین کو رشتہ داروں کو، کیونکہ اس سے ہمیشہ ہمارے درمیان لڑائی ہوتی ہے؟ برائے مہربانی حدیث کا حوالہ دیجئے۔

 

الجواب وباللہ التوفیق

احادیث سے یہ بات معلوم ہوتی ہےکہ عورت پر اس کےبھائی ،بہنیں اور دیگر رشتہ داروں سے زیادہ شوہر کاحق ہے،اور عورت پر ہر جائز امر میں اگر وہ خلاف شرع نہ ہوتو شوہر کی اطاعت ضروری ہے ،اور ظاہر ہےکہ جب آپ اس سے فون پر رابطہ کریں  تو آپ کا جواب دینا بھی اس کی ذمہ داری ہے،لیکن آپ کو بھی  اس کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ  جب آپ نے اس کو وہاں پر چھوڑا ہے تو پتہ نہیں وہ کس مصروفیت میں ہے،بات کرسکتی  ہےیا نہیں؟کہیں اس  کی طبعی ضرورتیں اس سے وابستہ تو نہیں، تھوڑا سا آپ بھی ایڈجیسٹ کرنے کی کوشش کریں، ایسی صورت حال میں خاص طور پرجب کہ آپ  مریض بھی ہوں اور جسمانی تقاضہ بھی ہوتو بہتر یہ ہےکہ آپ اپنی بیوی کو اپنے ساتھ رکھیں ،اس سے لڑائیاں بھی ختم ہوں گی، اور آپ کے لئے سہولت بھی رہے  گی۔

عن أبي ہریرۃ رضي اللّٰہ تعالیٰ عنہ قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: لو کنت آمر أحدًا أن یسجد لأحد، لأمرت المرأۃ أن یسجد لزوجہا۔ (مشکاۃ المصابیح، کتاب النکاح / باب عشرۃ النساء وما لکل واحد من الحقوق، الفصل الثاني ۲۸۱)

عن عائشۃ رضي اللّٰہ عنہا قالت: سألت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم أي الناس أعظم حقًّا علی المرأۃ؟ قال: زوجہا۔ قلت: فأي الناس أعظم حقًا علی الرجل؟ قال: أمہ۔ رواہ البزار والحاکم، وإسناد البزار حسن۔ (الترغیب والترہیب ۳؍۳۴ رقم: ۱۶ دار الکتب العلمیۃ بیروت)

واﷲ اعلم بالصواب