Defamation

I am writing to seek your guidance regarding the Islamic ruling on a grave matter of defamation. A woman, who is my aunt, has been spreading false rumors regarding my character. Specifically, at a recent wedding, she informed guests that my marriage was a "love marriage," .This is entirely false.
I wish to know: what does the Shariah say regarding this type of slander against an innocent married woman? Please clarify the gravity of this sin and the spiritual consequences for the one spreading such news.
Furthermore, I seek your advice on the best course of action. As a Muslim woman, should I remain silent and leave the matter to Allah’s justice, or am I Islamically encouraged to confront her and demand she stop these falsehoods? I want to know what is most pleasing to Allah: practicing patience (Sabr) or actively defending my honor to prevent the spread of Fitna (discord).
Please also note that this relative and her entire family are Niqabis. Because of their religious appearance, their words carry weight, and this has caused me great distress as people are more inclined to believe them. Given her standing as a Niqabi, should I handle this confrontation differently to address the contradiction between her appearance and her actions? JazakAllah Khair for your guidance

بہتان (جھوٹی تہمت لگانا)

السلام علیکم مفتی صاحب،میں ایک نہایت سنگین معاملے کے بارے میں شرعی رہنمائی حاصل کرنے کے لیے لکھ رہی ہوں، جو کہ بہتان (بدنامی) سے متعلق ہے۔ ایک خاتون، جو میری پھوپھی ہیں، میرے کردار کے بارے میں جھوٹی افواہیں پھیلا رہی ہیں۔ خاص طور پر، حال ہی میں ایک شادی میں انہوں نے مہمانوں کو بتایا کہ میری شادی "لو میرج" تھی، جو کہ سراسر غلط ہے۔
میں جاننا چاہتی ہوں کہ شریعت ایک بے گناہ شادی شدہ عورت پر اس قسم کی تہمت کے بارے میں کیا کہتی ہے؟ براہ کرم اس گناہ کی سنگینی اور اس کو پھیلانے والے کے لیے روحانی نتائج کی وضاحت فرمائیں۔
مزید برآں، میں آپ سے بہترین لائحہ عمل کے بارے میں مشورہ چاہتی ہوں۔ ایک مسلمان عورت کے طور پر، کیا مجھے خاموش رہنا چاہیے اور معاملہ اللہ کی عدالت پر چھوڑ دینا چاہیے، یا کیا اسلام میں مجھے اس کا سامنا کرنے اور اسے جھوٹ پھیلانے سے روکنے کا مطالبہ کرنے کی ترغیب دی گئی ہے؟ میں یہ جاننا چاہتی ہوں کہ اللہ کو کیا زیادہ پسند ہے: صبر کرنا یا اپنے وقار کے دفاع کے لیے عملی اقدام اٹھانا تاکہ فتنہ کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
براہ کرم یہ بھی نوٹ کریں کہ یہ رشتہ دار اور ان کا پورا خاندان نقاب کرتا ہے۔ ان کی مذہبی ظاہری شکل کی وجہ سے ان کی بات کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے، جس کی وجہ سے مجھے شدید ذہنی اذیت ہو رہی ہے کیونکہ لوگ ان کی باتوں پر زیادہ یقین کرتے ہیں۔ ان کے نقاب پہننے کی حیثیت کو دیکھتے ہوئے، کیا مجھے اس معاملے کو مختلف انداز میں اٹھانا چاہیے تاکہ ان کے ظاہر اور عمل کے تضاد کو واضح کیا جا سکے؟
جزاک اللہ خیر برائے رہنمائی

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
الجواب وباللہ التوفیق

Islam encourages patience, and it is a very noble quality with great reward. However, at times it is also necessary to clarify matters in order to remove misunderstandings and prevent discord. Therefore, if false impressions are being created about you or untrue statements are being spread, you have the right to stop it and to clarify your position. However, this should be done with gentleness and wisdom by speaking directly to the concerned person. In this matter, it would be better to speak with your husband, and he, with wisdom and good judgment, can explain things to the relatives. It is preferable to resolve the issue through the elders and responsible members of the family. May Allah grant well-being & ease.

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب و باللہ التوفیق: اسلام میں صبر کی ترغیب ہے اور یہ بڑی عمدہ صفت ہے اس پر بڑا اجر ہے لیکن بعض دفعہ فتنے اور غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے صفائی کی بھی ضرورت پڑتی ہے اس لیے اگر آپ کے بارے غلط فہمی پیدا کی جا رہی ہے اور آپ کے بارے میں خلاف واقعہ بات پھیلائی جا رہی ہے تو آپ کو اس سے روکنے اور صفائی دینے کا حق ہے لیکن نرمی اور مصلحت سے براہ راست صاحبِ معاملہ سے بات کریں۔ اس سلسلے میں شوہر سے بات کریں اور وہی حکمت و مصلحت سے رشتہ داروں کو سمجھا دیں تو بہتر رہے گا۔ گھر کے بڑے اور ذمہ دار حضرات کے ذریعہ اس کے حل کر لیں تو بہتر رہے گا ۔حق تعالہ عافیت کا معاملہ کریں ۔

فقط واللہ اعلم بالصواب