Assalamu Alaikum Multi Sahib..
What are the signs of true and false sharh sadr? Such as feeling deeply compassionate and generous and also feeling that the help of Allah is extremely near to the person and so on? Please mention in details for both true and false sharh sadr.
JazakAllah khairan.
Only Allah knows best what is correct. Darul Ifta, Shariah Board of America
بسم اللہ الرحمن الرحیم
: (۱) شرح صدر قلبی کیفیت اور اطمنان کا نام ہے،جس میں انسان کو کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے پر اطمنان اور یقین ہوجاتا ہے،اور اس میں شکوک و شبہات اور تردد باقی نہیں رہتا ،اور جس کام پر شرح صدر اور یہ کفییت پیدا ہوجائے تو اس کے مخالف پہلو پر کوئی تنگی،خوف اورخدشہ محسوس نہیں ہوتا ۔
(۲)ضروری نہیں ہے کہ جس چیز پر شرح صدر حاصل ہو وہ صحیح بھی ہو،کیونکہ غلط چیزوں پر بھی کسی کو یقین اور شرح صدر ہوسکتا ہے، جہاں کسی حق بات پر یا نیکی پر شرح صدر ہو وہ صحیح ہے،اور جب کسی غلط اور اور برے کام پر شرح صدر ہو تو وہ غلط ہے۔
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ایمان پر شرح صدر کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا :
أَفَمَنْ شَرَحَ اللَّهُ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ فَهُوَ عَلَى نُورٍ مِنْ رَبِّهِ(الزمر:۲۲)
سو اللہ نے جس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیا سو وہ اپنے رب کی طرف سے نور پر ہے۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ جب نور سینہ میں داخل ہوجاتا ہے تو سینہ کھل جاتا ہے تو صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ کیا اس کی (شرح صدر )کوئی نشانی ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں اس کی نشانی ہے۔(۱) دارالغرور دنیا سے سے دوری اور بے رغبتی پیدا ہوجائے۔(۲)دارالخلود جنت کی رغبت پیدا ہوجائے ۔(۳)موت آنے سے پہلے اس کی تیاری کی جائے۔
دوسری طرف کفر پر شرح صدر کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا :
وَلَكِنْ مَنْ شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ مِنَ اللَّهِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيم (النحل: ۱۰۶)
اور لیکن وہ جو دل کھول کر منکر ہوگا تو اس پر اللہ کا غضب ہے اور ان کے لیے بہت بڑا سخت عذاب ہے۔
رہا کسی شخص کا کسی مخصوص بات پر شرح صدر کا اظہار کرنا اور اس پر صحیح ہونے کا حکم لگانا بڑا مشکل کام ہے،یا جیسے اس مسئلہ میں کسی کے ساتھ ہمدردی اور دریا دلی اور اللہ کی طرف سے مدد کا یقین اس کی مختلف نوعیتیں ہوتی ہیں ،جس پس منظر اور سیاق و سباق میں آپ پوچھنا چاہتے ہیں اس کی وضاحت کردیں تو بہتر رہے گا۔کیونکہ یہ ضروری نہیں ہے کہ جس شخص کو کسی کام پر یا کسی بات پر شرح صدر ہو تو دوسروں کو بھی شرح صدر حاصل ہو،کسی کو کسی بات پر شرح صدر ہوتا ہے اور کسی کو نہیں ،جیسے جمع قرآن کے مسئلہ میں اور دیگر مواقع پر ابتداء بعض صحابہ کرام کو شرح صدر حاصل تھا اور بعض کو نہیں ،اسی طرح اگر کسی کو کسی بات پر اطمنان و یقین ہوتو ضروری نہیں ہےکہ وہ صحیح بھی ہو اور ہمارے حق میں بظاہر مفید بھی ہو، اس لئے کوئی ایسا معاملہ پیش آجائے تو باہمی مشورہ سے اس کو حل کیا جائے تو بہتر ہے،نیز کسی شخص کے شرح صدر کے بارے میں سچ اور جھوٹ کا حکم لگانے سے اور اس بحث میں پڑنے سے بھی اجتناب بہتر ہے۔