Fatawa Answer

Question: Crypto Currency

ID: 1656

Name: Dealings and Transactions

Question

اسلام و علیکم محترم مفتی صاحب،

۱) میرے بیٹے کرپٹو کرنسی خریدنے کے متعلق پوچھ رہے تھے لیکن مجھے اس بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے اس لئے آپ کی راہنمائی درکار ہے.

کرپٹو کرنسی کی خرید و فروخت کے متعلق شرعی حکم کیا ہے؟

کچھ کمپنیاں کرپٹو کرنسی بطور ادائیگی قبول کر رہی ہیں، کیا ان سے سامان خریدنا جائز ہے؟

۲) میں صفر فیصد پر ٹویوٹا گاڑی دیکھ رہا ہوں اور ٹویوٹا نے مجھ کو (Rate by Own)

کی آفر دی ہے کہ ابھی ان کا ریٹ تقریباً دو فیصد ہے لیکن وہ اس کو گاڑی کی قیمت میں شامل کر کے صفر فیصد پر گاڑی دے سکتے ہیں( ان کا میسج نیچے کاپی کر رہا ہوں)،

کیا اس طرح سے گاڑی صفر فیصد پر لینا جائز ہے؟

Hi Muhammad, how are you today? This is Hayleen from South Dade Toyota. My assistant Angie mentioned you are looking for a Sienna with the 0% APR, currently we don't have 0% available, and the lowest rate is 1.9% at 36 months. We can offer to do a rate buy down but that would have to be added to the vehicle price

Answer

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب و باللہ التوفیق:

اس کرنسی کا مسئلہ تا حال زیر تحقیق ہے۔اسلام میں کرنسی کے لئے چند شرائط ہوتے ہیں،کرپٹو کے اندر چونکہ یہ شرائط نہیں پائے جاتے، اس لئے اکثر علماء نے اس کو کرنسی نہیں مانا ہے، اور اس کے استعمال کو ناجائز  قرار دیا ہے۔ اس لئے نہ اسکو خریدیں نہ بیچیں، اور نہ سامان کی خریداری میں بطور ثمن اس کوادا کریں - 

۲۔  بیع کی یہ صورت جائز ہے کہ  قسطوں پر سود کے ساتھ گاڑی خریدنے کے بجائے آپ کمپنی والو ں سے یہ بات کرلیں کہ سود کی مقدار طے کرکے گاڑی کی قیمت میں شامل کرلیں اور اس قیمت  کو قسطوں میں یا ایک ساتھ ادا کریں - اور ادائیگی کے دوران مدت میں کمی بیشی سے رقم میں کمی بیشی نہ کریں۔ اگر تاخیر ہونے پر یا وقت سے پہلے اداکرنے پر قیمت میں بھی کمی زیادتی ہوتی ہے تو یہ سود اور ناجائز ہے۔ اور عموماً زیرو انٹریسٹ شکلوں میں بظاہر انٹریسٹ نہیں ہوتا ہے لیکن در حقیقت وہ بھی سود سے خالی نہیں ہوتیں۔ اس لئے صحیح تحقیق کرکے اقدام کریں -

قوله لأنه يصير قماراً لأنّ القمار من القمر الذي يزداد تارةً وينقص أخرى، وسمّي القمار قماراً؛ لأنّ كلّ واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص - (ردالمحتار کتاب الحظر والاباحۃ ،باب الاستبراء،فصل فی البیع 6/403) -

البیع مع تاجیل الثمن و تقسیطہ صحیح، یلزم ان تکون المدۃ معلومۃ  فی البیع  بالتاجیل و التقسیط شرح مجلۃ سلیم رستم باز ۱۲۵ بحوالہ فتاوی محمودیہ -

فقط واللہ اعلم بالصواب

Answered On: Monday, Oct 03, 2022 | N/A

Answered By: Mufti Mohammed Ataur Rahman Sajid

Checked By: Mufti Mohammed Navalur Rahman