Fatawa Answer

Question: Haram and halal

ID: 1837

Name: Dealings and Transactions

Question

السلام علیکم

اگر میں نے کسی کو حرام مال قرض کے طور پر دیا اور اس نے حلال رقم سے قرض واپس کر دیا تو کیا وہ میرے لیے حلال ہو جائے گا؟

Answer

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الجواب و منہ الصواب:

حرام طریقے سے کمایا ہوا حرام مال قرض کے طور پر کسی کو دیا اور اس نے اپنی حلال آمدنی  سے قرض واپس کردیا تب بھی  مالک کیلئے وہ مال حرام ہی ہوگا۔ اس کو یا تو مالک کو واپس کردیا جائے، اگر مالک کو واپس نہ کیا جاسکتا ہوتو غرباء پر صدقہ کردیاجائے-

(مستفاد از امداد الفتاویٰ : ۴؍ ۵۴۳)

نقل الحموي عن سيدي عبد الوهاب الشعراني أنه قال في كتابه المنن: وما نقل عن بعض الحنيفة من أن الحرام لا يتعدى ذمتين، سألت عنه الشهاب ابن الشلبي فقال: هو محمول على ما إذا لم يعلم بذلك، أما لو رأى المكاس مثلا يأخذ من أحد شيئا من المكس ثم يعطيه آخر ثم يأخذ من ذلك الآخر آخر فهو حرام اهـ" (رد المحتار: کتاب البیوع ، باب البیع الفاسد : ۵: ۹۸)

الحرمۃ تتعدد مع العلم بھا الافی حق الوارث ۔۔۔ الخ (۷؍۲۲۳)

فقط واللہ اعلم بالصواب

Answered On: Wednesday, Jul 19, 2023 | N/A

Answered By: Mufti Mohammed Ataur Rahman Sajid

Checked By: Mufti Mohammed Navalur Rahman