Monday | 21 October 2019 | 22 Safar 1441

Fatwa Answer

Question ID: 110 Category: Business Dealings
Divorce by Explicit Words

Assalamualaikum Warahmatullah

If the husband states "my wife is divorced upon me" 3 times, at 3 different occasions to 3 different people, what would be the status of Nikah between the husband and wife? Does stating such sentence in front of others amount to a true divorce? After 6 or 7 months the wife came to the husband from Pakistan to America. Also, the husband 3 years back had stated the sentence "I divorce her (i.e. my wife)" 4 times.

JazakAllah Khair

 

 الجواب و باللہ التوفیق

Assalamualaikum Warahmatullah Wabarakatuh

As per the situation described in your question, the three divorces had already taken effect upon you, when your husband had stated “I divorce her (my wife)” three years back. You are not considered his wife since that point in time. The whole time you lived together after that is considered time spent without Nikah. Any marital relations established during that time are considered haram. You should immediately separate from him, repent and perform astaghfar. When your husband later stated “my wife is divorced upon me” no divorce took effect because you were not in his Nikah since three years. There was no meaning of issuing a divorce anymore. However, it is correct and a fact that you are divorced.

 قال تعالی: فان طلقھا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ (القرآن، سورہ بقرہ)

ان کان الطلاق ثلاثا فی الحرۃ وفی الامۃ ثنتین لم تحل لہ حتی تنکح زوجاً غیرہ نکاحاً صحیحا ویدخل بھا ثم طلقھا او یموت عنھا (کذا فی الھدایہ)

فقط واللہ اعلم بالصواب

Question ID: 110 Category: Business Dealings
صریح الفاظ سے طلاق کا حکم

 

 السلام علیکم ورحمۃ اللہ

اگر شوہر یہ جملہ ۳ مختلف موقعوں پر ۳  مختلف لوگوں کے سامنے ۳ مرتبہ  کہے کہ "میری بیوی مجھ پر طلاق شدہ ہے"تو پھر میاں بیوی کے درمیان نکاح کا کیا حکم ہوگا؟ کیا ایسا جملہ دوسروں کے سامنے کہنے سے طلاق واقع ہو جاتی ہے؟ اس واقعے کے ۶ یا ۷ مہینے بعد بیوی پاکستان سے شوہر کے پاس امریکہ آ گئی۔ مزید یہ کہ ۳سال قبل شوہر نے ۴مرتبہ  یہ جملہ کہا تھا "میں اسے (یعنی اپنی بیوی کو) طلاق دیتا ہوں"۔

جزاک اللہ خیرا

 

  الجواب و باللہ التوفیق

بشرط صحت سوال آپ پر تین طلاقیں تو اسی وقت واقع ہو گئیں تھیں جب آپ کے شوہر نے تین سال قبل ۴، مرتبہ کہا تھا"میں اسے (یعنی اپنی بیوی کو) طلاق دیتا ہوں"۔  اسی وقت سے آپ ان کی زوجہ نہیں رہیں۔ اس کے بعد جتنے سال ساتھ رہے وہ بغیر نکاح کے رہے۔ اس دوران جو کچھ میاں بیوی کا تعلق رہا وہ حرام رہا۔ توبہ اور استغفار کریں اور فوری علحدہ ہو جائیں۔ اب جو بعد میں ۳ بار کہا کہ "میری بیوی مجھ پر طلاق شدہ ہے" اس سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی اس لئے کہ آپ تین سال قبل ہی ان کے نکاح سے نکل گئیں، اب طلاق دینے کے کوئی معنی نہیں۔ البتہ یہ بات اپنی جگہ صحیح ہے کہ آپ طلاق شدہ ہیں۔

 قال تعالی: فان طلقھا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ (القرآن، سورہ بقرہ)

ان کان الطلاق ثلاثا فی الحرۃ وفی الامۃ ثنتین لم تحل لہ حتی تنکح زوجاً غیرہ نکاحاً صحیحا ویدخل بھا ثم طلقھا او یموت عنھا (کذا فی الھدایہ)

فقط واللہ اعلم بالصواب