Monday | 19 August 2019 | 18 Dhul-Hajj 1440

Fatwa Answer

Question ID: 115 Category: Business Dealings
Debt Payment with Old Calculation or New Value of the Property?

Assalamualaikum Warahmatullah 

Our parents passed away in September 2008 suddenly, one by one within a month. We are 3 brothers and 4 sisters. We decided to divide our shares in the family home as per the laws of inheritance described in the Islamic teachings. We were informed that the total value of this house should be divided into 10 equal shares of which 1 share should be given to each of the sisters and 2 shares should be given to each of the brothers. Two of the brothers decided to keep the house and pay off all the other siblings. One of these brothers paid off one brother and one sister while the other brother requested for time from the three sisters who he was supposed to pay. The property was registered on the two brother’s names.

If the second brother has given only 30% of the share to 3 sisters that he owed, and the property is sold after few years, due to the change in property value would the remaining 70% share be paid to them according to old value or new value?

JazakAllahu Khaira

Walaikumassalam Warahmatullah

الجواب وباللہ التوفیق

As per the situation described in your question, since the division of the estate and specification of actual monetary shares (money) had already taken place, one of the brothers has already paid the share he owed, the other brothers have specified the time period of repayment and have paid a portion of the decided amount, therefore, the remaining amount to the sisters will have to be paid according to the original division and specified amount of money and not based on the current market value of the house.

Extracted from Fatawah Raheemiyah Vol.10, Pg.283

إذا کانت الترکۃ بین ورثۃ فأخرجوا أحدہم منہا بمال أعطوہ إیاہ والترکۃ عقار أو عروض صح قلیلا کان أو کثیرا ۔ (مختصر القدوری، کتاب الصلح ۱۳۵، ہدایہ فصل فی التخارج، اشرفی ۳/۲۵۶)

ولو أخرجت الورثۃ أحدہم عن الترکۃ وہی غرض أو ہی عقار بمال (إلی قولہ) صرفا للجنس بخلاف جنسہ قل أو کثر۔ (تکملہ شامی، فصل فی التخارج، زکریا ۱۲/۳۴۸-۳۳۹، کراچی ۸/۲۶۱)ثم قول أبی حنیفۃ فیہ إنہ تعتبر القیمۃ یوم الوجوب وعندہما یوم الأداء۔ (فتح القدیر، کتاب الزکاۃ، فصل فی العروض، دار الفکر ۲/۲۱۹، زکریا ۲/۲۲۷، کوئٹہ ۲/۱۶۷،ومثلہ فی حاشیۃ الطحطاوی علی المراقی۱/۲۱۸، ونحوہ فی التاتارخانیۃ، زکریا ۳/۱۷۰، رقم: ۴۰۱۸)

تعتبر القیمۃ یوم الوجوب، قالا: یوم الأداء … وہو الأصح و یقوم فی البلد الذی المال فیہ ولو فی مفازۃ ففی أقرب الأمصار إلیہ، وتحتہ فی الشامیۃ: قولہ: ہو الأصح … ذکر فی البدائع: أنہ قیل أن المعتبر عندہ فیہا یوم الوجوب وقیل یوم الأداء، وفی المحیط یعتبر یوم الأداء بالإجماع وہو الأصح فہو تصحیح للقول الثانی الموافق لقولہما وعلیہ فاعتبار یوم الأداء یکون متفقا علیہ عندہ وعندہما۔ (شامی، الزکاۃ، باب زکاۃ الغنم کراچی ۲/۲۸۶، زکریا ۳/۲۱۱)

واللہ اعلم ابالصواب

 

Question ID: 115 Category: Business Dealings
قرض مکان کے پرانے حصوں کی قیمت کے حساب سے ادا ہو یا موجودہ قیمت کے؟

 

 

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

ہمارے والدین کا انتقال ستمبر ۲۰۰۸ میں ہوا، اچانک ایک مہینے کے اندر دونوں چلے گئے۔ ہم ۳ بھائی اور ۴ بہنیں ہیں ۔ ہم وراثت میں آئے ہوئے گھر کو اسلامی تعلیمات کے مطابق آپس میں بانٹنا چاہتے ہیں۔ہمیں یہ بتایا گیا کہ کل قیمت کے ۱۰ حصے کئے جائیں، ایک ایک حصہ بہنوں کو اور دو دو حصے بھائیوں کو دئیے جائیں۔ دو بھائیوں نے مل کر یہ طے کیا کہ وہ باقیوں کو حصہ دے کر گھر خود اپنے نام کر لیں گے۔ ان میں سے ایک بھائی نے دوسرےبھائی اور ایک بہن کو ان کا حصہ ادا کر دیا۔ جب کہ دوسرے بھائی نے تین بہنوں کو ان کا حصہ ادا کرنے کی ذمہ داری لیتے ہوئے ادائیگی کے لئے کچھ وقت بھی مانگا۔ اس طرح وہ گھر ان دو بھائیوں کے نام ہو گیا۔

ابھی ان دوسرے بھائی نے بہنوں کے حصوں کا صرف ۳۰ فی صد ادا کیا ہے کہ گھر کو بیچنے کی نوبت آ گئی ہے۔ اگر چند سال بعد اس گھر کو بیچا جائے گا تو یقینا گھر کی قیمت میں بھی تبدیلی آ چکی ہو گی، لیکن اس صورت میں ان بھائی کو باقی ماندہ ۷۰ فی صد اسی پرانی طے شدہ لاگت کے مطابق ادا کرنا ہوگا یا پھر گھر کی نئی قیمت کے مطابق ؟ جزاک اللہ خیرا ۔

 

 

 

 

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

الجواب وباللہ التوفیق

صورت مسئولہ میں چونکہ حصوں اور رقم کی تعیین ہوچکی تھی،اور ایک بھائی نے اپنی رقم اداکردی تھی،اور دوسرے بھائیوں نے مدت کی تعیین کرکے کچھ ادا کی اور کچھ باقی ہے،اس لئے اس صورت میں بہنوں کو مابقیہ رقم اسی وقت (پرانی لاگت )کے اعتبار سے دینی ہوگی،موجودہ قیمت کے اعتبار سے نہیں۔

(مستفاد فتاویٰ رحیمیہ:۱۰/۲۸۳)

إذا کانت الترکۃ بین ورثۃ فأخرجوا أحدہم منہا بمال أعطوہ إیاہ والترکۃ عقار أو عروض صح قلیلا کان أو کثیرا ۔ (مختصر القدوری، کتاب الصلح ۱۳۵، ہدایہ فصل فی التخارج، اشرفی ۳/۲۵۶)

ولو أخرجت الورثۃ أحدہم عن الترکۃ وہی غرض أو ہی عقار بمال (إلی قولہ) صرفا للجنس بخلاف جنسہ قل أو کثر۔ (تکملہ شامی، فصل فی التخارج، زکریا ۱۲/۳۴۸-۳۳۹، کراچی ۸/۲۶۱)ثم قول أبی حنیفۃ فیہ إنہ تعتبر القیمۃ یوم الوجوب وعندہما یوم الأداء۔ (فتح القدیر، کتاب الزکاۃ، فصل فی العروض، دار الفکر ۲/۲۱۹، زکریا ۲/۲۲۷، کوئٹہ ۲/۱۶۷،ومثلہ فی حاشیۃ الطحطاوی علی المراقی۱/۲۱۸، ونحوہ فی التاتارخانیۃ، زکریا ۳/۱۷۰، رقم: ۴۰۱۸)

تعتبر القیمۃ یوم الوجوب، قالا: یوم الأداء … وہو الأصح و یقوم فی البلد الذی المال فیہ ولو فی مفازۃ ففی أقرب الأمصار إلیہ، وتحتہ فی الشامیۃ: قولہ: ہو الأصح … ذکر فی البدائع: أنہ قیل أن المعتبر عندہ فیہا یوم الوجوب وقیل یوم الأداء، وفی المحیط یعتبر یوم الأداء بالإجماع وہو الأصح فہو تصحیح للقول الثانی الموافق لقولہما وعلیہ فاعتبار یوم الأداء یکون متفقا علیہ عندہ وعندہما۔ (شامی، الزکاۃ، باب زکاۃ الغنم کراچی ۲/۲۸۶، زکریا ۳/۲۱۱)

فقط واللہ اعلم ابالصواب