Sunday | 18 August 2019 | 17 Dhul-Hajj 1440

Fatwa Answer

Question ID: 129 Category: Business Dealings
Complex Situation in Dividing Inheritance

Assalamualaikum Warahmatullah 

My grandfather were two brothers only. They did not divide the property among their inheritors while they were alive. My grandfather’s elder brother had only one daughter i.e. my paternal aunt and my grandfather had two sons, in which my father is the elder one. My aunt was married and has never returned since 1975. We don’t know if she is still alive or not but while she was leaving she had given the power of attorney to my father. Legally he is the sole hier of all her property or wealth. For the last 30 years my uncle and his family has not been living with us nor taking care of our ancestral property. They don’t live with us at the ancestral property since it is located in a very remote area far far away (1500 km) for his house.

For more than 40 years my father has been looking after the whole property with all of its related difficulties including many legal cases that he had to take care of. Even during the court cases my uncle didn’t help physically or monetarily and he never chipped in for any repairs or construction. We have invested hundreds of thousands of rupees for the past 40 years and my uncle has not paid a penny. Now he claims half of the property belongs to him.

Please help us how the property should be divided given these circumstances according to the Islamic Shari‘ah.

الجواب وباللہ التوفیق

1- Regardless of how much your father has taken care of this house and regardless of the money he had to invest on maintaining this house and regardless of how careless the other brother has been regarding the above aspects, both brothers will have a share in this house.

2- Secondly, your father should have documented the nature of the renovations or maintenance and the nature of expenditure (whether loan or ehsan) and discussed it with the other brother to get his agreement, before taking those actions. However it seems that this agreement could not be arranged. In this situation, the ruling is that if in addition to maintaining the existing structure your father also performed extensions to it, then the extensions will be considered your father’s property. However, the other brother will still have his share in the land (i.e. he has a valid right to demand the area with extensions, if he chooses). In the case of division of the house, either that portion of the land which is still not occupied with any extensions should be given to the other brother and your father can keep the portion on which he has performed the extensions, or request the other brother to pay your father for the portion with extensions (which your father’s brother does not have to agree with) and then equally divide the money once the sale of the whole house takes place.

The expenses your father had to incur to perform maintenance on the existing structure, if they were performed with the brother’s agreement then your father has a right to demand the money from him. If however, the maintenance was performed without the brother’s agreement, it will be impermissible for your father to demand for the expenses from him. It is a moral obligation on your father’s brother however, to pay your father back for the necessary maintenance your father kept on performing.

Note: It should be noted that as per the situation described in the question, apparently this property belonged to your grandfather and his elder brother. From that perspective, the division will take place among the elder daughter of your grandfather, your father and your uncle and any other inheritors who are alive at this time. The share of the elder brother of your grandfather will be given to the phoopi (paternal aunt) whereas the share of your grandfather will be divided equally between your father and your uncle. Since the issue of maintenance and extensions to ths house has been described above, therefore that should be considered as the guideline for the next steps.

الحمام إذا احتاج إلی مرمۃ وأنفق أحد الشریکین من مالہ، أجاب: لا یکون متبرعاً ویرجع بقیمۃ البناء بقدر حصتہ … وجعل الفتویٰ علیہ۔ (شامي / قبیل مطلب في الحائط إذا خرب وطلب أحد الشریکین الخ ۶؍۵۱۳ زکریا)أما إذا سکن أحد الشریکین مدۃ في الدار بدون إذن الآخر فیعد ساکنًا في ملک نفسہ فمن ثم لا تلزمہ الأجرۃ لأجل حصۃ شریکہ۔ (شرح المجلۃ لسلیم رستم باز ۱؍۶۰۲ رقم: ۱۰۷۵)ولو بنیٰ فالصحیح أنہ یرجع … ثم في کل موضع لم یکن الباني متبرعًا کان لہ منع صاحبہ من الانتفاع إلیٰ أن یرد علیہ ما أنفق أو قیمۃ البناء۔ (شامي ۶؍۵۱۵ زکریا)

سئل فیما اذابنیٰ قصراً بمالہ بنفسہ فی دار مشترکۃ بینہ وبیں اخوتہ بدون اذنہم فہل یکون البناء ملکاً لہٗ الجواب نعم واذا بنیٰ فی الارض المشترکۃ بغیر اذن الشریک لہٗ ان ینقض بناء ہ ذکرہ فی التاتارخانیۃ من متفرقات القسمۃ۱ھ تنقیح الفتاویٰ الحامدیۃ ،ج۱؍ص ۱۰۰)

فقط واللہ اعلم بالصواب

Question ID: 129 Category: Business Dealings
میراث کے سلسلے میں گھمبیر مسئلہ

 

 

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

میرے دادا صرف دو بھائی ہی تھے اور اپنی حیات میں انھوں نے اپنی جائیداد کی تقسیم نہیں کی۔ میرے دادا سے بڑے بھائی کی صرف ایک ہی بیٹی تھیں یعنی میری پھوپھی ، جب کہ میرے دادا کے دو بیٹے ہیں، جس میں سے میرے والد بڑے ہیں۔ میری پھوپھی کی شادی ۱۹۷۵ میں ہوئی اور اس کے بعد سے وہ کبھی واپس نہیں آئیں، ہمیں یہ تک نہیں معلوم کہ وہ حیات ہیں یا نہیں۔ لیکن انھوں نے جانے سےقبل اپنی پاور آف اٹارنی میرے والد کے حوالے کر دی تھی ، قانونی اعتبار سے وہ ان کی جائیداد یا مال وغیرہ کے کل مالک ہیں۔ قریب ۳۰ برس سے ہمارے چاچا اور ان کے گھر والے ہمارے ساتھ نہیں رہتے اور نہ ہی آبائی گھر کی کوئی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ یہ آبائی گھر تقریبا ان کے گھر سے ۱۵۰۰ کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔

۴۰ سال سے زیادہ ہو گئے میرے والد اس گھر کی دیکھ ریکھ کرتے ہیں اور ہم یہیں رہتے ہیں۔ اس میں کافی پریشانیوں کا بھی سامنا ہوتا ہے مثلا کورٹ کے مقدمے وغیرہ بھی۔ ان مقدمات کے دوران بھی ہمارے چاچا نے کبھی شخصی یا مالی کوئی امداد نہیں کی اور نہ ہی گھر کی مزید تعمیر یا مرمت میں ایک پیسہ خرچ کیا جب کہ میرے والد صاحب کے اس مد میں لاکھوں خرچ ہو چکے۔ اب ان کا دعوی یہ ہے کہ اس آبائی گھر میں سے آدھا ان کی ملکیت ہے۔ براہ کرم ہماری راہنمائی فرمائیے کہ اس گھر کو   اسلامی شریعت کے اصولوں کی روشنی میں کس انداز سے تقسیم کیا جائے گا۔

 

 

 

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ

الجواب وباللہ التوفیق

(۱)اس گھر کی چاہے آپ کے والد نے کتنی ہی دیکھ بھال کی ہو اورجتنے بھی اخراجات کئے ہوں اور دوسرے بھائی نے چاہے کتنی ہی لاپرواہی کیوں نہ کی ہو اس گھر میں دونوں کا حصہ رہے گا۔

(۲)دوسری بات یہ ہےکہ آپ کے والد کو گھر کی تعمیر اورمرمت سے قبل ان کی اجاز ت اور ان اخراجات کی نوعیت (قرض یا احسان )کو لکھ کراس کے مطابق عمل کرنا چاہیے تھا،لیکن بظاہر ایسا معلوم ہورہاہے کہ یہ صورت نہیں ہوپائی اس لئے اس صورت میں مسئلہ یہ ہےکہ اس گھر میں اگرآپ کے والد نے پرانی تعمیر کے علاوہ نئی تعمیرات کی ہیں تووہ والد ہی کی شمار ہوں گی،ہاں زمین میں بھائی کا حصہ رہے گا،اس لئے تقسیم کی صورت میں یاتو اس گھرکی تقسیم میں وہ حصہ بھائی کو دیدیں،جس میں تعمیر نہ ہو،اور تعمیر والا حصہ ا ٓپ لے لیں،یا بھائی سے اس کی قیمت وصول کر لیں،اور گھر برابر برابر تقسیم کرلیں۔

اور جو اخراجات آپ کے والد نےپرانی تعمیر کی مرمت پر کئے ہیں،اگر اپنےبھائی کی اجازت   سے کئے ہیں تو آپ کے والد کو ان سے وہ رقم وصول کرنے کا حق ہے،اور ان کی اجازت کے بغیر کئے ہیں تو آپ کو ان سے وہ رقم حاصل کرنے کا حق نہ ہوگا۔ہاں ان کے بھائی کا یہ اخلاقی فریضہ ہے کہ گھر کے ضروری امور میں جو اخراجات ہوئے ہیں وہ اپنے بھائی کو دیدے۔

نوٹ:واضح رہےکہ اس سوال سے بظاہر یہ معلوم ہورہاہے کہ یہ جائیداد آپ کے داد اور ان کے بڑے بھائی کی تھی،اس اعتبار سے اس کی تقسیم دادا کے بڑے بھائی کی بیٹی اور آپ کے والد اور چچا اور اگر کوئی اور وارث اس وقت با حیات ہوں تو ان میں تقسیم ہوگی،داد کے بڑے بھائی کا حصہ ان کی پھوپھی کو ملے گا،اور آپ کے دادا کا حصہ آپ کے والد اور چچا میں برابر برابر تقسیم ہوگا، تعمیرات اور مرمت کا مسئلہ اوپر لکھا جاچکا ہے،اس کے مطابق عمل کرلیاجائے۔

الحمام إذا احتاج إلی مرمۃ وأنفق أحد الشریکین من مالہ، أجاب: لا یکون متبرعاً ویرجع بقیمۃ البناء بقدر حصتہ … وجعل الفتویٰ علیہ۔ (شامي / قبیل مطلب في الحائط إذا خرب وطلب أحد الشریکین الخ ۶؍۵۱۳ زکریا)أما إذا سکن أحد الشریکین مدۃ في الدار بدون إذن الآخر فیعد ساکنًا في ملک نفسہ فمن ثم لا تلزمہ الأجرۃ لأجل حصۃ شریکہ۔ (شرح المجلۃ لسلیم رستم باز ۱؍۶۰۲ رقم: ۱۰۷۵)ولو بنیٰ فالصحیح أنہ یرجع … ثم في کل موضع لم یکن الباني متبرعًا کان لہ منع صاحبہ من الانتفاع إلیٰ أن یرد علیہ ما أنفق أو قیمۃ البناء۔ (شامي ۶؍۵۱۵ زکریا)

سئل فیما اذابنیٰ قصراً بمالہ بنفسہ فی دار مشترکۃ بینہ وبیں اخوتہ بدون اذنہم فہل یکون البناء ملکاً لہٗ الجواب نعم واذا بنیٰ فی الارض المشترکۃ بغیر اذن الشریک لہٗ ان ینقض بناء ہ ذکرہ فی التاتارخانیۃ من متفرقات القسمۃ۱ھ تنقیح الفتاویٰ الحامدیۃ ،ج۱؍ص ۱۰۰)

فقط واللہ اعلم بالصواب