Tuesday | 12 November 2019 | 15 Rabiul-Awal 1441

Fatwa Answer

Question ID: 46 Category: Worship
Personal Use of Mosque Property

Assalamualaikum Warahmatullah

The mosque in my locality has 4 trash containers for its use. The bill is paid by the mosque to the trash service. The ameer of the mosque has allowed one of the trash containers to be used by one of his friends (for his personal use). This friend lives across the street from the mosque. The person keeps the trash container at his property and brings it to mosque every week on trash pickup day and after trash pickup takes it back to his property. The ameer of mosque says he will pay the cost of one container on behalf of his friend. When asked from the ameer if he will allow someone else to do the same, his answer was 'no'. Is it permissible for the ameer to allow his friend to use a trash can from the mosque for his personal use?

 الجواب وباللہ التوفیق

Assalamualaikum Warahmatullah

It is impermissible for the ameer sahib to give the trash cans from the mosque for his friend's personal use. (Fatawah Mahmoodia, Pg.264, Vol.14)

ما في ’’ الفتاوی الہندیۃ ‘‘ : متولي المسجد لیس لہ أن یحمل سراج المسجد إلی بیتہ ۔،(فتاوی عالمگیر :ج۲،ص ۴۶۲)

ولا تجوز إعارۃ الوقف والإسکان فیہ ۔ کذا في محیط السرخسي ۔

(۲/۴۲۰ ، کتاب الوقف ، الباب الخامس في ولایۃ الوقف وتصرف القیم في الأوقاف الخ)

ما في ’’ التنویر مع الدر والرد ‘‘ : فإذا تم ولزم لا یَملِک ولا یُمَلَّک ولا یعار ولا یرہن ۔

فقط واللہ اعلم بالصواب

Question ID: 46 Category: Worship
مسجد کی چیزوں کا ذاتی استعمال

 

 

السلام علیکم ورحمۃ اللہ

میرے محلے کی مسجد میں چار کوڑے کے ڈبے ہیں ، ان ڈبوں سے کوڑا اٹھانے کی فیس مسجد کی طرف سے کوڑا اٹھانے والی کمپنی کو ادا کی جاتی ہے۔ مسجد کے امیر نے اپنے ایک دوست کو کوڑے کا ایک ڈبا استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے(یعنی اس کے ذاتی استعمال کے لئے)۔ امیر صاحب کے یہ دوست مسجد کے سامنے ہی رہتے ہیں اور کوڑے کا یہ ڈبا وہ اپنے گھر پر ہی رکھتے ہیں۔ کوڑا جس دن اٹھایا جانا ہوتا ہےوہ کوڑے کا ڈبا اپنے گھر سے لا کر مسجد کے باہر رکھ دیتے ہیں اور کوڑا اٹھائے جانے کے بعد پھر ڈبے کو واپس اپنے مکان پر لے جاتے ہیں۔ مسجد کے امیر صاحب کا یہ کہنا ہے کہ وہ اپنے دوست کے استعمال پر خرچ ہونے والی رقم خود ادا کریں گے۔ جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ کیا آپ کسی اور کو بھی ایسے استعمال کی اجازت دیں گے، تو انھوں نے اس کا جواب نفی میں دیا۔ کیا مسجد کے امیر کے لئے کہ جائز ہے کہ وہ اپنے دوست کو مسجد کا کوڑے کا ڈبا اس کے ذاتی استعمال کے لئے دے سکیں؟

 

 

الجواب وباللہ التوفیق

السلام علیکم ورحمۃ اللہ

امیر صاحب کیلئے اپنے دوست کو مسجد کے کوڑے کا ڈبا اس کے ذاتی استعمال کیلئے دینا جائز نہیں ہے۔

(فتاویٰ محمودیہ : ج ۱۴، ص ۲۶۴)

  • ما في ’’ الفتاوی الہندیۃ ‘‘ : متولي المسجد لیس لہ أن یحمل سراج المسجد إلی بیتہ ۔،(فتاوی عالمگیر :ج۲،ص ۴۶۲)
  • ولا تجوز إعارۃ الوقف والإسکان فیہ ۔ کذا في محیط السرخسي ۔

(۲/۴۲۰ ، کتاب الوقف ، الباب الخامس في ولایۃ الوقف وتصرف القیم في الأوقاف الخ)

  • ما في ’’ التنویر مع الدر والرد ‘‘ : فإذا تم ولزم لا یَملِک ولا یُمَلَّک ولا یعار ولا یرہن ۔

فقط واللہ اعلم بالصواب