Tuesday | 12 November 2019 | 15 Rabiul-Awal 1441

Fatwa Answer

Question ID: 568 Category: Worship
Position of Feet During Sajdah

 Assalamualaikum

A brother told me that while I was doing sajdah, my feet were apart from each other but they should be together because Rasulullah (Sallallahu Alaihe Wasallam) used to keep his feet together while in Sajdah so what is the feet's correct position while in Sajdah?  Should the feet be together or apart while one is in Sajdah?

الجواب وباللہ التوفیق

There are two statements of the Jurists in this regard. Narrations are also found of both kinds and both are permissible, however, it is better to have both heels together in Sajdah.

قالت عائشة ؓ: فقدت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وکان معي علی فراشي فوجدتہ ساجداً راصاً عقبیہ الخ (صحیح ابن حبان : رقم الحدیث: ۱۹۳۰ ۔شرح مشکل الآثار،رقم الحدیث: ۱۱۱، ط: موٴسسة الرسالة، بیروت)

إسنادہ صحیح علی شرط مسلم؛ فإن عمارة بن غزیة لم یرو لہ البخاري، وإنما استشھد بہ، ورواہ ابن خزیمة ۶۵۴والحاکم ۱: ۲۲۸، ۲۲۹والبیھقي ۲: ۱۱۶من طریق سعید بن أبي مریم بھذا الإسناد (ھامش شرح مشکل الآثار)

Allaamah Kashmiri writes that most of the people are negligent of this Sunnah.

وفي صحیح ابن حبان عن عائشة ؓ:  الرص بین العقبین في السجدة أي: ضمھما، وأکثر الناس عن ھذا غافلون (العرف الشذي، کتاب الصلاة، باب ما جاء في التسبیح في الرکوع والسجود، ۱: ۲۶۹)

Allaamah Zafar Ahmed Saheb Usmani writes:

     واما سنیۃ الصاق الکعبین فی السجود فیدل علیہ حدیث عائشۃ ؓ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وفیہ             ’’ فوجدتہ ساجدا راصا عقیبیہ ‘‘ ای ملصقا احدھما بالاخر ۔(اعلاء السنن : )

قولہ: ”ویسن إلصاق کعبیہ“: قال السید أبو السعود: وکذا في السجود أیضاً (رد المحتار، کتاب الصلاة، باب صفة الصلاة، ۲: ۱۹۶، ط: مکتبة زکریا دیوبند) ۔

واللہ اعلم بالصواب

 

Question ID: 568 Category: Worship
سجدہ میں ایڑیوں کا ملانا

السلام علیکم 

ایک بھائی نے مجھے کہا کہ جب میں سجدہ کررہا تھا تو میرے دونوں پاؤں ایک دوسرے سے دور تھے جب کہ وہ ساتھ ہونے چاہییں  تھے  کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے پاؤں مبارک ، سجدے میں ساتھ رکھتے تھے، برائے مہربانی  بتائیے کہ سجدے  میں پاؤں کی صحیح پوزیشن کیا ہونی چاہئے؟ سجدے میں پاؤں ساتھ ہونے چاہیں یا علیحدہ؟

الجواب وباللہ التوفیق

اس سلسلہ میں فقہاء کے دو قول ہیں،روایات بھی دونوں طرح کی ملتی ہیں،اور دونوں جائز ہے،البتہ بہتر یہی ہے کہ سجدہ میں دونوں ایڑیاں ملاکر رکھی جائیں۔

قالت عائشة ؓ: فقدت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وکان معي علی فراشي فوجدتہ ساجداً راصاً عقبیہ الخ (صحیح ابن حبان : رقم الحدیث: ۱۹۳۰ ۔شرح مشکل الآثار،رقم الحدیث: ۱۱۱، ط: موٴسسة الرسالة، بیروت)

إسنادہ صحیح علی شرط مسلم؛ فإن عمارة بن غزیة لم یرو لہ البخاري، وإنما استشھد بہ، ورواہ ابن خزیمة ۶۵۴والحاکم ۱: ۲۲۸، ۲۲۹والبیھقي ۲: ۱۱۶من طریق سعید بن أبي مریم بھذا الإسناد (ھامش شرح مشکل الآثار)

علامہ کشمیری لکھتے ہیں کہ اکثر لوگ اس سنت سے غافل ہیں۔

وفي صحیح ابن حبان عن عائشة ؓ  الرص بین العقبین في السجدة أي: ضمھما، وأکثر الناس عن ھذا غافلون (العرف الشذي، کتاب الصلاة، باب ما جاء في التسبیح في الرکوع والسجود، ۱: ۲۶۹)

علامہ ظفر احمد صاحب عثمانی  ؒ رقمطراز ہیں:

     واما سنیۃ الصاق الکعبین فی السجود فیدل علیہ حدیث عائشۃ ؓ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وفیہ             ’’ فوجدتہ ساجدا راصا عقیبیہ ‘‘ ای ملصقا احدھما بالاخر ۔(اعلاء السنن : )

قولہ: ”ویسن إلصاق کعبیہ“: قال السید أبو السعود: وکذا في السجود أیضاً (رد المحتار، کتاب الصلاة، باب صفة الصلاة، ۲: ۱۹۶، ط: مکتبة زکریا دیوبند)