Tuesday | 18 June 2019 | 14 Shawaal 1440

Fatwa Answer

Question ID: 98 Category: Worship
Spreading Fabricated Ahadith

Respected mufti sahib, we have been receiving a lot of these messages from a lot of different people during this blessed month of Ramadhan. The message is stating that by using the method below, all of one’s Qadha salah will be fulfilled. The thing that saddens me the most is, a lot of people who are sending these messages are learned wise fellows. Please advise what should be done in this situation:

Method to offer Qadha Salah

Rasulullah Sallallaho Alyhi Wasallam said, a person whose salah (many) have been qadha and they do not know the exact number either, then they should read 4 rakat nafl salah with one salam, on the last Friday of Ramadhan with Surah al-Fatiha, followed by 7 times Ayatal-Kursi and 15 times Surah al-Kausar in each rakah. If someone’s salah for even 700 years has been missed, it will be made up for (i.e. kaffarah) by performing this one salah.

Send this message to others so that more and more people can get this precious gift before the last Jummuah of Ramadhan.

Requesting for dua

Is it permissible to send such messages on whatsapp?

Walaikumassalam Warahmatullah

الجواب وباللہ التوفیق

Muhaddithin have considered such ahadith as maudhu‘ i.e. fabricated. Mulla Ali Qari Rehmatullah Aleh writes in his famous book “Maudhu‘at”:

حدیث "من قضی صلاۃ من الفرائض فی آخر جمعۃ من شھر رمضان کان ذلک جابراً لکل صلاۃ فائتۃ فی عمرہ الی سبعین سنۃ" باطل قطعا، لانہ مناقض للاجماع علی ان شیئا من العبادات لا یقوم مقام فائتۃ سنوات۔

Which means that the narration “a person who performs one qadha salah on the last Jummuah of the month of Ramadhan, then that one salah becomes the reparation or atonement for all his missed salats until he was 70”, is absolute falsehood. Because this hadith is against the ijmah (consensus) and the ijmah is upon the fact that no one act of worship can equate with the missed salats for years and years. (al-Maudhu‘at al-Kubrah, Pg.356, Published Maktabah Asriya, Sheikhupura).

Allama Shawkani Rehmatullah Aleh writes:

"من صلی فی آخر جمعۃ من رمضان الخمس الصلوات المفروضۃ فی الیوم و اللیلۃ قضت عنہ ما اخل بہ من صلاۃ سنتہ" ھذا موضوع لا اشکال فیہ۔

This hadith that “the person who performs the 5 fardh salats (of day and night) on the last Jummuah of the month of Ramadhan, then that will become the qadha for all his salats of that year, in which there was an issue” is without a doubt a fabrication.

(al-Fawaid al-Majmooah lil-Shawkani, Pg.54, Vol.1, #115)

As a contarary to the above described narrations, there are authentic ahadeeth of Rasulullah Sallallaho Alyhi Wasallam in which qadha salah has been ordered for the missed salats. Review the following ahadith regarding this topic:

The following narration of Rasulullah Sallallaho Alyhi Wasallam has been reported by Hazrat Anas Bin Malik RaziAllah Ta‘ala Anhu:

من نسی صلاۃ فلیصل اذا ذکرھا، لا کفارۃ لھا الا ذلک

(Saheeh Bukhari, Kitabul-Mawaqeet, Hadith#597)

Translation: It is mandatory upon the one who forgets to offer their salah to perform it as soon as they remember, other than that, there is no other reparation (for the missed salah).

It has been reported in another narration:

اذا رقد أحدکم عن الصلاۃ أو غفل عنھا فلیصلھا اذا ذکرھا فان اللہ عز و جل یقول: أقم الصلاۃ لذکری۔

(Saheeh Muslim, Akhir Kitabul-Masajid, 1569)

Translation: When someone sleeps while it is the time for salah or misses it due to negligence, then he should makeup for the missed salah as soon as he remembers, because Allah Subhanahu Wa Ta‘ala has commanded:

اقم الصلاۃ لذکری

That is, establish salah for My remembrance.

It has been narrated in Sunan Nasai:

سئل رسول اللہ ﷺ عن الرجل یرقد عن الصلاۃ او یغفل عنھا، قال: کفارتھا ان یصلیھا اذا ذکرھا۔  

(Sunan an-Nasai, Kitabul-Mawaqeet, Bab Feemin Nam Anis-Salah, Pg.171)

Translation: Rasulullah Sallallaho Alyhi Wasallam was asked about a person who sleeps while it is the time for salah or misses it due to negligence; Rasulullah Sallallaho Alyhi Wasallam said that the atonement for such a person is to perform it as soon as he remembers.

(Excerpt from Fatawah Uthmani)

Therefore, relaying the ahadith mentioned in your question through whatsapp and other means is considered spreading misguidance and becoming a source of leading others astray. The sin for getting engaged in such actions and becoming a source of this dissemination is multiplied by the times it is shared, forwarded and the number of people getting affected by it. The more such messages are published and spread, the grave the sin and its associated curse becomes and everyone involved in its communication will become part of that curse. Therefore, without confirmation one should not share and forward such messages otherwise in the light of the hadith of Rasulullah Sallallaho Alyhi Wasallam, it will be considered as associating a lie with Rasulullah Sallallaho Alyhi Wasallam and everyone involved in spreading a lie and such fabricated ahadith will get the sin and will be considered audacious (daring). It is a must to safeguard oneself from such actions. May Allah Subhanahu Wa Ta‘ala protect all of us from this fitnah and give all the hidayat.

واللہ اعلم بالصواب

Question ID: 98 Category: Worship
موضوع احادیث کو پھیلانا

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

مفتی صاحب رمضان کے دوران یہ میسج وٹس ایپ پر بار بار مختلف لوگوں کے ذریعہ موصول ہو رہا ہے کہ "نیچے گئے طریقہ کار سے نماز ادا کرلینے سے تمام قضاء نمازیں ادا ہوجائیں گی"۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس کو ایسے لوگ بھی بھیج رہے ہیں جو علم اور شعور رکھتے ہیں، براہِ کر اس مسئلہ میں کیا کیا جانا چاہئے وہ فرما دیجئے:

قضاء نماز ادا کرنے کا طریقہ

ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ جس شخص کی نمازیں قضاء ہوئی ہوں اور تعداد معلوم نہ ہو تو وہ رمضان کے آخری جمعہ کے دن، چار رکعت نفل ایک سلام کے ساتھ پڑھے، ہر رکعت میں سورئہ فاتحہ کے بعد سات مرتبہ آیۃ الکرسی پڑھےاور سورئہ کوثر پندرہ بار پڑھے۔ اگر سات سو سال کی نمازیں بھی قضاء ہوئی ہوں گی تو اس کے کفارے کے لئے یہ ایک نماز کافی ہو گی۔

یہ پیغام ابھی دوسروں کو بھیجنا شروع کر دو تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ آخری جمعہ سے پہلے اس قیمتی تحفے کو حاصل کرتے ہوئے اپنی نمازیں پوری کر لیں۔

طالب ِدعا

ایسے میسج وٹس ایپ یا کسی بھی ذریعہ سے بھیجنا جائز ہے؟

الجواب وباللہ التوفیق

اس طرح کی احادیث کو محدثین نےموضوع قرار دیا ہے، ملا علی قاریؒ "موضوعات" پر اپنی مشہور کتاب میں لکھتے ہیں:

حدیث "من قضی صلاۃ من الفرائض فی آخر جمعۃ من شھر رمضان کان ذلک جابراً لکل صلاۃ فائتۃ فی عمرہ الی سبعین سنۃ" باطل قطعا، لانہ مناقض للاجماع علی ان شیئا من العبادات لا یقوم مقام فائتۃ سنوات۔

یہ روایت کہ "جو شخص رمضان کے آخری جمعے میں ایک فرض نماز قضاء پڑھ لے تو ستر سال تک اس کی عمر میں جتنی نمازیں چھوٹی ہوں، ان سب کی تلافی ہو جاتی ہے" یہ روایت قطعی طور پر باطل ہے، اس لئے کہ یہ حدیث اجماع کے خلاف ہے، اجماع اس پر ہے کہ کوئی بھی عبادت سالہا سال کی چھوٹی ہوئی نمازوں کے قائم مقام نہیں ہو سکتی۔

  (الموضوعات الکبری ص۳۵۶ طبع مکتبہ اثریہ شیخوپورہ)

علامہ شوکانیؒ لکھتے ہیں:حدیث "من صلی فی آخر جمعۃ من رمضان الخمس الصلوات المفروضۃ فی الیوم و اللیلۃ قضت عنہ ما اخل بہ من صلاۃ سنتہ" ھذا موضوع لا اشکال فیہ۔

یہ حدیث کہ "جو شخص رمضان کے آخری جمعے میں دن رات کی پانچ فرض نمازیں پڑھ لے، ان سے اس کے سال بھی کی جتنی نمازوں میں خلل رہا ہو، ان سب کی قضا ہو جاتی ہے" کسی شک کے بغیر موضوع ہے۔ (الفوائد المجموعۃ للشوکانی ص۵۴ ج۱ نمبر۱۱۵)

اس کے بر خلاف بالکل صحیح احادیث میں اللہ کے نبی نے نمازوں کے چھوٹنے پر قضا کا حکم دیا ہے،اس سے متعلق درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیں:

حضرت انس بن مالکؓ سے آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد مروی ہے:

من نسی صلاۃ فلیصل اذا ذکرھا، لا کفارۃ لھا الا ذلک۔(صحیح بخاری، کتاب المواقیت، حدیث ۵۹۷ ۔

جو شخص کوئی نماز بھول جائے تو اس پر لازم ہے کہ جب بھی اسے یاد آئے وہ نماز پڑھے، اس کے سوا اس کا کوئی کفارہ نہیں۔

دوسری حدیث میں مروی ہے:

اذا رقد أحدکم عن الصلاۃ أو غفل عنھا فلیصلھا اذا ذکرھا فان اللہ عز و جل یقول: أقم الصلاۃ لذکری۔(صحیح مسلم، آخر کتاب المساجد، ۱۵۶۹ )

جب تم میں سے کوئی شخص نماز سے سو جائے یا غفلت کی وجہ سے چھوڑ سے تو جب بھی اسے یاد آئے وہ نماز پڑھے، کیونکہ اللہ تعالی نے فرمایا ہے کہ اقم الصلاۃ لذکری (میری یاد آنے پر نماز قائم کرو)۔    

سنن نسائیؒ میں مروی ہے:

سئل رسول اللہ ﷺ عن الرجل یرقد عن الصلاۃ او یغفل عنھا، قال: کفارتھا ان یصلیھا اذا ذکرھا۔

(سنن النسائی، کتاب المواقیت، باب فیمن نام عن صلاۃ ص۱۷۱ ۔

"رسول اللہ ﷺ سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو نماز کے وقت سو جائے یا غفلت کی وجہ سے چھوڑ دے، آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس کا کفارہ یہ ہے کہ جب بھی اسے نماز یاد آئے وہ نماز پڑھے"

(ماخوذ از فتاویٰ عثمانی)

لہذا سوال میں ذکر کردہ احادیث کا واٹس ایپ وغیرہ کے ذریعہ پھیلانا ضلالت وگمراہی کو پھیلانا ہے،جس کا گناہ متعدی ہے، جتنے لوگ اس میں واسطہ بن رہے ہیں اور جتنے لوگ اس سے متاثر ہورہے ہیں اور جتنی زیادہ اس کی تشہیر اور اشاعت ہورہی ہےاس کے وبال اور گناہ میں بھی اتنا ہی اضافہ ہورہاہے اور سارےبھیجنے والے اس میں شریک ہوں گے،اس لئے بغیر تحقیق کے کسی بات کو آگے شیر نہ کریں،ورنہ حدیث نبوی کی روشنی میں جھوٹ کے مترادف اور اس طرح کی موضوع روایات کی تشہیر میں نبی پر جھوٹ کی نسبت میں گنہگار اور جرأت مند شمار ہوں گے،اس سے بچنا ضروری ہے،اللہ پاک اس فتنہ سے ہم سب کی حفاظت فرمائے اور سب کو ہدایت عطافرمائے۔

فقط واللہ اعلم بالصواب